• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویانا: عالمی بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس، مقررین کا امن، رواداری اور مکالمے پر زور

— تصاویر بشکریہ رپورٹر
— تصاویر بشکریہ رپورٹر

اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر ویانا میں عالمی بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد 30 جنوری 2026ء کو ہوا۔

ہفتۂ عالمی بین المذاہب ہم آہنگی کے موقع پر منعقدہ اس کانفرنس کا موضوع ’پرامن عالمی نظام کے لیے مذاہب کی اہمیت‘ تھا۔

کانفرنس کا انعقاد یونیورسل پیس فیڈریشن (یو پی ایف)، یو این سی اے وی اور دیگر شراکت دار اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مذاہب کا اصل پیغام امن، انصاف ہمدردی اور باہمی احترام ہے، جبکہ جنگ اور تشدد کی بنیادی وجوہات سیاسی مفادات ہوتے ہیں۔

مقررین نے مذہب کے سیاسی غلط استعمال اور ڈیجیٹل دور میں نفرت انگیز تقاریر پر تشویش کا اظہار کیا۔

آسٹریا میں یو پی ایف کے صدر پیٹر ہائیڈر نے کہا کہ جنگیں عموماً مذاہب نہیں بلکہ سیاست پیدا کرتی ہے، اقوامِ متحدہ کے سابق ایگزیکٹیو ڈاکٹر افسر راٹھور نے کہا کہ دنیا کو نفرت کے بجائے مفاہمت اور شمولیت کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔

اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کی پروفیسر ڈاکٹر رضوانہ عباسی نے کہا کہ مذہب اور عالمی تہذیب ہم آہنگی کے مشترکہ حل فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نفرت، غلط معلومات اور مذہبی تعصبات کو فروغ دے رہا ہے، جس کے تدارک کے لیے بین الثقافتی مکالمہ ناگزیر ہے۔

ڈاکٹر رضوانہ عباسی نے پاکستان کو ایک متنوع معاشرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق آئین کے تحت محفوظ ہیں اور تنوع ہمیشہ طاقت ثابت ہوا ہے۔

پاکستان کے نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز کے رکن البرٹ ڈیوڈ نے عالمی تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی کے بغیر عالمی امن ممکن نہیں۔

یورپی اور عرب سفارت کاروں نے بھی مذہب کے غلط استعمال کے خلاف متحدہ مؤقف اپنانے پر زور دیا۔

کانفرنس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پائیدار عالمی امن کے لیے بین المذاہب مکالمہ، مذہبی آزادی، نوجوانوں کی شمولیت اور سیاست میں مذہب کے استحصال کا خاتمہ ضروری ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید