• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شیو کرنے کے عمل پر بہت عرصہ قبل میں نے ایک کالم لکھا تھا، مگر چونکہ اس عمل سے روزانہ گزرنا پڑتا ہے، لہٰذا جی تو یہ چاہتا ہے روزانہ اس پر کالم لکھوں ، مگر ظاہر ہے یہ ممکن نہیں۔ میرے لیے یہ عمل بہت تکلیف دہ ہے۔ یہ کوئی شرفا کا طریقہ نہیں کہ صبح صبح امن کا سفید پرچم لہرانے کی بجائے انسان ایک بلیڈ یا پانچ بلیڈوں والا سیفٹی ریزر ہوا میں لہرائے اور پھر چہرے کے بالوں کا قتل عام شروع کر دے۔ اس کے علاوہ یہ عمل مجھے دھوکہ دہی بھی لگتا ہے۔ بالوں کے قتل عام سے پہلے بالوں پر خوشبو دار شیونگ فوم سے ہلکا ہلکا مساج کرنا اور ان معصوم بالوں کو یہ تاثر دینا کہ ان سے اظہار محبت ہو رہا ہے اور اسکے بعد ہاتھ میں استرا پکڑ کر ان کا قلع قمع کر دینا، آخر کہاں کی شرافت ہے۔ مگر دوسری طرف یہ حالت ہے کہ جب تک شیو نہ کروں ، اس وقت تک ایک سستی سی چھائی رہتی ہے۔ کبھی یہاں جا بیٹھتا ہوں کبھی وہاں بیٹھ جاتا ہوں، کبھی دوبارہ بستر پر لیٹ کر کروٹیں لینے لگتا ہوں ، مگر جوں ہی شیو کرتا ہوں اس کے ساتھ ہی دنیا کا ہو جاتا ہوں اور اپنے معمول کے کام شروع کر دیتا ہوں جو ایک الگ عذاب ہے کہ روز ایک جیسا ہی کام کرنا، یہ تو ایک مشین کا ساعمل ہے۔ اس میں خود انسان کہاں ہے؟

تاہم یہ ایک الگ موضوع ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ گالوں کے بال اپنے قاتلوں کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ ہم جن کو بے دردی سے قتل کرتے ہیں وہ ایک بار پھر ہمارے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ مزاحمتی مخلوق ہے، یہ کشمیری ہے، یہ فلسطینی ہے، جمہوریت کیلئے قربانیاں دینے والے ہیں اور بنیادی انسانی حقوق کیلئے لڑنے والے طبقوں سے ان کا تعلق ہے۔ آپ انھیں جتنی بار چاہیں قتل کریں، انھیں غائب کر دیں مگر آپ ان کے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کر سکتے ۔ یہ ان پھولوں کی طرح ہیں جنھیں آپ نوچ لیتے ہیں لیکن اسی شاخ پر نئے پھول کھل رہے ہوتے ہیں ۔ اس طرح جب ہم ان بالوں کا قتل عام کرتے ہیں اگلے ہی روز ان کی نئی نسل آپ کے ظلم کا مقابلہ کرنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ کچھ اچھے لوگ اس ظلم سے بچنے کیلئے داڑھی رکھ لیتے ہیں مگر آپ داڑھی زیادہ سے زیادہ کتنی بڑھا سکتے ہیں، کتر بیونت یہاں بھی کرنا پڑتی ہے، استرے اور قینچی کا استعمال تو یہاں بھی ہوتا ہے۔ نہیں کریں گے تو تیز ہوا کے چلنے یا موٹر سائیکل پر سواری کے دوران آپ کی داڑھی دو حصوں میں بٹ جاتی ہے اور جھالر سی بن جاتی ہے۔ داڑھی رکھنے کی صورت میں معاشرہ آپ سے بہت سی توقعات بھی وابستہ کرلے گا، جس پر پورا اترنا اتنا آسان نہیں:

یہ شہادت گہہ اُلفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

دراصل یہ جو بال ہیں نا، یہ بہت ہی خطرناک مخلوق ہیں۔ خواہ چہرے کے ہوں یا سرکے دونوں صورتوں میں یہ آپ کا پیچھا کرتے ہیں۔ مثلاً یہ جو سر کے بال ہیں کبھی کبھی جوانی میں اور کبھی عمر ڈھلنے کے ساتھ سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ سمجھ دار لوگ انھیں سفید ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ کو یہ سفید بال بہت اچھے لگتے ہیں مگر اکثر کو ان سے کم عمر کے لوگ بھی بابا جی ، چاچا جی اور بزرگو وغیرہ کہنا شروع کر دیتے ہیں ، جس سے ان کا خون کھول اٹھتا ہے اور اپنا خون جلانے کی بجائے وہ بالوں کو رنگنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بالوں کی ایک اور چال ہے کہ وہ آپ کو ایکسپوژ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی اس خواہش کی تکمیل میں چہرے کی جھریاں اپنا مکمل کردار ادا کرتی ہیں اور یوں مصنوعی کلر اصلیت چھپانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ بالوں کے مزاحمتی کردار کا یہ ایک اور پہلو ہے۔ وہ انسان کو ویسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں جیسا وہ ہے ۔ انھیں چہروں پر چڑھے خول اچھے نہیں لگتے۔ یہ تو انسان کا بے ساختہ پن ما نگتے ہیں ، آج کا انسان یہ بے ساختہ پن کہاں سے لائے ۔ اس کو تو شیونگ کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ وہ اپنے دل کی بات بھی چھپا کر رکھتا ہے۔ اس نے کسی سے کچھ اور کسی دوسرے سے کچھ اور بات کرنا ہوتی ہے۔ اس کا کردار کسی کے سامنے کچھ اور کسی دوسرے کے سامنے کچھ اور ہوتا ہے۔بات لمبی ہوتی جارہی ہے اور مجھے یہ لگ رہا کہ آج کے دور میں بالوں کی اتنی تعریف و توصیف چنداں مناسب نہیں، کہ یہ مزاحمت کار بھی ہیں، منافقت بھی پسند نہیں کرتے۔

ہمیں آئینہ دکھاتے رہتے ہیں۔ خودمجھے بہت زہر لگتے ہیں کہ میں بھی انھی لوگوں میں سے ہوں جن کے خلاف یہ صف آرا ہیں۔ یہ میرا ہی حوصلہ ہے کہ اس کے باوجود میں نے انھیں اتنی لفٹ دی ہے۔ چلیں کل صبح ایک بار پھر ان سے حساب صاف کرلوں گا۔

تازہ ترین