• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سحر میں زیادہ تاخیر اور افطار میں بہت جلدی کرنے کا حکم

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: نمازوں اور سحر و افطار کے اوقات کے لیے مختلف لوگ کلینڈر شائع کرتے ہیں، ایک ہی شہر کے اوقاتِ نماز اور سحر و افطار کے ان کلینڈرز میں ایک دو منٹ کا فرق ہوتا ہے، جب کہ لوگ سحری کے وقت آخری منٹ تک کھاتے پیتے ہیں، اور اسی کو مستحب سمجھتے ہیں، اسی طرح افطار کے وقت کلینڈر کے مطابق منٹ پورے ہوتے ہی روزہ افطار کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے دو باتوں کی وضاحت مطلوب ہے۔

:1. سحری تاخیر سے کرنا اور افطار جلد کرنا مستحب ہے، اس کا درست مفہوم کیا ہے؟ جب ایک ہی شہر کے کلینڈرز کے اوقات میں ایک آدھ منٹ کا فرق ہوتا ہے تو کیا احتیاط اس میں نہیں ہے کہ کلینڈر کے وقت سے کم از کم دو منٹ پہلے سحری موقوف کردی جائے، اور افطار بھی دو منٹ تاخیر سے کیا جائے؟

2. ایک ہی شہر کے اوقاتِ نماز کے کلینڈرز میں ایک دو منٹ کا فرق کیوں ہوتا ہے؟

جواب: واضح رہےکہ رسول اللہ ﷺ نے نمازوں اور سحر و افطار کے اوقات جاننے کے لیے ایسی علامات مقرر کی ہیں جن کا تعلق مشاہدے سے ہے، کھلے میدانوں اور دیہی علاقوں میں ان کا بخوبی مشاہدہ ہوسکتا ہے، مثلًا: افطار کا تعلق سورج غروب ہونے سے ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی نگاہوں سے افق میں سورج کو غروب ہوتا دیکھے تو اس شخص کو گھڑی دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ سورج مکمل غروب ہوتے ہی اسے افطار کرلینا چاہیے، تاہم شہروں میں عمارات اور مصنوعی روشنیوں کی وجہ سے ہر شخص کے لیے ان علامات کا مشاہدہ آسان نہیں ہے، لہٰذا مختلف اہلِ علم نے نمازوں اور سحر و افطار کے اوقات کے لیے نقشے مرتب کیے ہیں، اوقاتِ نماز اور سحر و افطار جاننے کے لیے مستند اداروں اور علماء کی طرف سے تصدیق شدہ کلینڈرز پر ہی اعتماد کرنا چاہیے۔

تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جواب یہ ہیں:1. احادیثِ مبارکہ میں سحری تاخیر سے کرنے کی ترغیب ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ رات کے ابتدائی یا درمیانی حصے میں سحری نہ کی جائے، بلکہ آخری پہر میں سحری کی جائے، جس کا معیار فقہائے کرام نے یہ بیان کیا ہے کہ رات کے اگر چھ حصے کیے جائیں تو آخری چھٹے حصے میں سحری کرنے سے استحباب حاصل ہوجائے گا۔ 

درحقیقت پچھلی شریعتوں اور اسلام کے ابتدائی زمانے میں یہ حکم تھا کہ جس نے روزہ رکھنا ہو وہ رات کو سونے سے پہلے ہی کھا پی کر سوجائے، ایک مرتبہ آنکھ لگ جانے کے بعد رات میں بیدار ہوکر سحری کی اجازت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے نہ صرف یہ نرمی اور سہولت پیدا فرمادی کہ رات میں بیدار ہوکر کھانے کی اجازت دی، بلکہ رات کے آخری پہر سحری مستحب قرار دے دی۔

سحری آخری وقت مستحب ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صبح صادق ہونے کے بعد بھی آدمی کھاتا پیتا رہے۔ احتیاط اس میں ہے کہ کلینڈر میں درج وقت سے ایک دو منٹ پہلے ہی سحری موقوف کردی جائے۔ 

 اسی طرح جن احادیث میں افطار میں جلدی کرنے کی ترغیب ہے، اس سے مراد سورج غروب ہونے کے بعد افطار میں جلدی کرنا ہے، لہٰذا اگر نقشے میں درج وقت سے ایک یا دو منٹ تاخیر سے افطار کی جائے تو یہ تاخیر نہیں کہلائے گی۔ 

اصل یہ ہے کہ اگر اپنی آنکھوں سے سورج غروب ہوتے ہوئے دیکھے تو فوراً افطار کرنا چاہیے، اس میں بالکل بھی تاخیر نہیں کرنا چاہیے، اور نقشے پر اعتماد کرے تو ایک آدھ منٹ تاخیر کی جاسکتی ہے۔

2.اگر ایک ہی شہر کے مختلف مصدقہ کیلینڈروں کے اوقات میں فرق ہو تو اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں: (1) شہروں میں غروبِ آفتاب، صبح صادق اور دیگر علامات کے حقیقی مشاہدے میں بہت معمولی (مثلاً ایک آدھ منٹ کا) فرق ہوسکتا ہے، اس لیے بعض حضرات احتیاطاً ایک آدھ منٹ تاخیر کا وقت درج کرتے ہیں، جب کہ بعض حضرات وہی وقت درج کردیتے ہیں جو انہوں نے مشاہدہ کیا۔

(2) بعض شہروں کے غیر معمولی پھیلاؤ کی وجہ سے ایک ہی شہر میں خط طول البلد کے اعتبار سے ایک سے تین منٹ تک فرق کا امکان رہتا ہے، مثلاً: کسی شہر کے مشرقی حصے کا طول البلد ایک ہے اور مغربی حصے کا طول البلد دوسرا ہے تو ان کے درمیانی علاقوں میں بھی معمولی سا فرق رہے گا۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید