غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک اسرائیلی قیدی کی باقیات کی تلاش کے بہانے کم از کم 250 قبروں کی کھدائی اور بے حرمتی کی گئی، جس سے سیکڑوں فلسطینی خاندان شدید صدمے اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو گئے ہیں۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ سٹی کے مشرقی علاقے تفاح میں واقع البطش قبرستان میں بھاری مشینری اور بلڈوزرز کے ذریعے قبریں کھودی گئی ہیں، اس قبرستان میں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں کی قبریں موجود ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقامی شہریوں کے مطابق قبریں کھودے جانے کے سبب ہڈیاں بکھر گئیں اور کتبے تباہ ہو گئے۔
’الجزیرہ‘ سے گفتگو کے دوران فاطمہ عبداللّٰہ نامی خاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر محمد الشعاروی دسمبر 2024ء میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں شہید ہو گئے تھے۔
فاطمہ عبداللّٰہ کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے مردوں کے سوگ کا حق بھی نہیں دیا گیا اور اب مرنے کے بعد بھی ان کی عزت محفوظ نہیں رہی۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے قیدی ران گویلی کی لاش کی تلاش میں چند ہی دنوں میں درجنوں نئی اور پرانی قبریں کھود ڈالی ہیں جس سے قبرستان کی شکل مکمل طور پر بدل گئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کے 60 میں سے کم از کم 21 قبرستانوں کو تباہ یا شدید نقصان پہنچا چکی ہے جس کے باعث ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی باقیات کے بارے میں بے خبر ہیں۔
متاثرہ قبرستانوں میں بیت حانون، جبالیہ، شیخ رضوان، علی ابن مروان، خان یونس اور غزہ وار سی میٹری شامل ہیں، جبکہ تاریخی جنگی قبرستانوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
ایک اور متاثرہ شہری شکیلہ کا کہنا ہے کہ ان کی بہن اور 4 ماہ کی بھانجی کی قبریں بھی البطش قبرستان میں تھیں مگر اب انہیں معلوم نہیں کہ ان کی باقیات کہاں ہیں۔
شکیلہ کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے انہیں دوبارہ قتل کر دیا گیا ہو۔
اسی طرح رولا ابو سیدو نے بتایا ہے کہ ان کے والد کی قبر الشفا اسپتال کے قریب ایک عارضی قبرستان میں تھی جسے اسرائیلی فوج نے بلڈوز کر دیا۔
انہوں نے بتایا ہے کہ آج میرے والد کی کوئی قبر نہیں، ہمیں نہیں معلوم ان کی لاش کہاں ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے قبروں کی بے حرمتی کو بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور فوری عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
سنگین صورتِ حال کے پیشِ نظر متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ جنگ نے ناصرف ان کے پیاروں کی جان لی بلکہ مرنے کے بعد عزت کے ساتھ دفنانے اور سوگ منانے کا حق بھی چھین لیا ہے۔