• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جس وقت بنگلہ دیش میں طارق رحمان بنگلہ زبان میں وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھا رہے تھے ،اس وقت پاکستان میں بہت سے لوگ اسلئے خوش تھے کہ محترمہ حسینہ واجد کو طالب علموں کی تحریک کے نتیجے میں بھاگ کے بھارت کی پناہ میں جانا پڑا گویا جنرل ٹکا،جنرل نیازی،جنرل یحییٰ یا جنرل مانک شا کی ہزیمتوں اورفتوحات کو ابھی ساٹھ برس بھی نہیں گزرے کہ متوازی تاریخ کے صفحات کھل گئے ہیں۔ کتابیں،کالم آرہے ہیں وفود کے تبادلے ہو رہے ہیں انجمن ترقی اردو پاکستان کا ایک وفد وہاں سے ہو آیا ،ممکن ہے وہاں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ڈاکٹر عندلیب شادانی اور ڈاکٹر نظیر صدیقی کی تصاویر بھی آویزاں ہو جائیں یا انکے افرادِ خانہ کو کچھ واجبات(پنشن وغیرہ) بھی مل جائیں مگر تاریخ سے سبق بھی سیکھنا چاہئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بنگالی زبان،ادب،فنونِ لطیف اور تاریخ کا شعور رکھنے والےکسی مدبرکو وہاں سفیر بنائیں،اگر وہ خاتون ہیں تو ان کے رفیقِ حیات میں یہ صلاحیت ہو کہ دونوں روانی سے بنگالی بول سکتے ہوں اور سہولت سے لکھ سکتے ہوں۔ بے شک دونوں ملکوں میں تجارت،دفاعِ ،مواصلات اور سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اس وقت ہمارے پاس فیض تو ہیں نہیں کہ نذرل اپنی خود فراموشی میں بھی پہچان لیتے کہ ایک اور باغی،یا ودھروہی یا بدھروئی آیا ہے اس لئے طارق محمود، اظہار الحق اور خواجہ محمد علقمہ کی مشاورت سے فاطمہ حسن یا نجیبہ عارف کو سفارت کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔اصل میں ترکیہ میں پہلے سفیر میاں بشیر احمد تھے جو اپنی بیگم گیتی آرا کے ساتھ وہاں گئے،میاں صاحب ہمایوں کے مدیر تھے جس کے اوراق میں ترک ادبیات کے تراجم شائع ہوتے تھے اور یہ لاہوری جوڑا جنگِ بلقان میں ترکوں کے لئے عطیات جمع کرتا رہا اور تحریکِ پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا،اس لئے سفارت کے بعد انہوں نے بہت فعال کردار ادا کیا۔ انقرہ،استنبول(بعد میں قونیہ ) کی یونیورسٹیوں میں اردو زبان کی تدریس کے لئے اردو چیئرز کے قیام میں بھی ان کی کوششوں کا بہت دخل ہے۔ گویا بابووں کی بجائے بڑی ادبی شخصیتوں کوبطور سفیر بھیجنا مفید ہو سکتا ہے ۔اب یہ اور بات ہے کہ کچھ بابو فضل احمد کریم فضلی جیسے بھی ہو سکتے ہیں جن کا ناول’’خونِ جگر ہونے تک‘‘کئی عشروں تک جامعات میں پڑھایا جاتا رہا کہ تب تک اردو فکشن میں پاکستان کے مشرقی حصے کی معاشرت اور وہاں چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں اور قلیوں سے اپنوں کی بد سلوکی کا یہ درد ناک مرقع سمجھا جاتا تھا۔بعد میں فضلی صاحب نے اس ناول کو ’چراغ جلتا رہا ‘ کے نام سے فلمایا بھی۔انہیں سرکاری سرپرستی بھی حاصل رہی۔اب ماجرا یہ ہے کہ معاملے کا ایک رُخ بہاریوں سے تعلق رکھتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ وہ سائیکل رکشا چلانے والے محنت کش تھے مگر رفتہ رفتہ پولیس حکام،انتظامیہ کے تعاون کو خریدتے گئے اور وہاں کی ٹرانسپورٹ پر چھا گئے۔ہمیں زخموں کو کریدنے کی ضرورت نہیں پھر بھی یہ واقعہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے دو لخت ہونے پر چاہا کہ وہ مغربی پاکستان میں آ جائیں۔سعودی عرب اور کچھ ممالک نے امداد بھی دی کہ وہاں کے کیمپوں سے نکل کر ایک اور ہجرت کریں اب اس معاملے کا تعلق کراچی میں بہاریوں کی منتقلی اور یہاں پٹھانوں سے ان کے تصادم کی بات ہوگی ۔الطاف حسن قریشی نے جب مشرقی پاکستان کے امنڈتے طوفانوں میں محبت کے زمزمے سنے تھے ویسے ایم کیو ایم کے قائد یعنی الطاف بھائی نے انہیں اپنی حقیقی قوت قرار دیا۔تب مشرقی پاکستان کے بارے میں بہاری مصنفین نے جو کچھ لکھا اس کا بیشتر حصہ جذبات انگیزی اور یک رخی تعبیرِ تاریخ ہے اس لئے انہیں بنگلہ دیش کے حقیقی معاشرت نگار نہیں کہہ سکتے ۔ان میں الطاف فاطمہ،ام عمارہ جیسے بڑے ہیں مگر ان میں کوئی قرۃالعین حیدر تو نہیں تھیں۔ اس لئے ہمارے سفیر محترم اور وزیر اعظم کا کام آسان نہیں۔یہ نہ ہو کہ زخموں پر پھاہے رکھے جائیں تو وہ روئی کے گالے ثابت ہوں۔ ہاں ایک آئیڈیا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مستنصر حسین تارڑ سے کہا جائے اے پاکستان کے سب سے بڑے قصہ طراز!باغِ جناح میں برگد کے پیڑ تلے بیٹھ کے جو نروان آپ کو ملنا تھا وہ مل چکا آپ ڈھاکہ یونیورسٹی کے سامنے کےایک کٹھل کے درخت کے نیچے قصے کا الائو جلائیں۔ کہیں نہ کہیں سے کوئی ناری انہیں ناریل کا مشروب پلاتی رہے گی ۔ وہاں کے لوگ ان سے واقف ہوں وہ یونیورسٹی کے اندر لے جائیں وہاں ہم مغربی پاکستانیوں کی غلطیوں کی کچھ یادگاریں بنی ہوئی ہیں۔جگن ناتھ ہوسٹل کے اندر ایکشن کی اور سب سے درد ناک چودہ دسمبر کو جس بے دردی سے شاعروں ادیبوں اور صحافیوں کو مارا گیا ۔ہمارے قصہ گو کے پاس ایک اسلوب ہے معلومات ہیں جہاں گرد کاتجربہ ہے وہ ایسا پیرایہ اختیار کر سکتے ہیں کہ زخم مندمل ہونے لگیں خون کے دھبے دھلنے لگیں۔وہ اپنے ساتھ ایسے مقتول ادیب شہیداللہ قیصر کا وہ ترجمہ لے جائیں جو سعیدہ گزدر نے کیا تھا ایسے ہی تراجم احمد سلیم نے کئے۔مسعود اشعر،فہمیدہ ریاض،کشور ناہید ، ،طارق محمود اور کئی ایسے لوگوں نے اظہار کی بعض پابندیوں کے باوجود اپنی تخلیقات سے تب مشرقی پاکستان کے لوگوں سے اظہار یگانگت کیا تھا۔ یہ باتیں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ ابھی کل ہی ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بطور صدر نشیں اکادمی ادبیات پاکستان بنگلہ دیش حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں ادیبوں کے وفد جائیں گے آئیں گے مگر اس سے بڑھ کے کچھ ہونا چاہئے ۔ بنگالی زبان ہمارے کالجوں،اسکولوں میں پڑھائی جانی چاہئے۔ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کی حلف برداری کے موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم کی نمائندگی احسن اقبال نے کی ہے انہوں نے اچھا کیا کہ اس موقع پر نامور اداکارہ شبنم سے ملاقات کی۔ ترکی زبان کے ارطغرل کی طرح بنگال کی مقبول فلموں اور ڈراموں کو دکھایا جانا چاہئے۔مسعود اشعر نے اپنے ایک افسانے میں بنگال کے مانجھی کو نذرالاسلام کا گیت گاتے دکھایا تھا’بیلا نئیں رے۔ جولدی جولدی‘ اسی صدا کو سرمدی سمجھنا چاہئے۔

تازہ ترین