وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے 6 لوگ جاں بحق ہوئے ہیں، 58 افراد ابھی تک لا پتہ ہیں۔
ایم اے جناح روڈ پر آتشزدگی کی شکار عمارت گل پلازا کے دورہ کے موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ بیسمنٹ گراؤنڈ اور 3 منزلہ عمارت تھی، آگ تیزی سے پھیلی ہے، تاجروں کا جو نقصان ہوا ہے، اس کا ازالہ کریں گے، جس کی جان گئی ہے اس کا کوئی ازالہ ہو ہی نہیں سکتا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جن کے پیارے دنیا سے چلے گئے ہیں، اُن کے غم میں برابر کے شریک ہیں، پوری کوشش ہے جو لاپتا ہیں وہ جلد مل جائیں، افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ اس سانحے پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 20 افراد اسپتال پہنچے تھے، جنہیں طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا، میں کراچی سے باہر تھا۔
کمشنر، میئر، ڈپٹی میئر سے رابطے میں تھا، بہت افسوسناک واقعہ ہے، وزیر اعظم نے مجھ سے ابھی تک رابطہ نہیں کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوشش ہوگی شفاف طریقے سے لوگوں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے، متاثرین کو ریلیف فراہم کیا جائے گا، بغیر کسی اسٹڈی کے کئی منزلہ عمارت کی اجازت دی گئی، جب کچھ کیا جائے تو بلڈرز کہتے ہیں نا انصافی ہو رہی ہے، کسی سازش کا پتا ہوتا تو اس پر ضرور بات کرتا۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا میں آگ لگنےکی تحقیقات کا حکم دے دیا، کمرشل عمارتوں کے فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا بھی حکم دیا ہے۔