ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کیٹوجینک یا کیٹو ڈائٹ اُن افراد میں ڈپریشن کی علامات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جو اینٹی ڈپریسنٹس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کر پاتے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق 6 ہفتوں تک کیٹو ڈائٹ اختیار کرنے والے شرکاء میں ڈپریشن کی علامات میں معمولی کمی دیکھی گئی، جبکہ اُن افراد کے مقابلے میں بہتر نتائج سامنے آئے جنہیں زیادہ پودوں پر مشتمل غذا لینے کی ترغیب دی گئی تھی۔
تحقیق میں 88 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو ٹریٹمنٹ ریزسٹنٹ ڈپریشن کا شکار تھے، کیٹو ڈائٹ استعمال کرنے والے افراد، جو روزانہ کاربوہائیڈریٹس کو 30 گرام سے کم رکھتے ہیں، اس میں 27 نکاتی ڈپریشن اسکیل پر اوسطاً 10.5 پوائنٹس کی بہتری دیکھی گئی، جبکہ پلانٹ بیسڈ غذا لینے والے گروپ میں یہ بہتری 8.3 پوائنٹس رہی۔
تحقیق کی سربراہ من گاؤ نے کہا ہے کہ 6 ہفتوں کے بعد کیٹوجینک ڈائٹ نے کنٹرول ڈائٹ کے مقابلے میں اینٹی ڈپریسنٹ فوائد ظاہر کیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ رینڈ مائزڈ کلینیکل ٹرائل ظاہر کرتا ہے کہ کیٹو ڈائٹس ٹریٹمنٹ ریزسٹنٹ ڈپریشن کے لیے معاون علاج کے طور پر مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طرزِ زندگی میں تبدیلی ڈپریشن کے علاج میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تحقیق میں ابتدائی شواہد فراہم کیے گئے ہیں کہ کیٹو ڈائٹ روایتی ڈپریشن کے علاج کے ساتھ کی جا سکتی ہے، تاہم طویل مدتی اثرات کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔