• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وٹامنز انسانی صحت کے لئے لازمی اور ضروری تسلیم کیے جاتے ہیں۔ انسانی جسم کا فعال کردار مضبوط دیکھنے کی خواہش ہو یا نظام انہضام سے لے کر دل و دماغ، اعصاب و عضلات کی کارکردگی بہتر بنانی ہو وٹامنز کی تمام اقسام ضروری تصور کی جاتی ہیں۔

طبی ماہرین ضروری وٹامنز کے باقاعدہ استعمال کو انسان کی طویل عمر کی گارنٹی قرار دیتے ہیں۔ ان وٹامنز کا حصول کسی مشکل محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ قدرت کی عطا کردہ ان غذاؤں میں چھپا ہے جو انسان کو بآسانی دستیاب ہیں۔

ماہرین وٹامن کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ایک وہ جو چکنائی میں حل پذیر ہوتے ہیں مثلا وٹامن اے، ڈی، اور وٹامن کے وغیرہ جب کہ دوسری قسم ان وٹامنزکی ہے جو پانی میں حل ہوجاتے ہیں مثلا وٹامن سی اور وٹامن بی کی مختلف اقسام وغیرہ۔

وٹامن کی مختلف اقسام کا کردار مخصوص اور مختلف ہوتا ہے ان کا خاص فائدہ یہ ہے کہ ان کی زیادہ مقدار نقصان دہ نہیں ہوتی بلکہ مختلف بیماریوں میں معاون رہتی ہے۔ بنیادی طور پر انسانی جسم کو 20 میں سے تقریباً چھ وٹامن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی بھی بالغ انسان دن بھر میں چھ سو گرام غذا کھالیتا ہے۔

اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ غذا میں حیاتین کی وافر مقدار ہونے کے باوجود یہ جزو بدن نہیں ہوسکتی۔ اور اب سوال یہ ہے کہ یہ چھ وٹامن کن غذاؤں سے حاصل ہوتے ہیں تو آئیے بات کرتے ہیں ان غذاؤں کی جن میں ان ضروری وٹامن کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔

’’وٹامن اے ‘‘کے ذرائع

قوت مدافعت بڑھانے، بصارت کو تقویت پہنچانے اور جسمانی نشوونما کو بہتر بنانے میں وٹامن اے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ طبی ماہرین اس ضروری وٹامن کو غذائیت کا ایک بڑا مجموعہ کہتے ہیں۔ یہ ایک بہت تیزی سے گھلنے والا وٹامن ہے جو جسم کے بعض افعال میں مدد گار ہوتا ہے۔

اس کی کمی کیل، جھائیاں، بالوں کی خشکی، کمزوری، ناخنوں کے ٹوٹنے اور ان پر دراڑیں پڑنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ وٹامن اے کا حصول دو قدرتی ذرائع سے ممکن ہے پہلی قسم میں پہلے سے تیار وٹامن کا شمار کیا جاتا ہے اس میں گوشت، مچھلی، پولٹری اور دوسری ڈیری اشیاء شامل ہیں جبکہ دوسرے ذرائع کو متبادل حیاتین اے کہا جاتا ہے، جو پودوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جیسے پھل اور سبزیاں۔

تازہ پھل۔ پپیتا، تربوز، خوبانی، آم اور خربوز وغیرہ

سبزیاں۔ گاجر، سبز پتوں والی ترکاریاں، آم، شملہ مرچ، ٹماٹر اور میٹھے آلو میں بھی وٹامن اے کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ پتوں والی سبزیاں۔ پالک، ساگ سلاد، میتھی وغیرہ شامل ہیں۔

ڈیری اشیاء۔ دودھ، دہی، مکھن، لسی اور پنیر وغیرہ

جانوروں کی کلیجی انڈے اور گھی بھی وٹامن کا اہم ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔

جبکہ شیر خوار بچوں کے لئے دو سال تک ماں کا دودھ بھی اس وٹامن کے حصول کا ذریعہ ہیں۔

’’وٹامن بی‘‘ کے ذرائع

وٹامن بی پانی میں حل پذیر ہے۔ انسان کی مجموعی صحت کے لئے وٹامن بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی سکس، بی سیون اور بی 12 لازمی قرار دیاجاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق وٹامن بی میٹابولزم اور توانائی کے حصول سمیت مجموعی طور پر ہماری صحت کے لئے مفید قرار دیا جاتا ہے۔

اس کی کمی سے بھوک کی کمی، چکر خون کی گردش میں کمی، ہاتھ پاؤں میں سوئیاں چبھتی محسوس ہوتی ہیں۔ حصول کے ذرائع مندرجہ ذیل ہیں۔

٭کیلے

٭وٹامن بی کی سب سے زیادہ مقدار گندم، جو، دالوں اور اناج میں پائی جاتی ہے۔

٭ خشک میوہ جات، بادام ، پستہ، اخروٹ

٭ انڈے ، دودھ ٹراوٹ مچھلی، گوشت، کلیجی، چاول

٭سفید لوبیا، مختلف قسم کی پھلیاں، دالیں، سویابین، سورج مکھئ، بلیک بین

٭ سبز پتوں والی سبزیاں، گاجر اور مٹر وغیرہ

’’وٹامن سی ‘‘ کے ذرائع

وٹامن سی چہرے کی شادابی برقرار رکھنے، ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی، پانی اور خون میں شامل ہو کر بالوں، ناخنوں اور جلد کی نشو ونما میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔ وٹامن سی جلد میں جراثیم کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔ 

وٹامن سی پانی میں حل پذیر ہوتے ہیں اور80سینٹی گریڈ سے زیادہ پر ضایع ہوجاتے ہیں۔ اس کی وافر مقدار کولیجن فائبر بنانے میں مدد گار ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ جلد کو سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

تازہ پھل ۔ ترش پھل( مالٹا، سنگترے،چکوترا)، اسٹرابری، پپیتا، جیسے تازہ پھل وٹامن سی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

سبزیاں۔ سبز اور سرخ مرچ، بند گوبھی،

تازہ ترکاریوں اور گوشت میں بھی پائے جاتے ہیں۔

وٹا من ڈی اور اس کے ذرائع

وٹامن ڈ ی کیلشئم کو جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے اس کا یہ عمل انسانی ہڈیوں کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے۔ وٹامن ڈی کی مناسب مقدار نہ صرف مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے بلکہ کولون (بڑی آنت ) کے کینسر کی روک تھام میں بھی مدد دیتی ہے۔

جسم میں کیلشیم اور فاسفورس کی کیمیائی تحلیل اسی وٹامن کے ذریعے ہوتی ہے۔ روزانہ چار سو سے آٹھ سو ملی گرام ہمارے جسم کو درکار ہوتے ہیں۔

٭ دھوپ کی زرد شعاعیں ہمارے جسم پر پڑنے سے وٹامن ڈی پیدا ہوتا ہے۔

٭دودھ، دلیہ، انڈے کی زردی، مچھلی، مچھلی کا تیل اور مکھن۔

وٹامن ای اور اس کے ذرائع

وٹامن سی کی طرح، وٹامن ای ایک طاقتور اینٹی آکسائڈنٹ ہے جو انسان کے جسم کو انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ وٹامن ای خون کے سرخ خلیات کے علاوہ اعضاء اور پٹھوں کی مضبوطی کا باعث ہوتا ہے۔

امراضِ قلب اور کینسر کے خطرات کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ذیابطیس کی قسم دوئم میں بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔

٭ انڈے کی زردی، مونگ پھلی، زیتون کا تیل، سبزیوں کے تیل، روغن بادام،

٭سلاد، سویابین، بند گوبھی، آلو، گاجر،

چاکلیٹ اور خمیر

٭دودھ، مکھن، کلیجی، گردہ اور دل میں بھی موجود ہوتے ہیں۔

صحت سے مزید