ایک تحقیق کے مطابق ڈراؤنے خواب دیکھ کر جاگنے سے دل کی دھڑکن تیز ہوسکتی ہے، لیکن اس طرح رات کو جاگنے کے اثرات کافی دور رس ہوسکتے ہیں۔
نئی تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو ہر ہفتے ڈراؤنے خواب نظر آتے ہیں، ان میں 75 سال کی عمر سے پہلے موت کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ پایا گیا جو شاذ و نادر ہی ایسے خواب دیکھتے ہیں۔
یہ تشویشناک نتیجہ جسکا ابھی تک ہم عصر ماہرین نے جائزہ نہیں لیا ہے۔ اس تحقیقی ٹیم نے امریکا میں ہونے والی چار بڑی طویل المدتی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کو یکجا کیا۔ ان اسٹڈیز میں 26 سے 74 سال کی عمر کے درمیان کےچار ہزار سے زائد افراد کی کیفیات کا مکمل طور پر جائزہ لیا گیا تھا۔
اس تحقیق کے شروع میں رضا کاروں نے بتایا کہ کتنی بار ڈراؤنے خواب نے ان کی نیند میں خلل ڈالا۔ اس کے بعد اگلے 18 برسوں تک محققین نے یہ ریکارڈ رکھا کہ کتنے شرکاء وقت سے پہلے انتقال کر گئے، رپورٹ کے مطابق ایسے افراد کی مجموعی تعداد 227 تھی۔
یہاں تک کہ انکی عمر، جنس، ذہنی صحت، تمباکو نوشی اور جسمانی وزن جیسے عام خطرے کے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ ہر ہفتے ڈراؤنے خواب دیکھتے تھے، ان میں وقت سے پہلے موت کا خطرہ تقریباً تین گنا زیادہ تھا، جو کہ بہت زیادہ تمباکو نوشی کے خطرے کے برابر ہے۔
ٹیم نے ایپی جینیٹک کلاکس کا بھی جائزہ لیا، جو ڈی این اے پر موجود کیمیائی مارکس (نشانات) ہوتے ہیں جو حیاتیاتی عمر ناپنے والے میٹر کی طرح کام کرتے ہیں۔
تینوں کلاکس سے جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جن لوگوں کو بار بار ڈراؤنے خواب آتے تھے، وہ حیاتیاتی طور پر اپنی اصل عمر کے مقابلے میں زیادہ بوڑھے پائے گئے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔