• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد میں منتخب علاقائی حکومت قائم کرنے کیلئے جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک منتخب علاقائی حکومت قائم کرنے کے لیے جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس کے تحت اسلام آباد میں وزیر اعلیٰ یا میئر سربراہ ہوگا، 27 رکنی اسمبلی قائم کی جائیگی، اسلام آباد کو صوبائی حکومتوں کی طرح انتظامی اور مالی خودمختاری حاصل ہوگی تاہم اِس کی وفاقی حیثیت بھی برقرار رہے گی۔ 

اِس مجوزہ منصوبے کا موازنہ دنیا کے مختلف دارالحکومتوں کے انتظامی ماڈلز سے کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اسلام آباد باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے ملک کے انتظامی مرکز کے طور پر قائم ہوا تھا، لیکن اب اس کی آبادی 24 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ 

ایک نئی اصلاحاتی رپورٹ میں 27 رکنی منتخب اسمبلی، وزیرِاعلیٰ یا میئر کے عہدے اور بلدیاتی و ترقیاتی اختیارات وفاق سے مقامی حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دنیا کے دیگر دارالحکومتوں کے ماڈلز اس حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ 

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں منتخب اسمبلی اور وزیرِاعلیٰ موجود ہیں، لیکن پولیس اور اراضی جیسے اہم اختیارات وفاق کے پاس ہیں، جس کے باعث اختیارات کا تنازع، امن و امان اور جوابدہی کے مسائل برقرار رہتے ہیں۔ 

اُدھر بیلجیم کے دارالحکومت برسلز کو علاقائی منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ اور ثقافت سمیت وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ اس ماڈل سے ظاہر ہوتا ہے کہ واضح آئینی اور قانونی حیثیت مقامی حکومت کو مؤثر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ آسٹریا کے ویانا اور جرمنی کے برلن جیسے 'سٹی اسٹیٹ' ماڈلز میں مقامی حکومتوں کو پولیس، تعلیم، رہائش اور مالیات سمیت جامع اختیارات حاصل ہیں۔ 

اختیارات کی عدم مرکزیت سے فیصلہ سازی تیز ہوتی ہے، شہری منصوبہ بندی زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے اور عوامی جوابدہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اگرچہ منتخب میئر اور کونسل موجود ہیں، لیکن حتمی اختیار کانگریس کے پاس ہے۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ مقامی قیادت اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک اسے مناسب قانونی اور مالی خودمختاری حاصل نہ ہو۔ 

فرانس کے دارالحکومت پیرس اور لندن میں انتظامی ارتقا، وفاقی حیثیت کے بجائے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ذریعے ہوا ہے، جس نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنایا ہے۔ 

یہ تجربات بتاتے ہیں کہ واضح اختیارات اور مالی وسائل کے ساتھ منتخب شہری حکومت بہتر منصوبہ بندی اور خدمات کی فراہمی یقینی بنا سکتی ہے۔ ان تمام مثالوں سے تین بنیادی نکات سامنے آتے ہیں۔ اختیارات کی واضح تقسیم، مالی خودمختاری اور ایسا انتظامی ڈھانچہ جو اداروں کے درمیان اختیارات کے تصادم کو کم سے کم کرے۔

قومی خبریں سے مزید