دل کی شریان میں اسٹنٹ ڈالنے کا عمل جسے ’اینجیو پلاسٹی‘ کہا جاتا ہے، خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے، سینے کے درد کو کم کرنے اور دل کے دورے کے خطرات کو گھٹانے کے لیے کیا جاتا ہے تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹنٹ لگوانا علاج کا اختتام نہیں بلکہ طویل المدتی نگہداشت کی شروعات ہے۔
کارڈیالوجسٹس کے مطابق کورونری اسٹنٹ ایک باریک جالی نما نلکی ہوتی ہے جو تنگ یا بند دل کی شریان میں ڈالی جاتی ہے تاکہ خون آسانی سے دل تک پہنچ سکے، جدید اسٹنٹس میں دوا بھی شامل ہوتی ہے جو شریان کو دوبارہ بند ہونے سے روکتی ہے۔
امراضِ قلب کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسٹنٹ ڈلوانے کے بعد مریض کی پرانے اور مضرِ صحت معمولات کی جانب واپسی خطرناک ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں، کیونکہ یہ اسٹنٹ میں خون کا لوتھڑا بننے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
ڈاکٹرز کی دی گئی ادویات، خاص طور پر خون پتلا کرنے والی دوائیں بغیر مشورے کے بند نہ کریں۔
غیر ضروری سپلیمنٹس یا دیسی علاج خود سے استعمال نہ کریں۔
ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور تیزی سے وزن کے بڑھنے سے بچیں۔
دوائیں وقت پر لیں اور فالو اپ چیک اپ کرواتے رہیں۔
روزانہ ہلکی ورزش جیسے چہل قدمی یا سائیکلنگ لازمی کریں۔
پھل، سبزیاں، ثابت اناج، کم چکنائی والا گوشت اور صحت مند چکنائیاں (خشک میوہ جات) غذا میں شامل کریں۔
نمک، میٹھے اور پروسیسڈ کھانوں کا استعمال کم کر دیں۔
ذہنی سکون، اسٹریس کنٹرول اور پوری نیند کو ترجیح دیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سینے میں نیا درد، سانس میں دقت یا غیر معمولی تھکن محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اسٹنٹ خون کا بہاؤ بحال کرتا ہے مگر دل کی حفاظت صحت مند طرزِ زندگی سے ہی ممکن ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔