بھارتی سنیما کی آج کی سب سے طاقتور اور بااثر اداکاراؤں میں شمار کیے جانے کے باوجود تبو کی ذاتی زندگی کا سفر ابتدا ہی سے استقامت اور خود مختاری سے عبارت رہا ہے۔
اداکارہ اس سے قبل بتا چکی ہیں کہ ان کا اپنے والد سے کبھی کوئی رشتہ نہیں رہا، کیونکہ ان کے والدین کی علیحدگی اس وقت ہو گئی تھی جب وہ صرف تین سال کی تھیں۔ مضبوط خواتین کے ماحول میں پرورش پانے والی تبو نے آہستہ آہستہ اپنی آواز تلاش کی، چاہے وہ بطور انسان ہو یا بطور فنکارہ۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سیمی گریوال کو دیے گئے ایک پرانے انٹرویو میں تبو نے حیدرآباد میں اپنی پرورش کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ والدین کی طلاق کے بعد وہ نانا نانی کے ساتھ رہتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ میرا بچپن بہت اچھا گزرا، ہم ساری عمر حیدرآباد میں رہے۔ والدین کی علیحدگی کے بعد میں اپنے دادا دادی نہیں بلکہ نانا نانی کے ساتھ رہی۔ میری امی ٹیچر تھیں اور میں زیادہ وقت نانی کے ساتھ گزارتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی نانی کا ان پر گہرا اثر رہا۔ میری نانی عبادت گزار تھیں اور کتابیں پڑھا کرتی تھیں، میں اسی ماحول میں پلی بڑھی۔
تبو نے بتایا کہ میں بہت شرمیلی تھی، میری کوئی آواز نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہیروئن اور اداکارہ بننے کے بعد بھی مجھے ایسا ہی محسوس ہوتا تھا کہ میری کوئی آواز نہیں ہے۔
تبو ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جس کی جڑیں فن اور ادب سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کی بڑی بہن فرح نے 1980 کی دہائی میں فلموں میں کام کیا، اور وہ شبانہ اعظمی سے بھی رشتہ رکھتی ہیں۔ اس کے باوجود، خود تبو کے مطابق، ان کے ابتدائی سال شہرت کی چکاچوند سے بہت دور گزرے۔
اسی گفتگو میں تبو نے بتایا کہ انہوں نے کبھی اپنے والد کا سرنیم ہاشمی استعمال کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے کبھی حقیقتاً اسے استعمال نہیں کیا۔ مجھے کبھی یہ اہم نہیں لگا کہ میں اپنے والد کا سرنیم استعمال کروں۔ میرا نام ہمیشہ تبسم فاطمہ رہا، جو میرا مڈل نیم تھا۔ اسکول میں فاطمہ ہی میرا سرنیم تھا۔
والد کے ساتھ فاصلے پر کھل کر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے ان کی کوئی یاد نہیں ہے۔ میری بہن کبھی کبھار ان سے ملی ہے، لیکن مجھے کبھی ان سے ملنے کی خواہش نہیں ہوئی۔ مجھے ان کے بارے میں جاننے کا تجسس نہیں ہے۔ میں جیسی ہوں اور جس طرح پلی بڑھی ہوں، اسی میں خوش ہوں۔ میں اپنی زندگی میں بہت مطمئن ہوں۔
پیشہ ورانہ محاذ پر تبو کے پاس اس وقت کئی بڑے منصوبے ہیں۔ وہ جلد ہی پوری جگن ناتھ کی آنے والی پین انڈیا فلم میں وجے سیتھوپتی کے ساتھ نظر آئیں گی، اور پریا درشن کی ہارر کامیڈی ’’بھوت بنگلہ‘‘ میں اکشے کمار کے مقابل جلوہ گر ہوں گی۔ دونوں فلمیں اسی سال ریلیز ہونے والی ہیں۔