معیشت کے آئینے میں دراڑیں پڑی ہیں مگر کچھ لوگوں کو اس میں کئی مسکراتے ہوئے چہرے دکھائی دے رہے ہیں۔ بازار کی گلیاں اندھیری ہیں مگر سرکاری بیانات میں قمقمے جل رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح کاغذ پر نیچے آئی ہے مگر اخراجات دل پر بوجھ بن کر اوپر چڑھتے جاتے ہیں۔ اشاریے سکون کا پیغام دیتے ہیں مگر چولہوں میں بے چینی کی آگ جل رہی ہے۔ یہ وہ تضاد ہے جس نے معیشت کو محض ایک عددی مشق بنا دیا ہے، جہاں زندگی کی حقیقتیں گرافوں کے نیچے دب کر رہ جاتی ہیں۔
صنعت کے دروازوں پر تالے لگ رہے ہیں مگر پالیسی سازوں کے کمروں میں فائلیں کھل رہی ہیں۔ فیکٹریوں کی مشینیں خاموش ہیں مگر بیانات کی مشینری پوری رفتار سے چل رہی ہے۔ ٹیکسٹائل کے وہ یونٹ جو کبھی روشنی بانٹتے تھے اب اندھیرے میں ڈوب چکے ہیں، اور وہ کارخانے جو ہزاروں ہاتھوں کو روزی دیتے تھے اب سینکڑوں امیدوں کو بے روزگاری دے رہے ہیں۔ صنعتی زوال صرف پیداوار کی کمی نہیں، یہ ہنر کے زیاں اور نسلوں کی محنت کے ضائع ہونے کی کہانی ہے۔
وفاقی چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم تنویر کا بیان ایک خبر نہیں بلکہ ایک نوحہ ہے۔ 140 یا 150 یونٹس کا بند ہونا محض عمارتوں کا بند ہونا نہیں بلکہ گھروں کے دروازوں کا بند ہونا ہے۔ ایک طرف برآمدات کے گراف دکھائے جاتے ہیں، دوسری طرف مزدور کی پلیٹ سے روٹی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ معیشت کے استحکام کی بات کے ساتھ انسانی وقار کا عدم استحکام ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔
چھوٹی صنعتیں، جو کبھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھیں، آج کباڑ خانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ جہاں کبھی ہنر بستا تھا وہاں اب زنگ بسیرا کر چکا ہے۔ بجلی کے بل روشنی چھین لیتے ہیں مگر اندھیرا سستا نہیں ہوتا، گیس کی قیمتیں سانس روک لیتی ہیں مگر فیکٹریوں کے بوائلر پھر بھی سرد پڑے رہتے ہیں۔ توانائی کے نرخ پیداواری لاگت کو اس حد تک بڑھا چکے ہیں کہ کاروبار کرنا خود ایک خسارے کی ڈیل بن گیا ہے۔شرحِ سود کو مہنگائی کا دشمن کہا جاتا ہے مگر صنعت کیلئے وہی دشمن زندگی کا دشمن بن جاتا ہے۔ بینکوں کے دروازے تحفظ دیتے ہیں مگر کاروبار کیلئے وہی دروازے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ایک طرف افراطِ زر کو قابو کرنے کا اعلان ہوتا ہے، دوسری طرف سرمایہ کاری کے بازو باندھ دیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ نئی فیکٹریاں لگنے کے بجائے پرانی بھی دم توڑ رہی ہیں، اور روزگار کی منڈی مزید تنگ ہو رہی ہے۔زراعت، جو اس ملک کی معیشت کی بنیاد سمجھی جاتی تھی، اب غیر یقینی کا شکار ہے۔ کھاد، بیج اور ڈیزل کی قیمتوں نے کسان کو مقروض بنا دیا ہے۔ فصل کا ریٹ کاغذ پر طے ہوتا ہے مگر منڈی میں اس کی قدر گر جاتی ہے۔ کسان کی آمدن کم ہوتی جا رہی ہے مگر صارف کو سستی خوراک پھر بھی میسر نہیں۔ یہ وہ خلا ہے جہاں نظام کی ناکامی پوری طرح عیاں ہوتی ہے۔
رئیل اسٹیٹ کا ذکر آتا ہے تو کاغذ پر زمین کی قیمتیں اب بھی اونچی نظر آتی ہیں، مگر حقیقت میں لین دین زمین بوس ہو چکا ہے۔ اینٹیں موجود ہیں مگر تعمیر رک چکی ہے، خواب فروخت کیلئے موجود ہیں مگر خریدار غائب ہو چکے ہیں۔ ٹیکس کے نام پر شفافیت کا نعرہ لگایا جاتا ہے مگر اس نعرے کے سائے میں مارکیٹ کی سانس گھٹنے لگتی ہے۔ سرمایہ خوف کے عالم میں منجمد ہو چکا ہے۔شہروں میں بلند عمارتیں خاموش کھڑی ہیں مگر ان کے اندر کی سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں۔ دکانیں وقت سے پہلے بند ہو رہی ہیں، مارکیٹیں جو کبھی رات گئے تک روشن رہتی تھیں اب اندھیرے میں ڈوب جاتی ہیں۔ یہ محض بجلی کی بچت نہیں بلکہ خریداری کی سکت کے ختم ہونے کا اعلان ہے۔ معیشت اگر چلتی بھی ہے تو آدھی رفتار سے، اور وہ بھی محدود طبقے تک۔کہا جاتا ہے کہ معیشت دستاویزی ہو رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ غیر رسمی روزگار رسمی بے روزگاری میں بدل رہا ہے۔ رکشہ ڈرائیور، دیہاڑی دار، چھوٹے دکاندار سب ایک غیر اعلانیہ مندی کی لپیٹ میں ہیں۔ آمدن سکڑ رہی ہے مگر ٹیکس اور بلوں کا دباؤ پھیلتا جا رہا ہے۔ یہ وہ خاموش بحران ہے جس کا کوئی گراف نہیں بنتا۔
غربت کے اعداد و شمار رپورٹوں میں درج ہوتے ہیں مگر بھوک کے اعداد گھروں کی دیواروں پر لکھے جاتے ہیں۔ عالمی ادارے فیصد بتاتے ہیں مگر ماں اپنے بچے کی آنکھوں میں سوال دیکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معاشی نظم و ضبط بحال ہو رہا ہے، مگر عام آدمی کیلئے زندگی کی بے ترتیبی مزید گہری ہو چکی ہے۔ علاج مہنگا، تعلیم مشکل اور ٹرانسپورٹ ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔خوراک مہنگی ہو کر کم ہو گئی ہے اور علاج سستا دکھائی دے کر مہنگا ہو گیا ہے۔ تعلیم کا نعرہ عام ہے مگر اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد خاموشی سے بڑھ رہی ہے۔ سبسڈی کے خاتمے کو اصلاح کہا جاتا ہے مگر یہ اصلاح غریب کیلئے سزا بن جاتی ہے۔ ریاست کا بوجھ عوام کے کندھوں پر منتقل ہو چکا ہے۔
یہ ملک اعداد و شمار کے لحاظ سے شاید سنبھل رہا ہو، مگر انسانوں کے لحاظ سے ابھی بھی بکھرا ہوا ہے۔ معیشت کی زبان میں بہتری ہے مگر زندگی کی زبان میں ابتری۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مہنگائی کی شرح کہاں تک پہنچی، اصل سوال یہ ہے کہ انسان کی برداشت کہاں تک پہنچی۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پالیسیاں کیا کہہ رہی ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ گلیاں کیا سن رہی ہیں۔ جب تک صنعت کو سانس، مزدور کو وقار، کسان کو تحفظ اور کاروبار کو یقین واپس نہیں ملتا، تب تک ہر استحکام محض ایک سراب اور ہر کمی محض ایک فریب ہی رہے گی۔