• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ کی فضا میں جب آگ اترتی ہے تو آسمان کی خاموشی محض سکوت نہیں رہتی۔ وہ عالمی ضمیر کی اجتماعی معذوری کا استعارہ بن جاتی ہے۔ بم گرتے ہیں تو زمین دہلتی ہے، مگر ضابطے اپنی جگہ منجمد رہتے ہیں۔ ٹینک آگے بڑھتے ہیں اور انسان پیچھے ہٹتا جاتا ہے۔یہ وہ جنگ ہے جہاں اسلحہ بولتا ہے اور قانون اپنی زبان بھول جاتا ہے۔ یہاں فتح کے بیانیے زندہ لاشوں پر لکھے جاتے ہیں، اور امن اپنی تعریف خون سے مانگتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا امریکہ کی قیادت میں فوجی دستے بھیجنے کا سوال محض عسکری نہیں، تہذیبی اور اخلاقی بھی ہے۔اور اسی لیے خاصا گھمبیر بھی۔

اس منظرنامے میں پاکستان تلوار نہیں، ترازو تھامے کھڑا ہے۔ ایک پلڑے میں انسانیت کا وزن، دوسرے میں ریاستی مصلحت کی گنتی۔ وہ نعرہ نہیں لگاتا، قرارداد پڑھتا ہے وہ بندوق نہیں اٹھاتا، دلیل رکھتا ہے۔ یہاں خاموشی کمزوری نہیں، ضبط کی زبان ہے۔اور چیخ، دانش میں ڈھل کر وزن پکڑتی ہے۔ پاکستان کیلئے فلسطین کوئی وقتی عنوان نہیں، ضمیر کی مستقل شق ہے اور ضمیر شور نہیں مچاتا، مگر تاریخ میں گونجتا ضرور ہے۔

بین الاقوامی عسکری میزوں پر جب نقشے بچھتے ہیں تو اخلاق سمٹ کر حاشیے میں چلا جاتا ہے۔ امن فورس کے نام پر بندوق کو وردی پہنا دی جاتی ہے، اور استحکام کے وعدے کے ساتھ بے چینی کو مستقل کیا جاتا ہے۔ اتحاد انسان کے لیے نہیں، راستوں کے لیے بنتے ہیں۔ شراکت اقدار کی نہیں، سپلائی چین کی ہوتی ہے۔ ہم اگر اس کھیل میں شریک نہ ہوں تو ناقابلِ اعتبار ٹھہرتےہیں، اور شریک ہو جائیں تو اپنے سائے سے ڈرنے لگتےہیں۔یہی ہماری آزمائش ہے اور یہی ہماری پہچان۔

امریکہ کی نظر میں دنیا آئینہ نہیں، امکانات کی فہرست ہے۔ جہاں مفاد مسکراتا ہے، وہاں اصول خاموش ہو جاتے ہیں جہاں سودا طے پاتا ہے، وہاں دوستی اعلان بن جاتی ہے۔ اس فہرست میں بھارت ابھرتا ہوا اندراج ہے۔آبادی کی وسعت، منڈی کی کشش، اور چین کے مقابل ایک موزوں زاویہ۔ یوں واشنگٹن کی مسکراہٹ نئی دہلی کی طرف مڑتی ہے، اور دہلی کا وزن عالمی ترازو میں بڑھ جاتا ہے۔

اور پاکستان؟ وہ اس زاویے سے ہٹ کر کھڑا ہے۔ اس کے پاس جغرافیہ ہے مگر بیانیہ منتشر۔ معدنیات کی کہانیاں ہیں مگر صنعت کی زبان کمزور۔ امریکہ اسے مکمل چھوڑتا نہیں، مگر مرکز میں بھی نہیں بٹھاتا۔تعریف دیتا ہے، دعوت نہیں۔معاہدہ کرتا ہے، مجلس نہیں۔ یہاں قربت حساب سے ناپی جاتی ہے اور دوری تہذیب میں لپیٹی جاتی ہے۔ یہ امریکہ کی وہ طوطاچشمی ہے جس نے تاریخ میں بارہا آنکھیں بدلی ہیں کبھی اتحادی، کبھی بوجھ۔ کبھی ناگزیر، کبھی نظرانداز۔ دوستی یہاں موسم کی طرح ہے۔ہوا بدلے تو سمت بدل جاتی ہے۔

غزہ کے ملبے پر کھڑے بچوں کی آنکھوں میں سوال ہیں، اور سوالوں سے بڑی کوئی سفارت نہیں۔ پاکستان ان سوالوں کو اقوامِ متحدہ کی میز پر رکھتا ہے، جبکہ دنیا انہیں پاورپوائنٹ کی سلائیڈز میں سمیٹ دیتی ہے۔ یہاں اخلاق خبر بنتا ہے اور مفاد پالیسی۔ یہاں آنسو تصویر ہوتے ہیں اور فیصلے فائل۔ پاکستان کی تحریر میں احتجاج ہے مگر دستخط میں احتیاط۔ امریکہ کی تقریر میں امن ہے مگر عمل میں انتخاب۔

بھارت اور امریکہ کی دوستی شور کے ساتھ بڑھتی ہے، پاکستان اور امریکہ کی شراکت خاموشی کے ساتھ گھٹتی ہے۔ ایک طرف ٹیرف نرم پڑتے ہیں، دوسری طرف لہجے سخت نہیں مگر سرد ہو جاتے ہیں۔ ایک کو’’عظیم‘‘ کہا جاتا ہے، دوسرے کو’’ضروری‘‘ سمجھا جاتا ہے۔اور عظمت و ضرورت کے بیچ کا فاصلہ ہی اصل سیاست ہے۔

یہ تحریر الزام نہیں، آئینہ ہے۔ آئینہ دکھاتا ہے کہ اخلاق اکیلا نہیں جیتتا، مگر اکیلا ہارتا بھی نہیں۔وہ تاریخ میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ پاکستان اسی تاریخ کے کتب خانے میں اپنا نام رکھنا چاہتا ہے۔کم لفظوں میں، بھاری وزن کے ساتھ۔ غزہ کی آگ اگر کوئی سبق دیتی ہے تو یہی کہ طاقت وقتی ہے اور اصول دیرپا۔ دوستی مفاد سے بنتی ہے، مگر عزت موقف سے۔

آخرکار تضاد ہی ہمارا عہد ہے جنگ امن کی زبان بولتی ہے، امن جنگ کے اوزار مانگتا ہے۔ اتحاد انسانیت کے نام پر بنتا ہے، انسانیت اتحاد کے نیچے دب جاتی ہے۔ اور انہی تضادات میں پاکستان اپنی سطر لکھتا ہے۔نہ سب سے اونچی، نہ سب سے خاموش۔بس اتنی سچی کہ وقت کے امتحان میں باقی رہ جائے۔

ٹرمپ کی پاکستان سے متعلق بدلتی ہوئی پالیسی اس حقیقت کا اعلان تو کرتی ہے کہ دنیا میں اخلاق اکیلا نہیں جیتتا، مگر اکیلا ہارتا بھی نہیں مگر یہی جملہ ہمارے لیے ایک تلخ آئینہ بھی ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں آئین عدالتوں کی دہلیز پر سوالیہ نشان بنتا ہو، جہاں قانون طاقت کے قدموں میں اپنی سطریں چھوڑ دے، اور جہاں انصاف خبر بننے سے پہلے سودے میں ڈھل جائے۔

وہاں کسی ٹرمپ کی اخلاقیات پر تبصرہ محض خطابت رہ جاتا ہے۔ جواپنے اندر اصول کی حفاظت نہ کر سکے، وہ عالمی ضمیر کے ترازو پر انگلی اٹھائے تو انگلی خود لرزنے لگتی ہے۔ اس لیے ہمارا اصل امتحان واشنگٹن کے فیصلے نہیں، اسلام آباد کے رویّے ہیں۔کیونکہ اخلاق کا وزن باہر مانگا نہیں جاتا، اندر قائم کیا جاتا ہے اور جو قوم اپنے آئین کی حرمت نہ بچا سکے، وہ دنیا کی بے اصولی پر رہنمائی نہیں، صرف ماتم ہی کر سکتی ہے۔

تازہ ترین