آج کی جدید دنیا میں جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں وہیں ان سہولتوں کے بے دریغ استعمال نے ہمارے ماحول کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ فریج، ایئرکنڈیشنرز اور دیگر مشینوںکے استعمال سے خارج ہونے والی کلورو فلورو کاربن (CFCs) جیسی زہریلی گیسیں فضا میں شامل ہو کر ماحول کے قدرتی توازن کو متاثر کر رہی ہیں۔ ان گیسوں کے نتیجے میں اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچتاہے جو دراصل آکسیجن کے تین ایٹموں (O3) پر مشتمل ایک حفاظتی ڈھال ہے اور سورج کی مضر الٹرا وائلٹ شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔جب اوزون کی تہہ کمزور ہوتی ہے تو سورج کی خطرناک شعاعیں براہِ راست زمین تک پہنچنے لگتی ہیں جسکے نتیجے میں جلد کا کینسر، آنکھوں کی بیماریاں جیسے موتیا، پودوں کی نشوونما میں کمی اور انسانی صحت سے متعلق دیگر سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے جسکے باعث گلیشیر تیزی سے پگھلنے لگتے ہیں، سمندر کی سطح بلند ہوتی ہے، شدید بارشیں اور تباہ کن سیلاب آتے ہیں اور خوراک کی قلت جیسے خطرناک مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب آلودگی سمندروں میں شامل ہوتی ہے تو آبی حیات بھی شدید متاثر ہوتی ہے اور کئی انواع معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو جاتی ہیں۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی آلودگی کے باعث شدید نقصانات برداشت کر رہے ہیں۔ اسموگ جو خاص طور پر سردیوں میں شدت اختیار کر لیتی ہے، نہ صرف انسانی صحت کیلئے خطرناک ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو ماحولیاتی آلودگی کے باعث سالانہ تقریباً 38 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جس میں سیلاب، فصلوں کی تباہی اور صحت کے اخراجات شامل ہیں۔اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سیکنڈمیں ایک فٹ بال گراؤنڈ کے برابر جنگلات ختم ہو رہے ہیں جبکہ ہر شخص کوO2 کے ذریعے زندہ رہنے کیلئے ایک فٹ بال گرائونڈ کے برابر ہریالی کی ضرورت ہے ۔دنیا بھر میں کسی بھی ملک کے رقبہ کا کم از کم 25فیصد جنگلات پر مشتمل ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں 4 سے5 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ درخت نہ صرف ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں بلکہ ماحول کو صاف رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے،خوراک مہیا کرنے اور قدرتی آفات سے بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی کی دیگر وجوہات میں صنعتی فضلہ، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، ناقص سیوریج نظام، زرعی ادویات، پلاسٹک کا بے تحاشہ استعمال اور غیر معیاری ایندھن شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں اور انسانی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔اس سنگین صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ سب سے پہلے ایک باصلاحیت، ذمہ دار اور ماحول دوست وزیر ماحولیات کا تقرر کیا جائے اور اس شعبے کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا جائے۔ صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے مؤثر نظام قائم کیے جائیں، گاڑیوں کےدھوئیں کے اخراج پر سخت قوانین نافذ کیے جائیں اور صاف ایندھن کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے، شجرکاری کو قومی مہم بنایا جائے۔ اگر ہر شہری سال میں کم از کم ایک درخت بھی لگائے تو ہم کروڑوں درخت اگا سکتے ہیں جو ماحول کی بہتری میں اہم کردار ادا کریں گے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے بھرپور مہم چلائے اور ماحولیاتی تحفظ کو قومی ترجیح بنایا جائے۔1987ء کے مونٹریال معاہدے میں دنیا بھر کے ممالک نے اوزون کی تہہ کے تحفظ کا عہد کیا تھا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اس معاہدے کی روح کے مطابق اقدامات کریں اور اپنے ماحول کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔گزشتہ دنوں مجھے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور رائزنگ موومنٹ پاکستان کے تعاون سے منعقد ہونے والی ایک ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جہاں ماہرین نے ماحولیاتی آلودگی کی وجوہات اور اس کے حل پر تفصیلی گفتگو کی۔ جب مجھے اظہار خیال کا موقع ملا تو میں نے کہا کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اور بے قابو آبادی جیسے مسائل کو وہ سنجیدگی نہیں دی گئی جس کے وہ مستحق تھے اور ہمیشہ ایسے لوگوں کو ان محکموں کی وزارت سونپی گئی جو نہ اس شعبہ سے واقف تھے اور نہ ہی ان کو محکموں میں کام کرنے کا شوق تھااور وہ اس بات پر خوش رہے کہ ہم وفاقی اور صوبائی وزیر بن گئے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلوں کو ایک آلودہ، خطرناک اور ناقابلِ رہائش دنیا ورثے میں ملے گی۔آخرکار، یہ حقیقت ہے کہ ماحولیاتی تحفظ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم سب مل کر اپنے ماحول کی حفاظت کریں، درخت لگائیں، آلودگی کم کریں اور قدرتی وسائل کا دانشمندی سے استعمال کریں تو ہم ایک صاف، صحت مند اور محفوظ مستقبل کو یقینی بنا سکتے ہیں۔