’منی اسٹروک‘ (عارضی فالج) جسے ٹرانزینٹ اسکیمک اٹیک (TIA) کہا جاتا ہے، دماغ تک خون کی فراہمی میں عارضی رکاوٹ کے باعث ہوتا ہے۔
اگرچہ اس فالج سے مستقل نقصان نہیں ہوتا مگر یہ آنے والے بڑے فالج کی سخت وارننگ قرار دیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عارضی فالج کی علامات چند منٹوں میں یا 24 گھنٹوں کے اندر ختم ہو سکتی ہیں لیکن اِسے نظرانداز کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی اسٹروک ایسوسی ایشن کی جانب سے ’منی اسٹروک‘ کو ایک طبی ایمرجنسی قرار دیا گیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے اعداد و شمار کے مطابق 2021ء میں دنیا بھر میں فالج کے تقریباً 9 کروڑ 38 لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 1 کروڑ 19 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے۔
ایک طرف سے چہرے کے پٹھوں کا کمزور ہونا یا لٹک جانا، مسکرانے پر دونوں طرف یکساں حرکت نہ ہونا۔
بازو یا ٹانگ کا اچانک سن ہونا، کمزوری کے باعث ایک طرف کے بازو یا ٹانگ کو نہ اٹھا پانا۔
آواز کا لڑکھڑانا، الفاظ ٹھیک طرح ادا نہ کر پانا یا بات سمجھنے میں مشکل محسوس کرنا۔
اچانک دھندلا دکھائی دینا، ڈبل نظر آنا یا آنکھ کے سامنے پردہ سا آ جانا۔
شدید چکر آنا، زمین کے گھومنے کا احساس ہونا، چلنے یا کھڑے ہونے میں دشواری محسوس کرنا یا متلی یا قے کا آنا۔
لڑکھڑاہٹ، سیدھا نہ چل پانا، یا سادہ کاموں میں عدم توازن محسوس کرنا۔
اچانک تذبذب کی کیفیت کا بڑھ جانا، بات نہ سمجھ پانا یا پانی و خوراک نگلنے میں دقت محسوس کرنا۔
اگر یہ علامات ظاہر ہوں اور چند منٹوں میں ختم ہو جائیں تو فوراً اسپتال پہنچیں، طبی ماہرین کے مطابق منی اسٹروک کے بعد 48 گھنٹوں میں بڑے فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’منی‘ یا ’میجر‘ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے بلڈ پریشر کا قابو میں رہنا، جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کا کم ہونا، ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات کا استعمال کرنا، صحت مند غذا کا استعمال اور باقاعدہ ورزش کرنا لازمی ہے۔