وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پورے ملک نے پہیہ جام ہڑتال کی کال کو مسترد کردیا ہے۔
ایکسپو سینٹر میں مائی کراچی نمائش کی اختتامی تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ نے مختلف اسٹالز کا معائنہ کیا اور پھر تقریب سے خطاب بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک ہڑتال کا متحمل نہیں ہوسکتا، پورے ملک نے پہیہ جام کی کال کو مسترد کردیا، پاکستان بھر میں ٹرانسپورٹ سڑکوں پر نظر آئی۔
انہوں نے کہا کہ پورے ملک نے پہیہ جام پڑتال کی کال کو مسترد کیا، ہمارا ملک ہڑتال جیسی کال کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو بھی ماضی میں الیکشن پر تحفظات رہے ہیں، ہم جمہوریت پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں، احتجاج ضرور کریں لیکن ایسے کہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔
سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ اتوار کو بھی شہریوں نے اپنی دکانیں کھولیں، اسلام آباد سانحہ پر کراچی کے شہری افسردہ تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کئی دوست ممالک نے بھی اسٹالز لگائے اور اپنی مصنوعات پیش کیں، ہم نے کراچی میں عمارتوں کا سروے کرایا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی کہا کہ کے فور کی شروعات 10 سے 11 سال پہلے ہوئی تھی، اس پر میں کسی اور کو نہیں اپنے آپ کو الزام دیتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وفاق نے کہا تھا کہ مین لائن کا کام ہم خود کریں گے، ایک صاحب نے 3، 4 سال کےلیے کے فور پر کام رکوا دیا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں لٹریچر فیسٹیول بھی جاری ہے، صوبہ سندھ میں حضرت لعل شہباز قلندر کا عرس بھی جاری ہے، کچھ دنوں قبل انٹرنیشنل ایونٹ آرٹس کونسل میں ہوا تھا، جو چیلنجز ہے اسے عبور کر رہے ہیں، کراچی میں ماضی میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسے ایونٹس ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ خواجہ اظہار نے مجھے اب تک 28 ویں آئینی ترمیم کا نہیں بتایا، جب ترمیم آئے گی تو دیکھا جائے گا، ماضی میں ہم نے ترمیم کے وقت جمہوری رویہ اپنایا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 2007 میں بینظیر بھٹو کو شہید ہوتے دیکھا، سیاسی جماعتوں سے کہوں گا کہ آگے کی طرف دیکھے۔