’’محبوب ترین تمنائیں۔ ایک نغمے کے تمام زیر و بم۔ ان سب کا مفہوم اور مغز میں ایک محترم ستارے کی نذرکرتا ہوں۔ آج کا دن تمہارا ہے۔ اے اپنے وقت کے سب سے درخشندہ اور منفرد مہتاب۔ آج کا دن تمہاری صلاحیتوں اور تمہاری سرخروئی کے نام ۔‘‘17جولائی 2025ء۔ ایک فتح مند باپ نے اپنے کامران و کامیاب بیٹے کیلئے یہ نظم منسوب کی ۔دبئی کے حاکم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اپنے ٹویٹر پر اپنے بیٹے شیخ حمدان بن محمد کی عملی میدان میں آمد پر یوں خیر مقدم کیا۔یہ صرف بیٹے کی زندگی میں ایک فیصلہ کن موڑ نہیں۔ بلکہ ملک کی تقدیر اور مستقبل کیلئے بھی ایک اہم سنگ میل تھا۔ ایک دشت کس طرح ایک عالمی، معاشی، ثقافتی، صنعتی تجارتی مرکز بن رہا ہے۔ اس میں شاعری، ثقافت، میراث اور روایات کا کیا کردار ہے، آج اس پر بات ہوگی ۔ہم بھی صدیوں پرانی اقدار روایات کے امین ہیں مگر ہماری اشرافیہ اس طرح انکی اہمیت سے نا آشنا ہے اور نہ کبھی اپنے بیان و خطاب میں انکا ذکر کرتی ہے۔ میں جب آپ سے مخاطب ہونے کیلئے 62ویں منزل سے نظریں اپنے سامنے پھیلے عالمی شہر دبئی پر ڈال رہا ہوں تو سمندر فلک بوس عمارات بھی میری طرف دیکھ رہی ہیں۔ انسان آسمان کے قریب کیوں جانا چاہتا ہے ۔فلک اپنی طرف بڑھتی بلڈنگیں دیکھ کر اور اونچا کیوں ہو جاتا ہے۔
یہاں سے چند سو میل کے فاصلے پر ہماری صدیوں پرانی تہذیب میں دوسرے علاقوں سے آکر آباد ہونیوالوں کو پسند نہیں کیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ ہم ریڈ انڈین ہو جائینگے۔ رقبے غیر آباد پڑے رہیں۔ زمینیں قابل کاشت نہ ہوں۔ نئے کارخانے نہ لگیں لیکن نئے لوگ قبول نہیں ہیں۔ دبئی کی 36لاکھ کی آبادی میں سے 92فیصد غیر مقامی ہیں ۔ یہ کتنی تیزی سے ترقی کر رہا ہے ۔ زر مبادلہ کے ذخائر 238ارب ڈالر ہیں۔4114 مربع کلومیٹر پر ریت کے ٹیلوں سے ابھرتا جدید ترین سہولتوں والا شہرایک ایسا کامیاب تجربہ ہے جو کئی کئی ہزار سالہ تمدن رکھنے والے ملکوں کیلئے ایک مثال ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ حاکم شہر ایک مقبول عربی شاعر ہیں انکے شعری مجموعے بہت خوبصورت طباعت سے مزین شائع بھی ہو چکے ہیں۔ ہمارے شعراء۔ دبئی آتے ہیں تو صرف اپنی اپنی زبان تک محدود رہتے ہیں۔ یہاں کی جدید ترین عربی شاعری پر توجہ نہیں دی جاتی جو میراث بمقابلہ جدیدیت...نازک طبع جذبات اور کثیر الثقافتی مناظر سے مزین ہے۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹوں بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر بیٹھنے اور حالات حاضرہ پر تبادلہ خیال کا دن۔ اگلا اتوار تورمضان کے مقدس مہینے میں طلوع ہوگا پھر تو یہ سوال و جواب افطار پر ہی ہو سکیں گے۔ عالمی قیادتیں مسائل حل کرنے کے بجائے مسائل کھڑے کر رہی ہیں ۔ بنگلہ دیش کے باشعور عوام نے واضح فیصلہ دے دیا ہے ۔ہمارے ہاں تو شعور سے پیٹ نہیں بھرتا۔ اب ایک جنرل باپ اور ایک سابق وزیراعظم ماں کے بیٹے طارق رحمان کا امتحان شروع ہو رہا ہے۔17کروڑ عوام کیلئے آئندہ 10/ 15 برس کا کیا سماجی سیاسی اور معاشی لائحہ عمل لیکر آتے ہیں۔بنگلہ دیش میں فارم 45یا 47والا معاملہ نہیں ہے۔ بنگلہ دیش والے دبئی میں آٹھ فیصد کے قریب ہیں۔ سب سے زیادہ انڈین 38فیصد، پاکستانی 16فیصدپھر فلپائنی جن میں خواتین زیادہ ہیں چھ فیصد۔ اسکے بعد ایرانی مصری یمنی یورپی ہیں ۔ آبادی کا 92فیصد غیر مقامی ہیں دبئی کی معیشت وہی چلا رہے ہیں۔
میں احباب سے سوال کر رہا ہوں کہ دشت کو ایک میگا سٹی میں منتقل کرنے اور اتنی بڑی تعداد کے غیر ملکیوں کو اپنی سرزمین پر آنے، رہنے اور کام کرنیکی اجازت دینے کا تجربہ کیسا رہا ہے ۔ بھارت اور پاکستان کے جذباتی اور اپنے اپنے مذہب سے پرجوش عقیدت رکھنے والوں کو یہاں غیر سیاسی اور غیر مذہبی رکھنے میں اور صرف معیشت پر توجہ دینے میں کامیابی کیسے ہوئی ہے۔ پیشرفت مسلسل ہو رہی ہے۔ قواعد و ضوابط بہت سوچ کر بنائے جاتے ہیں ۔کوئی تو محکمہ ہے جو دنیا بھر پہ نظر رکھتا ہے تجارت اور صنعت کے تجربے مختلف ملکوں کے دیکھتا ہے۔ ان میں سے جو متحدہ عرب امارات کیلئے قابل عمل ہوں انہیں اپنا لیتا ہے۔ تعلیم پر بجٹ کا 16فیصد خرچ ہو رہا ہے۔ اس چھوٹی سی آبادی میں 65کالج اور عالمی یونیورسٹیاں ہیں۔ تعلیم کو اہمیت دینے کیلئے جو ادارہ قائم ہے اسکا نام ملاحظہ ہو Knowledge and human Development authority اس سے اندازہ کر لیجئے کہ تعلیم سے انکا ایک مقصد تو انسانی وسائل کی بہبود ہے اور دوسری طرف علم کا پھیلاؤ۔ماسٹر پلان پر عمل درآمد میں کسی خاص ملک کے ماہرین کو ترجیح نہیں دی گئی ۔ پیسے کی دوڑ تو لگی ہوئی ہے مگر یہاں معیشت کیساتھ ساتھ ادب ثقافت تمدن کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔ نئے عجائب گھر قائم کیے جا رہے ہیں۔ جنکا مقصد عوام کے تاریخی ثقافتی شعور میں اضافہ کرنا ہے۔ شیخ محمد بن راشد المکتوم متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم کا وژن ہی دبئی کو آگے لیکر جا رہا ہے ۔وہ صاحب مطالعہ ہیں نامور شاعر بھی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈیولپمنٹ کو جو یہاں ’تخلیق‘ کہا جا رہا ہے اور یہاں دوام کی جو جستجوہے۔ اسکا سبب حاکم شہر کا شاعرانہ مزاج بھی ہے۔ میں کوشش کر رہا ہوں کہ جدید شعراء کے کلام کا کوئی انتخاب انگریزی ترجمے میں دیکھ سکوں۔ آپ تک یہاں کی مسکراہٹوں میں نغمگی اور خیال کی اہمیت پہنچا سکوں ۔ شعری تجربے کے فروغ کیلئے کئی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ دبئی کی جدید شاعری عربی اور عالمی سوچ کاخوش رنگ امتزاج بھی ہے ۔قدیم روایتی شاعری جسے بدوی دور کا کلام کہا جا سکتا ہے اسکی بنیاد پر جدید کثیر الثقافتی ادب تعمیر ہو رہا ہے۔ ادارے اپنی قدیم ثقافت، بدوی روایات، اسلامی اقدار، بحری تاریخ، مہمان نوازی اور فنون لطیفہ کی ترویج اور تحفظ کیلئے اتنے ہی سرگرم ہیں جتنے ہمارے ادارے اقدار اور اخلاقیات کی پامالی کیلئے۔ ایک بزمThe poetic heart
’قلب شاعری‘ کے نام سے قائم ہے جہاں انسانی رابطوں کو اہمیت دی جا رہی ہے ۔ ایک لق و دق صحرا کو ایک جگمگاتے گنگناتے شہر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سوق ’بازار‘ سے بڑے بڑے شاپنگ مالز تک کا سفر طے کر لیا گیا ہے ۔شاعری عشق،فکر، ذات، ثقافتی شناخت اور میراث کے گرد گھومتی ہے ۔
میں خود ان دنوں شعری تجربے کر رہا ہوں اسلئے میں نے مختلف ادبی تجزیوں کے مطالعے کے بعد متحدہ عرب امارات کے کچھ نمایاں شعراء کے بارے میںپڑھا۔عفرا عتیق۔ نجوم الغانم ۔دینا دادا ۔سلام العطاس۔ داناا لجانی۔ شمع فیصل البستگی۔ امل سہاروی۔ احمد المنائی۔ فرح شما ۔ڈاکٹر شیخ غانم ان میں قابل ذکر ہیں۔ نام انگریزی میں پڑھ کر اردو میں لکھ رہا ہوں۔ کہیں نہ کہیں غلطی ہوگی۔ براہ کرم تصحیح میں تعاون کیجئے گا۔ کسی وقت ان شعرا کی تشبیہات ،استعاروں اور تلمیحات پر بات کرینگے۔ دشت تو عشاق کے محبوب رہے ہیں۔میں تو دو تین روزسے ایک مصرع پر اٹکا ہوا ہوں۔
’’ریت اب جانے کہاں اڑتی ہے؟‘‘