• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشرے کے غریب، کم وسیلہ اور نادار افراد کی مدد کرنا ہر ملک اور معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن اس میں ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ یہ امداد کس انداز اور کس احترام کیساتھ پہنچائی جائے۔ ہمارے لوگ اکثر تنقید کرتے ہیں کہ مستحقین کی امداد کیلئے تصاویر کھنچوائی جاتی ہیں لیکن اب اچھی بات یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس منفی روایت کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا ہے اور اس کے بجائے جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے نقد مالی رقم کی مستحقین کے اکاؤنٹس میں براہ راست منتقلی کا آغاز ہو گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف خادم پنجاب سے اب خادم پاکستان بن چکے ہیں ۔ وہ دلیرانہ اور آؤٹ آف باکس حل دینے کیلئے مشہور ہیں۔ پی ڈبلیو ڈی جیسے کرپشن کے گڑھ مشہور ادارے کو ختم کرنے کے بعد، وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن سے بھی نجات دلا دی ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن غریب اور سفید پوش طبقات کو رعایتی قیمت پر اشیاء کی فراہمی کیلئے بنایا گیا تھا لیکن یہ کرپشن اور لوٹ مار کا اڈہ بن گیا۔ آئے روز اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں یہاں سے آنے والی کرپشن، بدعنوانی کی کہانیاں اور عوام کی توہین کے واقعات حکومتی بدنامی کا ذریعہ بنتے تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جب کرپشن کے اس گڑھ کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا تو احتجاج، تنقید اور مخالفت میں آوازیں اٹھیں لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ ختم ہوتی چلی گئیں کیونکہ اُن میں صداقت، دیانت اور مقصد کی سچائی نہیں تھی ۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کئی دہائیوں سے موجود تھے۔ لوگ اپنے قریبی اسٹور کا پتہ جانتے تھے، چاہے شیلف آدھے خالی ہوں اور آٹا پرانا ہو۔ سیاستدان ہر رمضان سے پہلے یوٹیلیٹی اسٹورز آؤٹ لیٹس پر فیتہ کاٹ کر اپنی تشہیر کر لیتے تھے۔ اس ماحول میں ایک ایسے رہنما کی ضرورت تھی جو فوری فوائد اور مقبولیت کے خوف سے باہر نکل کر قوم کے طویل مدتی فائدے کو دیکھے اور ایک ایسا نظام بنائے جس میں فائدہ صرف مستحق تک پہنچے اور درمیان میں بالائی کھانے والوں سے نجات مل سکے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے یہی کیا۔

رواں برس کے برکتوں، رحمتوں اور عبادات کے ماہِ رمضان میں وزیراعظم شہباز شریف کے اقدامات کے نتائج خود بول رہے ہیں۔ رمضان ریلیف پیکیج معاشرے کے کمزور ترین اور مستحق ترین افراد میں نقدم رقم تقسیم کرنےکے تقریباً 40 ارب روپے کے پروگرام میں تبدیل ہو چکا ہے جس سے ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد خاندان فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت ہر مستحق گھرانے کو 13 ہزار روپے کی رقم ڈیجیٹل والیٹ (یعنی ڈیجیٹل بٹوے) یا بینک اکاؤنٹ کے ذریعے براہ راست دی جاتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مستحقین کو قطاروں میں کھڑے ہونے سے نجات دی لہٰذا تصویر کا چکر بھی ختم ہو گیا۔ نہ درمیان میں کوئی ایسا فر در ہا جو ان غریبوں کی رقم میں سے خود ہڑپ کرلے، کوئی کٹوتی کرلے، ادھر ایک بٹن دبا اور اُدھر رقم ہرمستحق پاکستانی کو پہنچ گئی۔ رمضان پیکیج کی تقسیم کا یہ جدید نظام محض عارضی اقدام یا انتظام نہیں بلکہ یہ سرکاری سطح پر عوام کی سماجی خدمت کے پورے ڈھانچےمیں آنے والی ایک بنیادی اور انقلابی تبدیلی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف خاموشی سے ایک ایسا ڈیجیٹل ڈھانچہ تیار کر رہے ہیں جسکے ذریعے سماجی تحفظ شفاف انداز میں یقینی ہو اور نقد رقوم کے جھنجھٹ سے نجات ملے جسے کیش لیس سماجی تحفظ کا نظام کہا جاسکتا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پاس مستحقین کے مقصدقہ اعداد و شمار کی تفصیل (ڈیٹابیس) موجود ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) ہر مستحق فرد کے شناختی کارڈ کی تصدیق کرتی ہے، پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) مواصلاتی رابطے ( ٹیلی کام کنیکٹیویٹی) کو یقینی بناتی ہے، اسٹیٹ بینک مالیاتی ترسیل کی موثر نگرانی کرتا ہے، جاز کیش، ایزی پیسہ جیسے نجی شعبے میں کام کرنے والے ادارے، ان رقوم کو مستحقین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ ایک قومی ڈیجیٹل ڈھانچہ ہے جو کسی بھی بحران، موسم یا پروگرام میں سو فیصد کامیابی اور شفافیت سے، کسی تصویر، تکلیف یا توہین کے بغیر مستحقین تک اُن کا جائز حق پہنچاتا ہے۔

پاکستان میں لوگ فون کے استعمال، ڈیجیٹل نظام سے ادائیگیوں کے طریقوں سے پہلے ہی آگاہ ہیں۔ حکومت نے موبائل والٹ کے اسی نظام کو استعمال کیا جو شہری فون کریڈٹ یا بجلی کا بل ادا کرنےکیلئے استعمال کرنا جانتے ہیں۔ 62 لاکھ ’’روبو کالز‘‘ اور 61لاکھ ’’ایس ایم ایس‘‘ اور ڈیش بورڈ سے چوبیس گھنٹے نگرانی اداروں کی سطح پر سنجیدہ بنیادوں پر ہونے والے کام اور اس کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایسا نظام مسلسل محنت، قیادت کے دلیرانہ فیصلوں، اچھی ٹیم سے ہی بن سکتا ہے۔

تازہ ترین