• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شیخ صاحب میرے دیرینہ دوست ہیں ، اکبری منڈی کے آڑھتی ہیں ، بہت عبادت گزار ہیں، مگرعبادات کو خفیہ رکھنے کے قائل، چنانچہ کبھی ایسی بات نہیں کی جس سے انکے عبادت گزار ہونے کا شائبہ بھی گزر سکتا ہو ۔ گزشتہ روز میرے پاس تشریف لائےاور کہا پتہ نہیں کیسے لوگ ہیں جو ہر وقت خود کو پارسا بلکہ ولی اللہ ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ میں نے کبھی کسی پر ظاہر نہیں کیا کہ ماہ رمضان کے سارے روزے رکھتا ہوں ۔بس روزے کی وجہ سے منہ کی مہکتی بو سے لوگوں کو میرے روزے کا پتہ چلتا ہے۔ اسکے بعد انھوں نے بلا وجہ اپنا منہ میری جانب موڑا۔ میں نے کہا شیخ صاحب آپ بتائیں نہ بتائیں مجھے آپکے منہ کی بو سے پتہ چل گیا ہے کہ آپ کا روزہ ہے۔ اس پر فرمایا برادر کبھی کسی کا پردہ بھی رہنے دیا کرو۔ایک دن ان پر خشیت الہٰی بہت زیادہ طاری تھی، بہت دکھ سے کہنے لگے کیا فائدہ ایسی عبادت کا کہ عبادت بھی کرتے رہو، اپنے دو نمبر کاموں سے لوگوں کا جینا بھی حرام کر دو، میں نے عرض کی بجا فرماتے ہیں آپ، دیکھ لیں جب سے رمضان شروع ہوا ہے مسجدیں بھی بھری رہتی ہیں اور ذخیرہ اندوزوں اور بلیک مارکیٹ کرنیوالوںکے پیٹ بھی اپنی حدود سے باہر نکل آئے ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں دگنی تگنی ہوگئی ہیں۔ انھیں بالکل خدا کا خوف نہیں ، یہ سن کر کچھ گھبرا سے گئے، پیشانی پر پسینہ بھی آگیا۔ کہنے لگے میں تو اپنے آڑھتی بھائیوں سے کہتا رہتا ہوں کہ کیا تم نے قیامت کے روز خدا کو منہ نہیں دکھانا مگر وہ بے شرم جواب میں یہی بات مجھ سے کہتے ہیں۔ بندہ پوچھے تم یہ بات مجھے کیسے کہہ سکتے ہو۔ میں تو معمولی سا منافع لیتا ہوں اور رمضان المبارک میں قیمت خرید پر سامان فروخت کرتا ہوں۔

میں نے کہا شیخ صاحب آپ جیسے لوگ ہمارے ہاں کتنے ہیں۔ اللہ آپ کو اس کا اجر دے۔ اگر ہو سکے تو آپ اپنی شاپ کا نمبر مجھے دیں، میں اپنے علاقے کے سب پھل فروشوں اور سبزی فروشوں سے کہوں گا کہ وہ تھوک کی ساری خریداری صرف آپ سے کیا کریں۔ اس پر شیخ صاحب ایک دفعہ پھر گھبرائے اور کانپتی آواز میں کہا ” لے لیں مگر میں رمضان کا سارا مہینہ داتا صاحب کے قدموں میں گزارتا ہوں اور آخری عشرہ مدینہ منورہ میں بسر ہوتا ہے۔“جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ شیخ صاحب عبادات کو خدا اور بندے کے در میان راز و نیاز کہتے ہیں اور یوں کسی کو درمیان میں نہیں آنے دیتے، تاہم روزانہ صبح سویرےانکا میسج آتا ہے کہ تہجد اور فجر کی نماز کے بعد آپ اور آپ کے اہل خانہ کیلئے خصوصی دعائیں کی ہیں۔ ایک دن میں نے کہا : " شیخ صاحب آپ کی خفیہ عبادت کی اطلاع روزانہ آپ کے میسج سے مل جاتی ہے اس پر کہنے لگے " دراصل ایک ریا کار شخص مجھے روزانہ میسج بھیجتا ہے جو میں غلطی سے آپ کو فارورڈ کر دیتا ہوں گا ۔ اللہ میری اس نا کردہ خطا سے درگزر فرمائے" ۔ شیخ صاحب کے بڑے بیٹے کا ایک بہت بڑا مال ہے جس میں روز مرہ کی ہر چیز دستیاب ہے۔ وہ بھی شیخ صاحب کی طرح بہت عبادت گزار ہے۔ یہ بات مجھے آپ نے خود بتائی ہے۔ ایک دن کہنے لگے’’ بس اس میں ایک خرابی ہے۔ میرے ساتھ تراویح کیلئے بھی جاتا ہے مگر معمولی سا بھی بیمار ہو تو ناغہ کر دیتا ہے۔میں اسے کہتا ہوں شفا دینے والا اللہ ہے۔ شفا اسکے سامنے جھکنے ہی سے ملتی ہے۔ اللہ کرے اسکی سمجھ میں یہ بات آجائے ۔ ‘‘ میں نے عرض کی شیخ صاحب’’میں میڈیسن، ملبوسات ، اشیائے خورونوش سب اسکے مال سے خریدتا ہوں ۔ تین چار گنا سے زیادہ منافع لینے کا عفریت قوم کا جینا حرام کیے ہوئے ہے، یہی صورت حال آپکے صاحب زادے کے ہاں بھی نظر آتی ہے۔ آپ نیک آدمی ہیں، رزق حلال پر یقین رکھتے ہیں، اسے سمجھائیں کہ نا جائز منافع خوروں کو جہنم کے شعلے خس و خاشاک بنا کر رکھ دیں گے ‘‘ یہ سن کر شیخ صاحب نے کہا ” دراصل میرا بیٹا پورا سال گھر پر ہی یاد خدا میں مست رہتا ہے۔ کبھی کبھار اپنے مال کا چکر لگاتا ہے، یقیناً اس کے ملازمین اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔‘‘اور ہاں شیخ صاحب روزانہ کسی نہ کسی بزرگ کے نام کی نیاز دیتے ہیں، چنانچہ افطاری کے وقت وہ کبھی زردے کبھی پلاؤ کبھی قورمے، کبھی مٹن چنے کی تین چار پلیٹیں منگواتے ہیں اور ان پر فاتحہ پڑھ کر اہل خانہ کے ساتھ نوش فرماتے ہیں۔ ایک دن انھوں نے مجھے بھی نیاز کھانے کی دعوت دی۔ شیخ صاحب چونکہ اکثر نیازکی انواع و اقسام کا ذکر کرتے رہتے تھے چنانچہ میں اس سعادت سے بہرہ ور ہونے کیلئے انکے دولت کدے پر پہنچ گیا مگر قدرے تاخیر سے پہنچا۔ شیخ صاحب نے بہت آؤ بھگت کی ، سب اہل خانہ سے ملایا، میرے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنایا۔ آخر میں کہنے لگے ’’آپ تاخیر سے پہنچے، ہم اہل خانہ چونکہ آٹھ پہرے روزے سے تھے، چنانچہ آپکا انتظار نہیں کر سکے۔ مگر آپ نے پہلی دفعہ میرے غریب خانے پر قدم رنجہ فرمایا ہے ، اب آپ کو کھانا کھائے بغیر نہیں جانے دونگا۔ روزہ تو ظاہر ہے آپ نے رستے میں کھول لیا ہوگا۔ میں نے کہا ’’جی برادر اس پر انھوں نے اپنے ملازم کو بلایا اور کہا ” فریج میں سحری کا بچا جتنا بھی کھانا ہے وہ لاؤ اور دستر خوان سجا دو ‘‘۔ یہ سن کر فرط شرمندگی سے میرے آنسو نکل پڑے۔اور اب آخر میں حضرت ضمیر جعفری کی حسب حال نظم ”میں روزے سے ہوں“ ملاحظہ فرمائیں:

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار میں روزے سے ہوں

ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار میں روزے سے ہوں

ہر ایک شے سے کرب کا اظہار میں روزے سے ہوں

دو کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر

مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار ہمیں روزے سے ہوں

میں نے ہر فائل کی دُمچی پر یہ مصرع لکھ دیا

کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں

اے مری بیوی مرے رستے سے کچھ کترا کے چل

اے مرے بچو ذرا ہوشیار، میں روزے سے ہوں

شام کو بہرِ زیارت آ تو سکتا ہوں مگر

نوٹ کر لیں دوست رشتہ دار، میں روزے سے ہوں

تو یہ کہتا ہے کہ ہو جائے کوئی تازہ غزل

میں یہ کہتا ہوں کہ برخوردار میں روزے سے ہوں

تازہ ترین