معروف بھارتی کامیڈین راجپال یادیو چیک باؤنس کیس میں 16 سالہ قانونی جنگ میں ناکامی کے بعد تہاڑ جیل میں قید ہیں۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2010ء میں جب راجپال یادیو نے اداکاری کے بعد بطور فلم ساز اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا تو اپنی فلم’اتا پتہ لاپتہ‘ کے لیے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے تقریباً 5 کروڑ روپے ادھار لیے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کامیڈین کے لیے محدود منافع اور بڑھتی ہوئی ذمے داریوں کی وجہ سے قرض کی ادائیگی مشکل ہو گئی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سود، جرمانے اور تاخیر نے بقایا واجبات کو تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچا دیا۔
رپورٹ کے مطابق راجپال یادیو نے قرض کی رقم کی ادائیگی کرنے کے لیے متعدد چیک جاری کیے جو مسترد کر دیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل 2018ء میں مجسٹریٹ کی عدالت نے راجپال یادیو اور ان کی اہلیہ کو متعدد چیک باؤنس کیسز میں مجرم قرار دیا اور انہیں 6 ماہ قید کی سزا سنائی پھر 2019ء میں سیشن عدالت نے بھی اس سزا کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا اور اس کے بعد معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں چلا گیا۔
رپورٹ کے مطابق قرض کے تنازعات اکثر سول نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن چیک باؤنس ہونے کے الزامات نے کامیڈین کے کیس کو ’فوجداری کیس‘ بنا دیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے راجپال یادو کو قرض کی قسطوں میں ادائیگی کے لیے متعدد بار موقع دیا لیکن وہ وقت پر قسطوں کی ادائیگی میں بھی ناکام رہے۔
عدالت نے بتایا ہے کہ کامیڈین کے خلاف درج 7 مقدمات میں سے ہر ایک میں 1.35 کروڑ روپے ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
عدالت کے مطابق کامیڈین کے خلاف درج 7 مقدمات میں سے ہر ایک میں 1.35 کروڑ روپے ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
عدالت نے بتایا ہے کہ اکتوبر 2025ء میں 75 لاکھ روپے کے 2 ڈیمانڈ ڈرافٹ جمع کروائے گئے لیکن پھر بھی تقریباً 9 کروڑ بھارتی روپے کی ادائیگی ابھی باقی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون 2024ء میں دہلی ہائی کورٹ نے اس شرط پر راجپال یادیو کی سزا کو عارضی طور پر معطل کر دیا کہ وہ خوش گوار تصفیے کے لیے مخلص اور حقیقی اقدامات اٹھائیں گے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2 فروری 2026ء کو دہلی ہائی کورٹ نے راجپال یادیو کو 4 فروری کو شام 4 بجے تک سرینڈر کرنے کی ہدایت کی تھی۔
جس پر راج پال یادیو نے تہاڑ جیل میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا۔