بے حسی……
دو گداگر بیٹھے اپنے غم بانٹ رہے تھے۔
پہلے نے شکوہ کیا:’’ اس شہر کا تو ضمیر ہی مر چکا ہے،
کتنا ہی گڑگڑاؤ، اپنا درد سناؤ،
مگر کوئی دس روپے سے ایک دھیلا زیادہ نہیں دیتا۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے جعلی زخم سے پٹی ہٹا کر انگڑائی لی۔
دوسر نے تائید میں سر ہلاتے ہوئے کہا:
’’ہاں بھائی، سب بے حس ہوگئے ہیں،
میں پورا دن لوگوں کو یقین دلانے میں نکال دیتا ہوں
کہ میں گونگا اور بہرا ہوں، مگر حرام ہے،
جو کبھی تین ہزار یومیہ سے زیادہ کمایا ہو۔‘‘