• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران اسرائیل جنگ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال، چیٹ جی پی ٹی بائیکاٹ مہم شروع

— تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
— تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

ایران سے جنگ کے تناظر میں مصنوعی ذہانت کی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ نے اپنی ٹیکنالوجی امریکی محکمۂ جنگ کے خفیہ نیٹ ورک کو فراہم کرنے کا معاہدے کر لیا۔

اوپن اے آئی کے شریک بانی سیم آلٹمین نے اس معاہدے کی تصدیق کی جس کے بعد انہیں صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے، اس معاہدے کے بعد صارفین کی بڑی تعداد چیٹ جی پی ٹی کو ان انسٹال کر رہی ہے۔

مارکیٹ انٹیلی جنس کمپنی سینسر ٹاور کے مطابق اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پینٹاگون کے ساتھ شراکت داری کی خبر سامنے آنے کے بعد چیٹ جی پی ٹی کی موبائل ایپ کو امریکا میں ہفتہ 28 فروری کو ایک ہی دن میں 295 فیصد سے زائد ان انسٹال کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ شرح گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایپ کی معمول کی یومیہ اَن انسٹالیشن کی شرح 9 فیصد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری کو ایپ کو ملنے والے ایک اسٹار ریویوز میں 775 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یکم مارچ کو اس میں مزید 100 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اسی عرصے کے دوران 5 اسٹار ریویوز میں 50 فیصد کمی دیکھی گئی۔

اس کے ساتھ ہی موبائل ایپ کو حذف کرنے کی شرح ایک ہی دن میں تقریباً تین گنا بڑھ گئی ہے۔

ٹیک کرنچ کی ایک رپورٹ کے مطابق صارفین متبادل کے طور پر اوپن اے آئی کی حریف اے آئی کمپنی انتھروپک کی جانب زیادہ رجحان دکھا رہے ہیں، جس نے مبینہ طور پر پینٹاگون کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدے کو اجتماعی نگرانی اور خودکار ہتھیاروں سے متعلق خدشات کی بنا پر مسترد کر دیا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق انتھروپک کے اے آئی چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ کی امریکا میں ڈاؤن لوڈنگ 27 فروری کو 37 فیصد اور 28 فروری کو 51 فیصد بڑھ گئی۔

ہفتہ کے روز یہ ایپ امریکی ایپل ایپ اسٹور میں پہلے نمبر پر پہنچ گئی اور پیر 2 مارچ تک اسی پوزیشن پر برقرار رہی۔

ایپ اینالیٹکس کمپنی کے مطابق ہفتے کے روز پہلی بار امریکا میں کلاڈ کی یومیہ ڈاؤن لوڈنگ چیٹ جی پی ٹی سے زیادہ رہی۔

دوسری جانب چیٹ جی پی ٹی کی ڈاؤن لوڈنگ 28 فروری کو 1 دن میں 13 فیصد کم ہو گئی اور یکم مارچ کو اس میں مزید کمی دیکھی گئی، حالانکہ معاہدے کے اعلان سے 1 دن قبل 27 فروری کو ایپ کی ڈاؤن لوڈنگ میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اسی دوران QuitGPT کے نام سے ایک آن لائن مہم بھی توجہ حاصل کر رہی ہے جس میں صارفین سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کی سبسکرپشن ختم کر دیں۔

ویب سائٹ پر درج ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ٹرمپ کے قاتل روبوٹ معاہدے کو قبول کر لیا ہے، اب اسے چھوڑنے کا وقت آ گیا ہے۔

مہم کی ویب سائٹ کے مطابق اب تک 15 لاکھ سے زائد صارفین اس بائیکاٹ میں شامل ہو چکے ہیں۔

اس مہم کے تحت صارفین کو چیٹ جی پی ٹی کے بجائے گوگل کے جیمنائی یا انتھروپک کے کلاڈ جیسے متبادل استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید