عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکار عالمگیر کراچی پریس کلب میں ای ایم آئی کی جانب سے منعقدہ اپنے اعزاز میں ہونے والی تقریب میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
عالمگیر کا کہنا تھا کہ میں کراچی میں ڈاکٹر بننے آیا تھا، میں نے کبھی منصوبہ نہیں بنایا تھا کہ سپر اسٹار بنوں گا۔ میرے رب کا فیصلہ تھا کہ اس نے مجھے سپر اسٹار بنادیا۔
تقریب کے دوران دنیا بھر میں اپنی سریلی آواز کا جادو جگانے والے نامور پاپ گلوکار اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
اس موقع پر نامور اداکار بہروز سبزواری کا کہنا تھا کہ عالمگیر سے میری 50 سال پرانی دوستی ہے۔ عالمگیر ایک بہادر انسان ہیں، انہوں نے گردے کی بیماری کو شکست دی، 8 سال تک بغیر گردوں کے زندہ رہے، موسیقی کو نہیں چھوڑا اور اس دوران شوز میں آواز کا جادو بھی جگاتے رہے۔
تقریب میں بنگلادیش کے مہمان گلوکاروں حمیرا بشیر اور راجا بشیر نے آواز کا جادو جگایا۔
نامور گائیک غلام عباس، تنویر آفریدی، ایاز خان، نفیس خاں، اظہر حسین، ڈاکٹر ہما میر اور فیصل لطیف نے بھی عالمگیر کے بارے میں دلچسپ گفتگو کی۔
تقریب کی کمپئرنگ نامور آرٹسٹ شفاعت علی نے شاندار انداز میں کی۔ تنویر آفریدی نے بنگلادیش کے فنکاروں کے ساتھ مل کر ایک نیا بنگلہ گیت بھی پیش کیا۔