امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امیگریشن پالیسیوں سے متعلقہ اہم بل منظور کرلیا۔
بل کی منظوری کے بعد محکمہ داخلی سلامتی کو اضافی 70 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے، رقم بنیادی طور پر بارڈر پٹرولنگ کارروائیوں، خصوصاً تارکین وطن کی گرفتاری و ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کےلیے استعمال ہوگی۔
صدر ٹرمپ کی پالیسی سے متعلقہ یہ اہم بل 47 کے مقابلے میں 52 ووٹوں سے منظور ہوا ہے، تمام ڈیموکریٹس نے مخالفت کی جبکہ ایک ری پبلکن نے بھی اس کے خلاف ووٹ دیا۔
بل کا مقصد غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں اور ملک بدری مہم کو مضبوط بنانا ہے، یہ فنڈنگ آئندہ 3 سال کے اخراجات پورے کرے گی۔
امریکی سینیٹ میں سب سے زیادہ تنازع 1 اعشاریہ 8 ارب ڈالر کے ’اینٹی ویپنائزیشن فنڈ‘ پر رہا، جسے ناقدین ٹرمپ کے سیاسی حامیوں کے لیے ممکنہ معاوضہ فنڈ قرار دیتے ہیں۔
اس فنڈ کا مبینہ مقصد ایسے افراد کو معاوضہ دینا ہے، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت نے سیاسی بنیادوں پر ان کے ساتھ زیادتی کی جبکہ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ ٹرمپ کے سیاسی اتحادیوں کےلیے ’سیاسی فنڈ ‘ بن سکتا ہے۔
ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن سینیٹرز نے اس فنڈ کو ختم کرنے کی کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے، بعض سینیٹرز کا کہنا ہے کہ یہ فنڈ کانگریش کے اختیارات اور امریکی آئینی نظام کےلیے خطرہ بن سکتا۔
اس ووٹنگ نے ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات کو نمایاں کیا کیونکہ کئی ریپبلکن سینیٹرز آئندہ وسط مدتی انتخابات کے پیشِ نظر اس فنڈ سے سیاسی نقصان کے خدشات رکھتے ہیں، اب یہ بل حتمی منظوری کے لیے امریکی ایوانِ نمائندگان میں جائے گا۔