بالی ووڈ اداکار راجپال یادیو کے قانونی نمائندے بھاسکر اپادھیے نے کہا ہے کہ اداکار کے مالی دیوالیہ پن کے مقدمے میں واجب الادا رقم کا نصف ادا کر دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وکیل نے بتایا کہ انہوں نے جمعرات کو سماعت ملتوی کرنے کی درخواست اس لیے دی کیونکہ ان کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت پر دوسرے فریق کو جواب دینا ہے۔
اداکار کے منیجر نے کہا کہ وہ جیل میں راجپال یادیو سے ملاقات کریں گے اور ادائیگی کے حوالے سے ان سے ہدایات لیں گے، نیز یہ بھی جانیں گے کہ ادائیگی کے بارے میں ان کا مؤقف کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ سوالات کے جوابات غالباً پیر کو سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کے مقصد سے جو رقم لگائی گئی تھی، اس سے انکار نہیں کیا گیا۔ اس سے پہلے بھی جب رقم کی بات ہوئی تھی تو کمپنی نے رقم لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 2012 کے معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں، جس میں تین ماہ کی مدت پہلے ہی پوری ہو چکی ہے۔
منیجر کا مزید کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ راجپال یادو کو کس نے رقم دی، یہ خاندانی معاملہ ہے۔ میں خود جیل جاؤں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ یہ کام کس طرح کرنا ہے۔ اب تک پانچ کروڑ میں سے ڈھائی کروڑ ادا کیے جا چکے ہیں، اب دیکھتے ہیں عدالت پیر کو کیا فیصلہ کرتی ہے۔
یاد رہے کہ اداکار راجپال یادیو نے دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت پر متعدد چیک باؤنس مقدمات کے سلسلے میں پولیس کے سامنے خود کو پیش کیا تھا۔ راجپال یادیو نے 2010 میں اپنی فلم ’اتا پتا لاپتہ‘ بنانے کے لیے قرض لیا تھا، جسے وہ واپس کرنے سے قاصر رہے۔
2018 میں ایک مجسٹریٹ عدالت نے اداکار اور ان کی اہلیہ کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ 2019 میں سیشن عدالت نے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ جب 2024 میں اداکار اور ان کی اہلیہ نے ریلیف کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو عدالت نے یہ دیکھتے ہوئے کہ دونوں عادی مجرم نہیں ہیں، سزا کو عارضی طور پر معطل کر دیا اور تصفیے کے لیے مہلت دی۔ تاہم اداکار قرض ادا کرنے میں ناکام رہے۔
جسٹس سوارنا کانتا شرما پر مشتمل سنگل جج بنچ نے متعدد مواقع دیے جانے کے باوجود تصفیے کی شرائط پوری نہ کرنے پر اداکار کے طرزِ عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔