• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مختلف جسمانی سرگرمیاں اپنانا لمبی عمر کا راز بن سکتا ہے: تحقیق

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ورزش کے مختلف طریقوں کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ناصرف جسمانی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ یہ عمر میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق صرف ایک ہی قسم کی ورزش پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف جسمانی سرگرمیوں کو شامل کرنا مجموعی صحت کو بہتر بناتا ہے اور جان لیوا بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔

اس طویل المدتی تحقیق میں 11 ہزار سے زائد بالغ افراد کو 30 سال سے زیادہ عرصے تک مانیٹر کیا گیا، اس دوران شرکاء باقاعدگی سے اپنی جسمانی سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کرتے رہے، جس میں چہل قدمی، سائیکل چلانا، اسٹرینتھ ٹریننگ، یوگا، باغبانی اور سیڑھیاں چڑھنا شامل تھا۔

ماہرین نے دریافت کیا کہ مجموعی طور پر جسمانی سرگرمی اختیار کرنے والوں میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ کم پایا گیا، جبکہ انفرادی ورزشیں بھی نمایاں فوائد کی حامل رہیں۔

تحقیق کے مطابق چہل قدمی سے موت کے خطرے میں 17 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ سیڑھیاں چڑھنے سے یہ خطرہ تقریباً 10 فیصد کم ہوا۔

تاہم سب سے زیادہ فائدہ ان افراد کو ہوا جو مختلف اقسام کی جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے، متنوع ورزش کرنے والے افراد میں مجموعی طور پر موت کے خطرے میں 19 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ دل کے امراض، کینسر، سانس کی بیماریوں اور دیگر وجوہات سے موت کا خطرہ 13 سے 41 فیصد تک کم رہا۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ورزش کے فوائد کی ایک حد ہوتی ہے، صحت سے متعلق فوائد تقریباً 20 میٹ آورز فی ہفتہ (MET-hours) کے بعد مستحکم ہو جاتے ہیں، جو ورزش کی شدت اور دورانیے کا مجموعی پیمانہ ہے۔

مثال کے طور پر بیٹھنا 1 میٹ آور کے برابر ہے، جبکہ ہلکی دوڑ تقریباً 7 میٹ آورز شمار ہوتی ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید