• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ممکن ہے کہ ٹی 20کے دوسرے رائونڈ کے میچوں میں آپ بھی اس انگلستان سے ہماری شکست پر دل برداشتہ ہوں جس نے اپنی سابقہ کالونی کے ممالک میں فٹبال یا ہاکی کی بجائے کرکٹ کا چسکا پیدا کیا اور ہمیں ہی شکست دیدی ۔یہی نہیں ممکن ہے کہ آپ بھی اس میچ میں بارش کی عدم مداخلت سے افسردہ ہوں مگر سچی بات ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کی بیگم نے سوشل میڈیا پر جو درد ناک میسج دیا ہے کہ’ آپ میرے معصوم بچوں کو مار دینے کی دھمکی دے رہے ہیں‘ جس سے بہت دکھ ہوا ہے،اس میں شک نہیں کہ ماضی میں ہمارے پاس بہت اچھے کرکٹر آئے اور کپتان بھی تاہم ہمیں کئی مرتبہ شکست ہوئی تب مجھے یاد ہے اس شکست پر اخبارات میں کارٹون چھپتے تھےاور طنزیہ کالم بھی لکھے جاتے تھے مگر مرنے مارنے کی باتیں نہیں ہوتی تھیں۔ ہم سب کو یاد ہے کہ غریبوں کے کوچے سے آنے والے جاوید میاں داد کی کپتانی کے خلاف بہت پڑھے لکھے اور مہذب یعنی کہ انگلستانی لہجے میں انگریزی بولنے والے کیسے بغاوت کرتے رہے،کیا ضروری ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے؟ یا یہ بھی کہ پاکستان کے نامور بائیس گھرانوں میں سے ایک کی خوبصورت لڑکی نے میاں داد سے شادی کی تو حسد کے مارےساتھیوں نےکیا کیا باتیں نہ کیں مگر میاں داد کا بلّا سبھی کو جواب دیتا رہا گویا ہم جنہیں پبلک پراپرٹی سمجھتے ہیں ان سے پیار بھی کرتے ہیں اورپھرکچھ نہ کچھ زہر فشانی بھی اور یہ ماجرا صرف کرکٹروں تک محدود نہیں ہمارے لیڈر بھی اس کی زد میں آتے رہے ہیں اسی لئے تاریخ( جسے ضیا الحق دور میں پاکستان اسٹڈیز بنا دیا گیا) کے محتاط استاد ہمیں کہتے رہے کہ ہمارے بابائے قوم محمد علی جناح سے زندگی نے وفا نہ کی ان کے بعد تمام خرابیاں آئیں مگر ان کی پسندیدہ خوراک یا مشروبات کی کسی نے بات نہ کی حتیٰ کہ ان کے پالتو کتوں کا بھی ذکر یا رقص و موسیقی سے ان کی رغبت کا ذکر بھی بہت سے لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے۔

میں ایک غریب اردو زبان کا مدرس جسے مئی اکہتر میں گورنمٹ کالج کوئٹہ کا پڑھانے کا موقع ملا تو میں نے پرنس روڈ پر لال کباب دکان بھی دیکھی جہاں آغا محمد یحییٰ خان نے مبینہ طور پر محمد علی جناح کی تصویر والا کیلنڈر پھاڑا تھا تو میں اس کا سبب جاننا چاہتا تھا تب مجھے تاریخ کے ہی ایک استاد نے بتایا تھا کہ نسیم حجازی کے مداح نے ایک رنگین کیلنڈر بنایا تھا جس میں ہمارے سیکولر مزاج کے قائد کو گھوڑے پر بٹھا کران کےہاتھ میں ایک جھنڈا بھی تھما دیا تھا۔

محمد علی جناح کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں زیادہ تر نے انہیں بہت اچھا وکیل ،دیانت دار اور بااصول شخص لکھا ہے ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے والد معاشی مشکلات میں گھرے تو نوعمری میں انہیں اپنے ایک دوست کے پاس بھیج دیا کہ اسے بیرسٹر بنائو۔ آپ سب نے پڑھا ہو گا کہ ان کا لہجہ،آواز اوراداکاری سے شغف انہیں اس تھیٹریکل کمپنی کے قریب لایا جس نے شیکسپیئر کے بعض اسٹیج ڈراموں میں انہیں کردار کی پیشکش کی تاہم ان کے والد کا ایک فہمائشی خط ان کے سوانح نگار ریکارڈ پر لائے ہیں بعد کے اہم واقعات سے ہم آپ واقف ہیں اور پھر جب بمبئی کے قیام میں ایک بہت متمول پارسی دوست سر ڈنشا مانیک جی پٹیٹ کی کم عمر خوبصورت بیٹی رتن بائی رتی کو ان سے پیار ہوا ،بات باہر نکلی تو عدالت سے حکمِ امتناعی آیا کہ جب تک رتی اٹھارہ برس کی نہ ہو جناح اس سے نہیں مل سکتے تب جناح وقتی طور پر ایک قدم پیچھے ہٹ گئے مگر یہ پابندی دو دلوں میں محبت کے شعلے کو ہوا دے گئی اور پھر جب بیس فروری سن انیس سو اٹھارہ کو ڈنشا خاندان رتی کی اٹھارہویں سال گرہ اپنے ملکیتی ہوٹل تاج میں منا رہا تھا تو جناح سال گرہ کی اس تقریب میں شریک ہوئے اور رتی کے آنسوئوں اور تمتماتے گالوں نے اس قصے کو افشا کر دیا اور پھر دو ماہ کے اندر رتی کا اسلامی نام مریم رکھا گیا اورمحمد علی جناح سے شادی ہوگئی۔اس شادی میں جناح کی چار بہنیں شریک تھیں مگر دلہن کو پہنانے والی انگوٹھی کا کسی کوخیال نہ آیا تو جناح کے دوست راجہ صاحب محمود آباد نے اپنے ہاتھ میں پہنی ہیرے کی انگوٹھی اتار کے دے دی تاہم یہ کوئی روایتی فلمی کہانی نہیں تھی کہ ہیرو ہیروین کے ملاپ اور ایک برس کے بعد ایک بچی دینا کی پیدائش کے بعد قصہ اس روایتی فقرے پر ختم ہو جاتا کہ دونوں بلکہ تینوں ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے بلکہ حقیقت میں دونوں کی عمر اور مزاج کے ساتھ ترجیحات کے فرق نے ایک الم ناک کہانی کو جنم دیا ۔ ان واقعات کو زیف سید نے کمال مہارت سے دو سو چھیاسی صفحات کے ایک غیر معمولی ناول ’’رتی‘‘ میں ڈھال دیا جسے اسی برس کے فروری میں شائع کیا گیا ہے۔بظاہر بہت کچھ معلوم ہے عام پاکستانی کو بھی اس کہانی کے بارے میں مگر اجازت دیں کہ میں اس ناول کے انتساب کے ساتھ دوتین باتیں کتاب میں سے نقل کروں۔ انتساب رتی کے جناح کے نام مطبوعہ خط کا ہی ایک فقرہ ہے’’اگر میں تم سے کچھ کم پیار کرتی تو میں تمہارے ساتھ ہی رہتی‘‘ ۔

(Had I loved you just a little less, I might have remained with you)

’’صاحب جو پہلےاکڑوں بیٹھے ہوئے تھے اب اپنے قیمتی سوٹ کی پروا کئے بغیر مٹی پر گھٹنوں کے بل دھپ سے ڈھے گئے جیسے ان کی ٹانگیں ان کا بوجھ نہیں سنبھال پا رہیں۔ان کے گلے سے ایک نحیف سی آواز نکلی،ایک ہچکی،ایک آہ،ایک پکار،داود بھائی، چھاگلہ صاحب اور دوسرے لوگوں نے انہیں پکڑنے اور سنبھالنے کی کوشش کی مگر صاحب نے خود کو اپنےانسانی جذبوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا،شاید زندگی میں پہلی بار شاید زندگی میں آخری باریہ رتی کی تدفین کا منظر ہے وہ واحد لڑکی جو ان کو ’ جے‘ کہتی تھی اور جناح کی آنکھوں میں چمک آ جاتی تھی۔

تازہ ترین