• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ گل پلازہ کو اب 10دن سے زیادہ ہو گئے ہیں 86لاپتہ افراد میں سے کسی کے زندہ بچ جانے کی امیدیں تو پہلے ہی دم توڑ چکی تھیں مگر پھر بھی اب تک 73لاشوں کی باقیات ملی ہیں جنکی شناخت کا عمل تاحال جاری ہے۔ صرف یہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ اگر کوئی حکومت، انتظامیہ تین منزلہ عمارت کو تقریباً بھسم ہونے سے نہ بچا سکی وہ شہر میں ہزاروں کی تعداد میں بلند و بالا منزلہ عمارتوں کو کیسے بچا سکتی ہے جنکی تعمیرکی اجازت اسکے ماتحت اداروں کے ’این او سی‘ سے ہوئی ۔ جس شہرمیں اسپتال توڑ کر یا نالوں پر عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہوں وہاں کوئی حادثہ یا سانحہ کسی وقت بھی رونما ہو سکتا ہے۔ حیرت ہے تو اس بات پر کہ ایک بڑے سانحہ کے بعد وہی روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ یہ کمال نہیں ہے تو کیا ہے کہ آج آپ ان عمارتوں کے سروے کی بات کر رہے ہیں جو اب گرائی نہیں جا سکتیں چاہے کتنی ہی غیر قانونی ہوں بس یہی المیہ ہے اس شہر کا ۔طالبہ بشریٰ زیدی حادثے میں ہلاک ہوئی تو برج بنانے کا خیال آیا،گل پلازہ میں لوگ جل کر مر گئے تو کچھ فکر لاحق ہوئی ، کہیں کوئی اور گل پلازہ نہ ہو جائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس سانحہ کی مکمل ذمہ داری موجودہ حکومت پراس لیے بھی ہے کہ اسی کے ماتحت اداروں کی کلیئرنس سے یہ پلازہ چل رہا تھا جواب جل کر راکھ ہو گیا۔ حیرت ہے تو اس بات پر کہ تحقیق بھی وہی کر رہے ہیں اور واقعہ کی ایف آئی آر بھی سرکار کی مدعیت میں کاٹی گئی ہے۔ بس یہی کہہ سکتا ہوں کہ

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ انتہائی قابل اور پڑھے لکھے شخص ہیں مگر انتہائی احترام سے سندھ اسمبلی میں گل پلازہ کے حوالے سے انکی تقریر اطمینان بخش نہیں تھی۔ اہم بات یہ نہیں کہ گل پلازہ کس کے دور میں بنا یا کس کے دور میں مبینہ طورپرغیر قانونی ریگولیٹ ہوا۔ سوال یہ ہے کہ اس بات کا اظہار عمارت کے جل جانے کے بعد، 73انسانوں کی موت کے بعد کیوں کیا جا رہا ہے۔ 17سال سے آپ کی حکومت ہے آپ کے ’’ریگولیٹر‘‘ اتنے عرصے میں کیا کرتے رہے ہیں۔ جو سروے عمارتوں کا آپ آج کر رہے ہیں وہ عمارتیں ان ریگولیٹرز کے این او سی کے بعد ہی بنی ہوں گی۔ 17سال میں تو شاہ صاحب اس شہر کی شکل بدل جانی چاہئے تھی ۔ذرا غور کریں کتنی سڑکیں آپ کے دور میں بنیں اور پھر ٹوٹیں ، کیا کسی کو سزا ہوئی؟۔ اچھی تعلیم، صحت اور عوام کو بنیادی سہولتیں دینا حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے جس میں بادی النظر میں حکومت ناکام نظر آتی ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے شہر میں جسکی آبادی دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہی ہو گی۔چلیں آئیں 18ویں ترمیم پر ہی بات کر لیتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نہ صرف صوبے کی تقسیم کو درست نہیں سمجھتا بلکہ اس عروس البلاد کو وفاق کے حوالے کرنے کے بھی خلاف ہوں کیونکہ یہ شہر جس حال میں ہے اس میں وفاقی پالیسیوں کا بڑا عمل دخل ہے مگر حضور 18ویں کے ثمرات اگر صوبے کے عوام تک ہی نہ پہنچ سکیں تو یہ سوال تو بنتا ہے کہ اس پر عمل درآمد نہ ہونے کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے۔ سانحہ گل پلازہ کے دوران شائد یہ سوال اس وقت تک نہیں بنتا تھا جب تک لاپتہ ہونے والوں کا پتا نہ چل جاتا مگر آخر کیا وجہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت بلدیاتی ادارے مضبوط اور بااختیار نہیں کئے گئے۔ اگر ایسا ہوتا تو اسکی تمام ذمہ داری مقامی حکومت کی ہوتی صوبائی حکومت کی نہیں۔ کیا 18ویں ترمیم اور میثاق جمہوریت کے تحت سندھ میں آج تک قائد حزب اختلاف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین مقرر ہوا۔ اگر نہیں تو کیوں نہیں۔ 18ویں ترمیم ایک تاریخی دستاویز ہے مگر صرف نعرے بازی کیلئے نہیں اس پر عمل درآمد نہ کرنے سے صوبائی حکومتیں اس کیس کو کمزور کر رہی ہیں۔

محترم شاہ صاحب، یہ باتیں آپ سے اس لیے بھی کر رہا ہوں کہ یہ موجودہ حکومت کی تیسری مدت ہے سوال ویسے بھی حکمرانوں سے ہی ہوتے ہیں۔ اب اگر سڑک پچھلے چار سال سے بن کر ہی نہیں دے رہی ہو جس سے کم از کم 60 لاکھ سے زیادہ لوگ بشمول آپ خود متاثر ہوتے ہیں کیونکہ آپ اکثر این ای ڈ ی یونیورسٹی جاتے رہتے ہیں۔ آپ کو یاد ہے میں نے آپ سے بھی اور آپ کے اہم وزیروں شرجیل میمن، ناصر شاہ اور سعید غنی سے بھی کئی بار گزارش کی کہ بی آر ٹی مکمل نہیں ہو پا رہی تو سائڈ کی سڑکیں ہی بہتر کر دیں، تجاوزات ختم کر دیں لوگوں کی پریشانیاں کم ہو جائیں گی مگر باوجوہ اس کے،تجویز پر عمل نہیں ہوا۔ اس شہر کی ہزاروں، لاکھوں گلیوں کا کم و بیش یہی حال ہے۔ اب آپ اگر چار سو سے زائد سڑکیں بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس پر اربوں روپے کا خرچہ آئے گا تو کیا کوئی گارنٹی ہے کہ یہ سڑکیں سال، دو سال میں دوبارہ نہیں ٹوٹیں گی۔ سیف سٹی پروجیکٹ لے لیں اور معلوم کریں کہ آخر 2010ءکے بعد سے اتنے سال کیسے لگ گئے جبکہ اس کی لاگت میں بھی بے انتہا اضافہ ہو گیا۔ یہ اسی وقت شروع ہوا تھا جب لاہور اور اسلام آباد کے سیف سٹی پروجیکٹ شروع ہوئے تھے۔ ایسا ہی کچھ حال پانی کے پروجیکٹ K-IV کا ہے۔ اگر ان پروجیکٹس کی لاگت میں کئی ملین کا اضافہ ہوا تو ذمہ دار کون ہے اور سب چھوڑیں خود لیاری کا حال دیکھ لیں 1970 سے پی پی پی کو ووٹ دیتا رہا ہے مگر جواب میں آج بھی اس کی حالت، اس کی گلیاں حکومتی اور انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

شاہ صاحب، اس شہر کی آبادی تین سے ساڑھے تین کروڑ ہے اس حقیقت کو سامنے رکھیں تو یہاں کے بلدیاتی ادارے اور دیگر اداروں جیسا کہ فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس، ریپڈ فورس اور اسپتالوں، ایمبولنس اور سب سے بڑھ کر صاف شفاف سڑکیں ہونی چاہئیں جوشائد دو پرسنٹ بھی نہیں ہیں۔ سانحہ گل پلازہ ہماری آنکھیں کھولنےکیلئے کافی ہے۔ کراچی کو صرف بہتر ’ روڈ میپ‘ کی ضرورت ہے۔ اس شہر میں آج بھی اتنی جان ہے کہ یہ روز جیتا ہے روز مرتا ہے۔ یہاں کام کرنے والے مزدور، مڈل کلاس کو مرنے کی نہیں جینے کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ اس بات کو تسلیم کر کے کچھ ٹھوس اقدامات کریں کہ ’’سانحہ گل پلازہ‘‘ حکومت، اس کے ماتحت ریگولیٹرز کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اگر کوئی 17سال سے حکومت میں ہو تو وہ ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈال سکتا۔

تازہ ترین