کبھی صحت کارڈ امید کا سبز پرچم تھا۔ایک ایسا وعدہ جو کاغذ سے نکل کر بسترِ مریض تک پہنچا تھا مگر آج وہی وعدہ دھند میں لپٹا دکھائی دیتا ہے، جیسے صبح کی روشنی شام کی گرد میں کھو جائے۔ پاکستان کا محکمۂ صحت ایک وسیع کینوس بھی ہے اور ایک تنگ دائرہ بھی؛ کاغذوں میں پھیلا ہوا، زمین پر سکڑا ہوا۔ یہاں عمارتیں کھڑی ہیں مگر سہولیات جھکی ہوئی؛ منصوبے بنتے ہیں مگر تکمیل کے دروازے ادھ کھلے رہتے ہیں۔ قانون موجود ہے مگر خلا بھی ہمراہ؛ بجٹ مختص ہے مگر قلت سایہ فگن؛ ادارے قائم ہیں مگر انتشار غالب۔ سرکاری ہسپتالوں کی قطاریں وقت کی طرح لمبی اور امید کی طرح تھکی ہوئی ہیں؛ بوسیدہ دیواریں تاریخ کی گواہ بھی ہیں اور بے بسی کی تصویر بھی؛ خراب آلات سائنسی ترقی کا نام بھی لیتے ہیں اور ناکامی کی آہ بھی بھرتے ہیں۔ آبادی بڑھتی ہے، بستر کم پڑتے ہیں؛ مریض بڑھتے ہیں، مرہم گھٹتے ہیں۔یہی تضاد اس نظام کا روزنامہ ہے۔
بنیادی صحت مراکز دیہات کی مٹی میں جڑے ہیں مگر وسائل سے کٹے ہوئے؛ دروازے کھلے ہیں مگر الماریاں خالی؛ نسخہ ہاتھ میں ہے مگر دوا بازار میں۔ شہر علاج کا وعدہ کرتا ہے، گاؤں بیماری کو تقدیر سمجھ لیتا ہے؛ یہی جغرافیائی عدم مساوات صحت کو سہولت بھی بناتی ہے اور فاصلے بھی۔ بجٹ کاغذ پر اعداد بھی ہے اور زمین پر اعذار بھی؛ جدید ٹیکنالوجی خواب بھی ہے اور تاخیر بھی؛ تربیت ارادہ بھی ہے اور انتظار بھی۔ بڑے شہروں کے تدریسی ہسپتال روشنی کے جزیرے بھی ہیں اور دیہی اندھیروں کے مقابل بھی؛ جہاں شہر میں علاج دسترس ہے، وہاں گاؤں میں دسترس دعا بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر پیدا ہوتے ہیں مگر رکتے نہیں۔نرسیں تیار ہوتی ہیں مگر ٹھہرتی نہیں۔ برین ڈرین ہنر کا سفر بھی ہے اور وطن کی محرومی بھی۔ ایک ڈاکٹر کے سامنے درجن نہیں، درجنوں کی قطار۔ ایک دل کے سامنے سیکڑوں کی دھڑکن۔معیارِ علاج مہارت بھی مانگتا ہے اور مہلت بھی، اور یہاں مہلت کم ہے۔ پیرامیڈیکل عملہ خدمت بھی کرتا ہے اور خلا بھی بھرنے کی کوشش۔ تقسیمِ افرادی قوت نقشہ بھی ہے اور بے ترتیبی بھی۔ ادویات نسخے میں موجود بھی ہیں اور اسٹور میں مفقود بھی۔ مریض کو کاغذ ملتا ہے مگر شفا بازار سے خریدنی پڑتی ہے۔ جعلی دوائیں امید بھی چھینتی ہیں اور اعتماد بھی۔ ڈرگ ریگولیشن نگرانی بھی ہے اور سوال بھی۔ سپلائی چین نظم بھی چاہتی ہے اور نیت بھی۔اور جب نیت کمزور ہو تو نظم بکھر جاتا ہے۔
بدعنوانی اس نظام کی خاموش دراڑ بھی ہے اور بلند آہ بھی۔ خریداری میں شفافیت وعدہ بھی ہے اور امتحان بھی۔ بھرتیوں میں اقربا پروری تعلق بھی ہے اور تعطل بھی۔ سیاسی بنیادوں پر شروع ہونے والے منصوبے اعلان بھی ہوتے ہیں اور ادھورے انجام بھی۔ احتساب کا فقدان غلطی بھی ہے اور تکرار بھی۔ پبلک ہیلتھ کے میدان میں ٹیکہ جات کی مہم پیش رفت بھی ہے اور رکاوٹ بھی۔ صاف پانی ضرورت بھی ہے اور نایابی بھی۔ سیوریج کا نظام ساخت بھی ہے اور سستی بھی۔ ماحولیاتی آلودگی بیماری بھی ہے اور خبرداری بھی۔ ماں اور بچے کی صحت امید بھی ہے اور آزمائش بھی۔ تربیت یافتہ دائی کی کمی روایت بھی ہے اور خطرہ بھی۔ڈیجیٹلائزیشن خواب بھی ہے اور ضرورت بھی۔ کاغذی ریکارڈ تاریخ بھی ہے اور تاخیر بھی؛ مربوط ڈیٹا بیس پالیسی بھی بناتا ہے اور بصیرت بھی۔اور جب وہ نہ ہو تو حکمتِ عملی اندازہ بھی رہتی ہے اور اندیشہ بھی۔ ٹیلی میڈیسن حل بھی ہے اور امکانات بھی مگر امکانات تب حقیقت بنتے ہیں جب عزم وسائل سے ملے۔ ذہنی صحت کا شعبہ خاموش بھی ہے اور چیختا بھی۔ بدنامی سماج کی عادت بھی ہے اور مریض کی قید بھی؛ ماہرین کی کمی خلا بھی ہے اور درد بھی۔ معذور افراد کے لیے بحالی مراکز ضرورت بھی ہیں اور نایابی بھی۔یہاں سہولت کم ہے اور ہمت زیادہ۔
نجی اور سرکاری شعبے کے بیچ فاصلہ سہولت بھی ہے اور ستم بھی۔ نجی ہسپتال معیار بھی دیتے ہیں اور قیمت بھی لیتے ہیں۔ سرکاری ادارے دسترس بھی دیتے ہیں اور انتظار بھی۔ انشورنس کا نظام پناہ بھی ہے اور پیچیدگی بھی۔ یونیورسل ہیلتھ کوریج ہدف بھی ہے اور خواب بھی۔اور خواب تب تعبیر پاتا ہے جب تسلسل ساتھ دے۔ مگر سب سے بڑی کمزوری تسلسل کی کمی ہے ہر نئی حکومت آغاز بھی کرتی ہے اور اختتام بھی بدل دیتی ہے۔ پالیسیوں کی عدم پیوستگی ارادہ بھی کمزور کرتی ہے اور نتائج بھی۔ طویل مدتی منصوبہ بندی ضرورت بھی ہے اور غفلت بھی۔ سیاسی مداخلت اختیار بھی ہے اور اختلال بھی۔
یہ محکمۂ صحت امکانات کا سمندر بھی ہے اور مسائل کی موج بھی۔ صلاحیت کا خزانہ بھی ہے اور سمت کی تلاش بھی۔ اگر بجٹ ارادہ بن جائے اور شفافیت عادت؛ اگر دیہی ترجیح شعار بن جائے اور ڈیجیٹل اصلاح روایت؛ اگر احتساب خوف نہیں، انصاف ہو۔تو یہی نظام کمزوری بھی چھوڑ دے گا اور قوت بھی بن جائے گا۔ کیونکہ صحت صرف ہسپتال نہیں، قوم کی سانس ہے؛ اور جب سانس مضبوط ہو تو معاشرہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔ تب قطاریں کم ہوتی ہیں اور وقار زیادہ۔