(گزشتہ سے پیوستہ)
حکومت کو چاہیے تھا کہ غریبوں اور مڈل کلاس کے لوگوں کیلئے سستی پتنگوں اور ڈوروں کے علیحدہ اسٹالز لگاتی۔اس بسنت پر بھی ہمیشہ کی طرح نمود و نمائش بہت ہوئی ایلیٹ کلاس نے کروڑوں روپے خرچ کئےحکومت کو اربوں روپے کا ریونیو ملا۔اس بسنت سے وابستہ لاکھوں افراد کو روزگار ملا اور اب حکومت مارچ میں پھر بسنت منا رہی ہے۔ غریب بیچارے تو صرف پتنگیں لوٹتے رہےکہ خود تو وہ پتنگیں اور ڈوریں خریدنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ان 20 برس میں جو نسل پیدا ہوئی اس کو بالکل علم نہیں کہ بسنت کیا ہوتی ہے انہوں نے کتابوں، تصاویر اور صرف ویڈیوز میں بسنت دیکھی تھی یا پھر اپنے بڑے بوڑھوں سے اس بسنت کے قصے سنے تھے اسی وجہ سے لوگوں کے اندر بسنت منانے کا جوش و خروش زیادہ رہا ۔لاہور کے مکانوں کی چھتیں ہاٹ کیک کی طرح کرائے پر اٹھیں، جیسے مفت میں ہوں حکومت کایہ فیصلہ تھا کہ 18 سال سے کم عمر کے بچے پتنگ نہیں اڑا سکتے عجیب فیصلہ تھا۔ ارے بابا یہ تہوار تو ہے ہی بچوں کا نوجوان اور بڑے بوڑھے تو مناتے ہی ہیں لاہور میں جن لوگوں کی عمر ماشاءاللہ 90 برس ہے انہوں نے بے شمار بسنتیں دیکھی اور منائی ہیں ۔سمجھ میں نہیں آیا کہ حکومت نے کتنے عجیب و غریب ضابطے اور قوانین بنا دیے ہیں۔ پولیس ویسے ہی اپنی حرکات اور ظلم کی وجہ سے بدنام ہے لہٰذا ایسے ضابطے اور قوانین کو ایک دفعہ پھر جائزہ لے کر بنانا چاہئے۔ قانون جس قدر سخت ہوتا ہے رشوت کا ریٹ بھی اتنا ہی زیادہ بڑھتا ہے۔ دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس مرتبہ بسنت کو ایک خوف اور ڈر کے ساتھ منایاگیا یہ کرو گے تو فلاں قانون کے تحت اندر ہو جاؤ گے بچہ اڑائے گا پتنگ تو باپ اندر ہو جائے گا۔ہمارے زمانے میںکوئی ایسا قانون نہیں تھا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچہ پتنگ اڑائےگا تواس کے باپ یا بھائی کو پکڑ لیں گے۔ ہم نے سوشل میڈیا پر دیکھا کہ ایک سات سال کے بچےکو دو پولیس والے موٹر سائیکل پر درمیان میں بٹھا کر لے جا رہے ہیں ۔لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس بچےکےماں باپ نہیں مگر کسی نے نہ سنی پھر ایک پتنگ باز کو پکڑ کرکہا کہ ڈانس کر کے دکھائواور اس کی پٹائی بھی کی ۔ہمارے زمانے میں بسنت میں اس قسم کے واقعات نہیں ہوتے تھے۔کبھی کسی کا گلا نہیں کٹا تھااور پھر ہمارے زمانے میں ہر ہفتہ اتوار ،عیداور کسی بھی سرکاری چھٹی پر لوگ پتنگیں اڑا کر لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ارے بابا یہ ایونٹ ہی بچوں کا ہےاور آپ بچوں کو یا ان کے والدین کو پکڑ رہے ہیں۔بسنت کو بسنت ہی رہنے دیںپولیس کا ایونٹ نہ بنائیں ۔ ہماری وزیراعلیٰ صاحبہ سے درخواست ہے کہ بسنت کے حوالے سے یہ سارے قوانین بہت عجلت اور جلد بازی میںبنائےگئے ہیں اب بسنت کے بعد ایک کمیٹی بنائیں اور بڑے تحمل اور سکون کے ساتھ نئے قوانین بنائے جائیں۔دوسرے اب آپ نے اگلےسال پورے پنجاب میں بسنت منانے کا جو اعلان کیا ہے اس حوالے سے ہم کہیں گے کہ لاہور تو ایک شہر تھا جس میںپولیس اور عوام دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے بسنت کو کئی ناخوشگوارواقعات سے بچا لیا۔پھر بھی کچھ لوگ زخمی ہوئے۔پورے پنجاب کیلئے آپ کو بہت کام کرنا پڑے گااور ہمارے نزدیک پورے پنجاب میں بسنت کے فیصلے اور اعلان پرمزید سوچنے کی ضرورت ہے ۔گورنمنٹ فاطمہ جناح گرلز کالج چونا منڈی میں بسنت میں عام آدمی پر نہیں مار سکتا تھا وہاں صرف ایلیٹ کلاس ہی جا سکی ۔بسنت کو ایک عوامی فیسٹیول بنانے کیلئے عام پبلک کیلئے بھی مخصوص جگہوں پر بسنت کا اہتمام ہونا چاہئے تھا۔بسنت کو مزید محفوظ بنانے کیلئے شہر کے تمام مکانوں کی چھتوں کی منڈیروں کو کم از کم چار فٹ اونچا کر دینا چاہئے ۔اس وقت لاہور شہر بلکہ پورے پنجاب کے لاکھوں مکانات کی چھتیں غیر محفوظ اور خطرناک ہیں ۔جن لوگوں نے پنے اور پتنگیں بلیک میں فروخت کیں ان کے حوالے سے کیا قانون حرکت میںآیا۔ ڈور کا پنہ20ہزار تک فروخت ہوا پتنگیں دو ،تین ہزار تک فروخت ہوئیں۔حالیہ بسنت کے موقع پر کئی لوگ زخمی بھی ہوئے اور ایک بچے اور صحافی کی ہلاکت بھی ہوئی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کے محفوظ بسنت کے انتظامات کی وجہ سے حادثات بہت کم ہوئے مگرآئندہ بسنت منانی ہے تو اس کیلئے مزید انتظامات اور پالیسی کو بہتر کرنا ہوگا ۔سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی موچی دروازے جا کر بسنت منائی اور کچھ دیر وہاں رہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بسنت کیلئے جس کمیٹی کے ممبران نے شروع دن سےآخر تک کام کیا اس کے کئی ممبران کو حکومت نے پوچھا تک نہیں۔ خیر یہ حکومت کا مسئلہ ہے ۔البتہ پولیس کا رویہ بعض جگہوں پربہت ہتک آمیز رہا۔ پولیس نے بعض جگہوں پر لوگوں کے ساتھ خاصی بدتمیزی کی حالانکہ لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز انتہائی شائستہ اورمتحمل مزاج اور بڑے نرم انداز میں بات کرتے ہیں۔ کاش تھانوں کا عملہ بھی ان جیسا ہو جائے۔ ہم ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران سے کہیں گے کہ وہ لاہور کے مختلف تھانوں میں وقتاََ فوقتاََ جا کر ضرور لیکچرز دیا کریں۔ ہم نے ایسا متحمل مزاج اعلیٰ پولیس آفیسر پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔جس طرح بسنت کی 20 سالہ پابندی کے دنوں میں جو نئی نسل پیدا ہوئی اس کوبسنت کے بارے میں نہیں پتا تھا اس طرح بہت کم لاہوریوں کو تکیوں کے بارے میں علم نہیں ہے۔ ہم تو میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف سے کہیں گے جس طرح وہ لاہور بلکہ پرانے لاہور کو زندہ کر رہے ہیں اسی طرح وہ لاہور کے تکیے بھی دوبارہ زندہ کریں ۔ آج کی نسل کو کیا پتہ کہ تکیہ کیا ہوتے ہیں لاہور میں بے شمار تکیے تھے ان کو آپ پرانے وقتوں کے ہیلتھ کلب ، بیٹھک،ریسٹ ہاؤس آرام گاہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں خوش قسمتی سے ہم نے لاہور کے چند تکیے اپنے اسکول اور کالج کے زمانے میں دیکھے ہیں یہ وہ تکیے نہیں جن پر سر رکھ کر سویا جاتا ہے۔ لاہور کو ایک طرف تو لوگ باغات کا شہر کہتے ہیں تو دوسری طرف اس کو تکیوں کا شہر، تاریخی قدیم عمارات اور حویلیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ اس شہر لاہور میں 40کے قریب تکیےتھے۔(جاری ہے )