سابق آسٹریلوی بلے باز عثمان خواجہ نے غیر قانونی بولنگ ایکشن (چَکنگ تنازع) پر پاکستان کے اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کا دفاع کر دیا۔
سوشل میڈیا پر انہوں نے ساتھی بلے باز کیمرون گرین کے چَکنگ کے الزامات پر ردِعمل دیتے ہوئے اپیل کی کہ جلد بازی میں نتائج اخذ کرنے سے گریز کریں۔
عثمان خواجہ نے یہ حمایت اس وقت کی ہے جب پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں آسٹریلوی آل راؤنڈر کیمرون گرین نے قومی بولر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کیا ہے۔
یہ واقعہ آسٹریلیا کی اننگز کے 11 ویں اوور کی آخری سے ایک گیند قبل پیش آیا، جب عثمان طارق نے آف اسٹمپ کے باہر فل لینتھ گیند کروائی۔
کیمرون گرین نے گھٹنے کے بل بیٹھ کر سوئپ شاٹ کھیلنے کی کوشش کی، تاہم گیند شاداب خان کے ہاتھوں آسان کیچ بن گئی، پویلین واپسی کے دوران 20 گیندوں پر 35 رنز بنانے والے آسٹریلوی بلے باز خفا نظر آئے اور فرسٹریشن میں ڈگ آؤٹ کی جانب تھرو کرنے کا اشارہ کیا، جس سے یہ تاثر ملا کہ وہ بولر پر چَکنگ کا الزام لگا رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد عثمان خواجہ نے انسٹاگرام پر ایک آسٹریلوی صحافی کی ویڈیو شیئر کی اور عثمان طارق کی حمایت میں لکھا کہ کرکٹ میں کسی کھلاڑی کو ’چَکر‘ کہنا بدترین الزامات میں سے ایک ہے، اس کے ساتھ جڑا ہوا داغ حقیقی ہوتا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ یہ کھلاڑی صرف اپنی بہترین کوشش کر رہا ہے اور اس کا ایکشن دو مرتبہ کلیئر ہو چکا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم حالات کو وسیع تناظر میں دیکھیں، سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں اور جلد بازی میں کسی نتیجے پر نہ پہنچیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر سوال اٹھایا گیا ہو، وہ پی ایس ایل 9 اور 10 کے دوران بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، تاہم دونوں مواقع پر ان کا ایکشن آئی سی سی کے ضوابط کے مطابق قانونی قرار دیا گیا تھا۔
اس حوالے سے ماضی میں عثمان طارق نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری کہنی کی ساخت منفرد ہے، جس کی وجہ سے بازو مکمل طور پر سیدھا کرنا مشکل ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میری کہنی میں دو ابھار ہیں جو مکمل ایکسٹینشن میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
عثمان طارق کے مطابق جب بھی اسپنرز پر چَکنگ کے الزامات لگتے ہیں تو وہ لیب ٹیسٹس کے بعد اپنا ایکشن تبدیل کرتے ہیں، مگر میں نے پاکستان میں دو سرکاری ٹیسٹس کرائے اور میرا ایکشن کلیئر ہوا، اس لیے مجھے کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں پڑی۔
واضح رہے کہ دائیں ہاتھ کے اسپنر عثمان طارق کو اپنے کیریئر میں دو مرتبہ مشکوک بولنگ ایکشن پر رپورٹ کیا گیا، تاہم دونوں مرتبہ، بشمول گزشتہ سال آئی سی سی سے منظور شدہ بایومکینکس لیب میں 24 گیندوں کے ٹیسٹ کے بعد، ان کا ایکشن قانونی قرار دیا گیا۔