• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہمارےکئی مہربانوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ دریائے سندھ کو ’’دریائے سندھ ‘‘کیوں کہاجاتاہے اس سلسلے میں ایک دوہفتے قبل میں نےجو کالم لکھاتھا اس میں،میں نے یہ کہنے کی جسارت کی تھی کہ یہ تاریخ کافیصلہ تھا کہ اس دریا کانام دریائے پنجاب نہیں مگر دریائے سندھ رکھاجائے ۔دریائے سندھ کو دریائے سندھ کہنا کسی سندھی کا جرم نہیں یہ تو تاریخ کاـــ’’جرمــ‘‘ ہے۔دوسری بات یہ کہ اس دریا کا نام ’’دریائے سندھ ‘‘ فقط اس وجہ سے نہیں پڑا کہ اس دریاکی آخری بستی سندھ ہے۔چونکہ پاکستان دریائے سندھ پر آخری ریاست ہے تو خود پاکستان کے نمائندوں کے مطابق اس دریا پر پہلا حق بھی پاکستان کا ہے۔تو کیا ایسا ہی موقف سندھ بھی اختیار نہیںکرسکتا؟سندھ یہ موقف بھی اختیار کرتا ہے کہ دریائے سندھ سارے Indus Basinکو بھی سیراب کرتا ہے جس کا پنجاب بھی ایک حصہ ہے۔ لہٰذا اس نام کو تبدیل کرنے کے لئے شاید جغرافیہ کو ہی تبدیل کرناپڑے ‘ہم تاریخ کو تو تبدیل کرسکتے ہیں جس طرح اب تک کرتے آئے ہیںمگرکیاکوئی جغرافیہ کو تبدیل کرسکتاہے؟جغرافیہ کی حدود کاتعین توقدرت کرتی ہے اگرکوئی ایسی طاقت ہمارےہاں ہے جو جغرافیہ کوبھی تبدیل کرسکتی ہے تو قبلہ بڑی خوشی سے کیاجائے بے چارہ سندھ کیا کر سکتا ہے۔ مجھے یہ چند سطور لکھنے کے بعد خاص طور پر دوباتوں کا ضرورذکرکرناہے ۔ایک بات یہ کے نتیجے میں سندھ میں خوشی کی لہر پیداہوئی جبکہ دوسری بات سے یہ خوف اورگہرا ہوگیا ہے کہ اقتدار موجودہ حکمرانوں کے ہاتھوں سے کھسک کران ہاتھوں میں جارہاہے جن کے نزدیک آئین کی کوئی حیثیت نہیں۔ جہاں تک پہلی بات کاتعلق ہے تو یاد رہے کہ میں نے اپنے پچھلے کچھ کالموں میں اس بات کاذکر کیا تھا کہ آئین اورقانون سے نفرت کرنے والے عناصرمسلسل 1991ء کے پانی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوٹری بیراج کے نیچے پانی کی فراہمی کوروکتے آئے ہیں حالانکہ پانی کے معاہد ے میں کہاگیاہے کہ ;
ـــ''The need to certain minimum escapages to sea,below kotri to check the sea intrusion was recognised.Sindh held the view ,that the optimum level was 10 MAF,which was discussed at length while other studies indicated lower/higher figures .It was,therefore,decided that further studies would be undertaken to establish the minimum escapage needs downstream Kotri"
اس فیصلے کے مطابق اتفاق رائے سے خاص طورپر پنجاب اور سندھ کے اتفاق سے ملکی یاکسی بین الاقوامی مقتدر ادارے سے انویسٹی گیشن کرائی جائے کہ کوٹری بیراج کے نیچے کم سے کم کتنا پانی چھوڑا جائے ۔معاہدے کے مطابق جب تک کوئی ایسی رپورٹ آئے تب تک کوٹری بیراج کے نیچے 10ایم اے ایف پانی چھوڑنا ہوگا مگر 1991ء سے اب تک مشکل سے چند سال تک ہی اس پر عملدرآمد کیاگیا جس کے نتیجے میں نہ فقط انڈس ڈیلٹا کوناقابل تلافی نقصان پہنچا بلکہ اس علاقے میں زراعت تو زراعت مگررہائش پذیر انسان اور مال مویشی بھی پانی کے ایک ایک قطرے کو ترستے رہے مگرلگتاہے اس بار ہمارےUpper Riparianبھائیوں کو رحم آگیا اوراس بار کوٹری بیراج کے نیچے چند دن پہلے پانی چھوڑاگیا ہے اس ہفتے جب میں کوچ کے ذریعے کراچی سے حیدرآباد آتے ہوئے جامشورو کے نزدیک پل پارکرتے ہوئے دریائے سندھ کی سمندروالی سمت دیکھا تو دل باغ باغ ہوگیا میں نے دیکھا کہ کوچ میں بیٹھے ہوئے مسافر اٹھ کر دوسری طرف دریا میں بہتے ہوئے پانی کانظارہ کرکے خوش ہورہے تھے اورایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے چونکہ میں نے بھی اپنے گزشتہ ایک دو کالموں میںاس بات کا ذکر کیاتھا لہٰذا گھر پہنچنے پر سندھ بھرسے خطوط ملے اوربعد میں ای میل دیکھی تو کئی ای میل آئی ہوئی تھیں جن میں بہت مبارکباد دی ہوئی تھیں۔ یہ بات تو یہ تھی جس سے دل باغ وبہار ہوگیا مگراب میں جس بات کاذکر کروں گا اس سے سارا سندھ رنجیدہ ہے اور یہ خوف اوربڑھ گیا ہے کہ اب آئین کی خدا خیرکرے۔ یہ خوف اس خبرسے پیداہو اجس کے مطابقوفاقی وزیرپانی وبجلی خواجہ آصف جو کہ دفاع کے بھی وزیر ہیں نے اطلاع کے مطابق ہدایات جاری کی ہیںکہ اب پانی کے معاہدے کے تحت صوبوں میں پانی کی تقسیم ارساکی بجائے واپڈا کرے گا حالانکہ یہ فیصلہ صریح پانی کے معاہدے سی سی آئی اورآئین کی خلاف ورزی اور توہین ہے۔ اس سلسلے میں پانی کے معاہدے کی متعلقہ شق کے مطابق ۔For the implementation of this accord the need to establish an Indus river system authority (IRSA) was recognised and accepted. it was to have representation from all the four provincesاس معاہدے کی توثیق سی سی آئی نے کی جس کی صدارت اس وقت ملک کے وزیراعظم میاں نواز شریف کررہے تھے۔ اب یہ آئین کاحصہ ہے ۔وفاقی وزیر تو کیا ملک کے وزیراعظم اور صدر بھی اس فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکتے ۔اگرپنجاب کو سی سی آئی کایہ فیصلہ قبول نہیں ہے تو اسے یہ معاملہ پارلیمنٹ کو Referکرنا پڑے گا اور پھر یہ واپڈا کیاہے ؟ کیا اس کاوجود ہی آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔ واپڈا پانی اور بجلی کے معاملات کے متعلق ہے۔ آئین کے مطابق پانی صوبائی معاملہ ہے اوربجلی 18ویں ترمیم کے بعد چوتھے شیڈول کے پارٹ دوئم میں شامل ہے ۔اب یہ وفاقی حکومت نہیں مگر سی سی آئی کے دسترس میں ہےاب آئینی صورتحال یہ ہے تو پھر واپڈا کی کیاضرورت ہے ؟کیا یہ آئین کے ساتھ مذاق نہیں ہے؟ کچھ دوستوں کاخیال ہے کہ اگر واپڈا ختم ہوگیاتو پھر ڈیموں کو کون مانیٹرکرے گا؟یہ کونسی مشکل بات ہے ڈیموں کے لئے ایک الگ Authorityبنائی جاسکتی ہے جس کاڈھانچہ اور کام کاطریقہ کار IRSAکی طرز پر ہوتوکون سی مشکل پیداہوگی۔میں یہاں اس دور کا ذکر کرناضروری سمجھتاہوں کہ جب ملک کے سربراہ جنرل پرویز مشرف تھے ۔ان کی طرف سے ملک بھرکے پانی کے ماہرین کی ایک کمیٹی سندھ کے پانی کے ماہر اے جی این عباسی کے سربراہی میںبنائی تھی کہ ملک میں ڈیموں کے ایشو کو کس طرح حل کیا جائے۔ اس رپورٹ میں عباسی صاحب نے اس بات پر زوردیا کہ جب تک پاکستان میں ڈیموں اورلنکس کا آپریشن کرائیٹریا ‘‘ وضع نہیں کیا جائے گا مختلف صوبے پانی کی فراہمی کے سلسلے میں شکایت کرتے رہیںگے اس کمیٹی کابننا بھی کم دلچسپ نہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے ملک بھر کے پانی کے ماہرین کاایک اجلاس سندھ میں بلایا تاکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں اتفاق رائے پیداکیاجائے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا تھاکہ ان کو بتایاگیاہے ہر سال 35 ایم اے ایف پانی کوٹری بیراج سے سمندرمیں داخل ہوکرضائع ہوجاتاہے۔ اس مرحلے پر سندھ آباد گار بورڈ کے چیئرمین حاجی عبدالمجید نظامانی کھڑے ہوگئے اوربولنے لگے انہوں نے صدر کومخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں بھی آپ کی طرح Laymanہوں ۔مگرمیری اطلاع کے مطابق 35نہیں مگر 36ایم اے ایف پانی سمندر میں جاتاہے اس کے بعد انہوں نے اعدادوشمار دینے شروع کئےاور بتایا کہ کتنا پانی ہندوستان کے دریائوں سے غیراستعمال شدہ یہاں آتاہے جو کسی وقت بھی بندہوسکتاہے اس طرح کابل دریا،کے پی ، بلوچستان اورکچھ پروجیکٹس کا غیراستعمال شدہ پانی بھی سمندر میں گرنے والے اس پانی میں شامل ہے یہ سن کر جنرل پرویز مشرف کہنے لگے کہ اگر یہ اعدادوشمار درست ہیں تو پھر محض ایک کیوسک پانی بچے گا تو کیا اس ایک کیوسک پر ڈیم بنائیں گے۔اس مرحلے پر اجلاس میں موجود واپڈا کے اعلی حکام میں سے کسی کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ان اعدادوشمار کی تردید کریں البتہ سندھ کے پانی کے ماہر نے اٹھ کر کہا کہ یہ تمام اعدادوشمار درست ہیں۔اس کے بعد پورے ماحول پر گہری خاموشی طاری رہی۔
یہاں میں اس بات کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھوں گا کہ سندھ فقط بالائی علاقوں کے مہربانوں کا زخم خوردہ نہیںمگر حقیقت یہ ہے کہ سندھ سب سے زیادہ سندھ کی کرپٹ سندھی افسر شاہی اور غیر انسانی روش اختیار کئے ہوئے سندھی فیوڈلسٹوں کا زخم خوردہ ہےجن میں پیر، میر، سردار، نواب اور دیگر وڈیرے شامل ہیں۔ اب تو سندھ راج ہی ان بدعنوان فیوڈلسٹوں کا ہے۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ"Today's sindh is of the feudalists,for feudalists and by the feudalists.درحقیقت اس وقت پنجاب سرمایہ داروں اور سندھ کرپٹ فیوڈلسٹ کے حوالے کردیا گیا ہے۔میں پنجاب کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتا مگر اتنا کہنے کی ضرور جسارت کروں گا کہ آج سندھ ان لٹیروں کے ہاتھوں رو رہا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ سندھ کب اٹھتا ہے۔
تازہ ترین