• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افطاریوں کا سیزن ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ بہترین افطاری سے محروم ہیں تو یہ آپ کا قصور ہے۔ افطاری کرنا اور افطاری کھانا دو مختلف چیزیں ہیں جن لوگوں کو اس باریک فرق کا پتا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کہاں افطاری کرنی اور کہاں کھانی ہے۔ایک مسلمان بھائی کی حیثیت سے میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں آپ کو افطاری کھانے کے چند وہ نسخے بتاؤں جو میں نے آج تک اپنے لاکر میں چھپا کر رکھے ہوئے تھے۔ افطاری کے وقت ایسی شکل بنا لیں گویا آپ روزے سے بالکل ہی نڈھال ہوگئے ہیں۔ ہوسکے تو تھوڑا سا لڑکھڑاکر سنبھلنے کی کوشش بھی کریں۔اسکے دو فائدے ہوں گے ایک تو کنفرم ہوجائے گا کہ آپ روزے سے ہیں، دوسرے سب لوگ آپ کیلئے جگہ چھوڑ دیں گے تاہم اس دوران حد درجہ احتیاط کریں کہ آپ کے حلق سے ڈکار نہ نکلنے پائے۔عموماً افطاری میں سب سے پہلے دودھ سوڈا یا شربت پیش کیا جاتا ہے۔ لے لیں ...لیکن ذہن میں رہے کہ جونہی آپ نے شربت کا گلاس پیا آپ کے معدے کی گنجائش کم سے کم تر ہوتی چلی جائے گی۔بہتر طریقہ یہ ہے کہ جب میزبان گلاسوں میں شربت انڈیل رہے ہوں تو آپ نہایت ہوشیاری سے چٹنی والا برتن اپنی طرف سرکا لیں۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں سموسوں پکوڑوں کی بجائے چٹنی سرکانے پر کیوں زور دے رہا ہوں۔ اچھا سوال ہے۔ بات یہ ہے دوستو! سموسے پکوڑے تو پھر بھی مل جاتے ہیں، چٹنی بار بار نہیں ملتی۔اکثر ’افطار داروں‘ کا خیال ہے کہ بہترین جگہ حاصل کرنے کیلئےافطاری سے کم ازکم دو گھنٹے پہلے مقررہ جگہ پہنچ جانا چاہیے لیکن یہ کلیہ ناکام ہوچکا ہےکیونکہ اکثر ایسی صورت میں پلیٹیں اور دسترخوان بھی آپ ہی کو لگانا پڑتاہے۔ بیس منٹ پہلے پہنچنا کافی ہے۔روزانہ ایک ہی جگہ افطاری نہ کریں بلکہ آب و ہوا تبدیل کرتے رہیں اوراصول یاد رکھیں کہ آپ نے ہر افطاری آخری افطاری سمجھ کر کھانی ہے۔

٭ ٭ ٭

وطن عزیز میں اسپورٹس کی بیسیوں فیڈریشنز موجود ہیں جن میں کرکٹ کو چھوڑ کر ہاکی، فٹ بال،ا سکواش، بیڈ منٹن اورلگ بھگ ہر کھیل کی فیڈریشنز موجود ہیں۔یہ کیا کرتی ہیں۔ بظاہر کھلاڑی تیار کرتی ہیں اور مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کیلئے انہیں نامزد کرتی ہیں۔یہ پرائیویٹ فیڈریشنز ہوتی ہیں جنہیں پاکستان اسپورٹس بورڈ فنڈنگ کرتاہے۔

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ارشد ندیم کی جولین تھرو کے علاوہ ہم کسی کھیل میں کیوں کوئی مقام نہیں بنا پارہے؟ وجہ یہ ہے کہ اکثر فیڈریشنز صرف پیسہ کمانے کی مشینیں بنی ہوئی ہیں۔کروڑوں کے فنڈز، غیر ملکی دورے اور حساب کتاب کوئی نہیں۔پاکستان اسپورٹس بورڈ وزیرا عظم کو خط لکھ لکھ کر تھک گیا ہے کہ جو فیڈریشنز پیسوں کا حساب نہیں دے رہیں یا جعلی الیکشن کروا رہی ہیں انہیں بلیک لسٹ کیا جائے۔لیکن صورتحال یہ ہے کہ ملک کی بے شک بدنامی ہوجائے، ایسی فیڈریشنز کیخلاف کارروائی نہیں ہورہی۔نیا تماشا آپ سب نے دیکھ لیا ہوگا۔ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جن کھلاڑیوں کو آسٹریلیا بھیجا گیا تھا ان کی بکنگ بہترین ہوٹل میں ہوئی، پاکستان اسپورٹس بورڈ کی طرف سے ایک کروڑ کا چیک ایشو ہوا لیکن کھلاڑی خود چیخ پڑے کہ ہمیں بیہودہ رہائش گاہوں میں ٹھہرایا گیا اور سڑکوں پر دھکے کھانے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔مزید برآں مبینہ طور پر کھلاڑیوں کو زبان کھولنے پر دھمکیاں دی گئیں۔کہاں گیا ایک کروڑ؟ اسپورٹس بورڈ حساب مانگ رہا ہے اور جواب میں آئیں بائیں شائیں اور استعفے بازی ہورہی ہے۔ایکشن لینے کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے سو انہیں یہ اختیار فوری استعمال کرنا چاہیے ورنہ دھیرے دھیرے صرف فیڈریشنز رہ جائیں گی، کھیل ختم ہوجائیں گے۔

میں نے زندگی میں پہلی بار سینما 1987ءمیں دیکھا، ملتان کے کچہری چوک پر آنجہانی”انجمن سینما“ ہوا کرتا تھا۔ میرے ماموں کا بیٹا فلموں کا بڑا شوقین تھاوہی مجھے ”ورغلا“ کر سینمالے گیا جہاں میں نے ندیم اور بابرہ شریف کی ”مکھڑا“ دیکھی۔اُن دنوں سینما میں فلم دیکھنے والوں کو لفنگا سمجھا جاتاتھا اور اکثر لڑکوں کی منگنیاں بھی اسی لیے ٹوٹ جاتی تھیں کیونکہ لڑکی والوں کو پتا چل جاتا تھا کہ لڑکا تو اتنا بدمعاش ہے کہ سینماجاکر فلمیں دیکھتاہے۔فلم دیکھتے ہوئے اگر کوئی پکڑا جاتا تو والد گرامی بھی درگت بناتے اور محلے والے بھی قطع تعلق کر لیتے۔اُن دنوں کویتا، بابرہ شریف، انجمن، سنگیتا وغیرہ ہٹ ہیروئنیں شمارہوتی تھیں۔میں نے ”مکھڑا“ دیکھی تو اگلے ڈیڑھ ہفتے تک میرے خوابوں میں بابرہ شریف ہی آتی رہی اور آتی بھی گانا گاتے ہوئے تھی کہ ”میں ساری رات جاگاں گی میں ساری رات جگاواں گی۔“اُن دنوں وہی گانے مشہور ہوتے تھے جن کی شاعری بھی کمال کی ہوتی تھی۔احمد راہی‘ قتیل شفائی‘ منیر نیازی‘اور خواجہ پرویزکے گیتوں اور غزلوں نے دھوم مچا رکھی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سینما جانا معیوب سمجھا جاتا تھا جبکہ گھر میں وی سی آر لاکر فلمیں دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔وڈیو سنٹرز جا بجا کھلے ہوئے تھے جہاں سے سو روپے میں وی سی آر، ٹی وی اور چار فلمیں 12 گھنٹے کیلئے کرائے پر مل جاتی تھیں۔خاندان کے لڑکے بالے سائیکل پر وی سی آر اور چار کیسٹیں رکھ کر گھر لے آتے ،گھر کے صحن یا بڑے کمرے میں وی سی آر لگایا جاتا، بڑے چارپائیوں پر بیٹھ جاتے اور بچوںکیلئے نیچے دری یا چٹائی بچھا دی جاتی۔ ایک ”انجینئر“ لڑکا وی سی آرکا نگران مقرر کر دیا جاتا جو ہر دس منٹ بعدایک روپے کے نوٹ پر تھوڑا سا پٹرول لگا کر وی سی آر کا”ہیڈ“ صاف کرتا، ٹریکنگ کرتا اور اس بات کا دھیان رکھتا تھا کہ کس ”سین“ کو فاسٹ فارورڈ کرکے گزارنا ہے۔جو لڑکے وی سی آر کے ساتھ چار فلمیں لے کر آتے تھے وہ اکثر چھپا کر پانچویں فلم بھی لے آیا کرتے تھے۔ہائے کیا دور تھا۔

تازہ ترین