امریکی محققین نے ایسی سرگرمی دریافت کر لی ہے جس سے ڈیمنشیا کے خطرے میں نمایاں کمی لانا ممکن ہے۔
رینڈمائزڈ کنٹرولڈ ٹرائل کے دوران محققین نے کسی مہنگی دوا کے بجائے ایک سادہ اور کم خرچ دماغی مشق کے ذریعے ڈیمنشیا کی شرح میں 25 فیصد تک کمی کا مشاہدہ کیا ہے، رینڈمائزڈ کنٹرولڈ ٹرائل کو طبی تحقیق کا سنہری معیار سمجھا جاتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ سنہری معیار کی کسی تحقیق سے ہمیں یہ واضح اشارے ملے ہیں کہ ہم ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔
اگرچہ مارکیٹ میں بے شمار برین ٹریننگ گیمز اور ایپس موجود ہیں جو ذہنی کمزوری سے بچاؤ کا دعویٰ کرتی ہیں، تاہم یہ کتنی مؤثر ہیں، یہ جاننے کے لیے طویل المدتی اور اعلیٰ معیار کی تحقیق محدود رہی ہے۔
امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان کی تحقیق میں صرف ایک مخصوص قسم کی تربیت کو مؤثر پایا گیا ہے، یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ تمام برین ٹریننگ گیمز اس حوالے سے فائدہ مند ہیں۔
امریکی مطالعہ جسے ’ایکٹیو‘ (ACTIVE) کا نام دیا گیا ہے، 1990ء کی دہائی کے اواخر میں شروع ہوا تھا، اس میں 65 برس یا اس سے زائد عمر کے 2 ہزار 800 سے زائد افراد کو بے ترتیب طور پر 3 اقسام کی دماغی تربیت، رفتار، یادداشت یا استدلال میں سے ایک دی گئی، جبکہ ہر ایک گروپ کو کنٹرول گروپ کے طور پر رکھا گیا۔
محققین کے مطابق ابتدا میں شرکاء نے 5 ہفتوں تک ہفتے میں 2 بار 1 گھنٹے کا تربیتی سیشن مکمل کیا، 1 اور 3 سال بعد 4 اضافی (بوسٹر) سیشن بھی کرائے گئے، مجموعی طور پر تربیت کا دورانیہ 24 گھنٹوں سے کم رہا۔
محققین نے بتایا ہے کہ 5، 10 اور حالیہ 20 سال بعد کیے گئے فالو اپ جائزوں میں رفتار پر مبنی تربیت مسلسل غیر معمولی حد تک فائدہ مند ثابت ہوئی، 2 دہائیوں بعد میڈی کیئر ریکارڈز سے ظاہر ہوا کہ جن افراد نے رفتار کی تربیت اور اضافی سیشن مکمل کیے، ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ 25 فیصد کم تھا۔
محققین کے لیے یہ امر حیران کن تھا کہ باقی 2 اقسام کی تربیت سے شماریاتی طور پر کوئی نمایاں فرق سامنے نہیں آیا۔
رفتار کی تربیت میں کمپیوٹر اسکرین کے مختلف حصوں میں اچانک ظاہر ہونے والی گاڑیوں اور سڑک کے نشانات پر کلک کرنا شامل تھا۔