• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر اس بستی کو ایک گھر خیال کریں تو ایک گوشے سے انقلابِ ایران کے رہبر کی شہادت پر کل رات سے ماتم کی صدا آ رہی اور ساتھ ہی ساتھ زنجیر زنی کرنے والوں کی طرف سے انتقام،انتقام کی صدا آ رہی ہے اور جن کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی ہے ان کا نمائندہ بڑھکیں مار رہا ہے کہ ہم نے ایرانی عوام کو رہائی دلائی ہے وہ چاہیں تو پہلوی خاندان کی کسی نشانی کو تاج نشیں کر لیں اور تو اور نیتن یاہو بھی کہہ رہا ہے کہ زبور مقدس میں ہم سے جو وعدے کئے گئے تھے وہ ایک ایک کرکے پورے ہو رہے ہیں،سننے میں یہی آتا ہے کہ عبرانی زبان سنسکرت سے بھی زیادہ مشکل ہے ۔میں نےنامور ناول نگاراور ماہرِ نفسیات جنابِ حسن منظر کو دیکھا ہے کہ وہ مقدس کتابوں کے بیچ رشتے کی تلاش میں عبرانی زبان پر بھی توجہ دے رہے تھے کہ ان کی دلچسپی اس بات میں ہے کہ ربِ کائنات کا کوئی وعدہ فلسطین کے مقتولین سے بھی ہے اور وہ کیا ہے؟ ہماری فہمیدہ ریاض بھی ’’ پتھر کی زبان‘‘ کے بعد اسی بھید بھری زبان کو جاننے کی کوشش کر رہی تھی ’خطِ مرموز‘ ان کا افسانوی مجموعہ ان کے اسی مشکل سفر کی گواہی ہے۔ پھرتین دن پہلے بھارت کے نریندر مودی جس طرح تل ابیب پہنچے بظاہر اسلحہ خریدنے کے معاہدے کئے ،ممکن ہے کہ انہوں نے بھی سنسکرت اور عبرانی کے مابین وہ کلید تلاش کر لی ہو جو مسلمانوں خاص طور پر بھارت کے مسلمانوں کی ایک ہزار برس کی یادداشت کو مٹانے کی کوشش کو کامیاب کرے۔ ادھر پاکستان کی قابل فخر بیٹی ملالہ یوسف زئی نے ایران میں بچیوں کے اسکول کو نشانہ بنانے اور ایک سو چالیس بچیوں کی شہادت کی مذمت کی ہے اور کہا ہے بچوں کا پیدائشی حق تعلیم اورصحت ہے اور جلاد انہیں مار رہے ہیں۔ادھر ملالہ کے ساتھ ہی استادِ محترم ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے حالی کا ایک شعر اپنی وال پر درج کیا ہے ۔درد اور درد کی ہے سب کی دوا ایک ہی شخص…یاں ہے جلاد و مسیحا بہ خدا ایک ہی شخص اب بھی ہمارے ہاں خوش فہموں کی کمی نہیں وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کے صدر ٹرمپ کے پاس ہی اس دنیا کو بگاڑنے اور اپنی دانست میں سنوارنے کا اختیار ہے انہیں اپنی پارلیمان سے پوچھنا تو کیا اس کے اراکین سے مشورہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی وہ تیل سے مالامال ملک کے صدر کو اغوا کر کے اپنے بندی خانے میں اسیر کر دیتے ہیں ۔ان کے سامنے بے وقعت ہوتی ہوئی عالمی رائے عامہ کا جائزہ لینا ہو تو آج کے نیو یارک ٹائمز کا اداریہ پڑھ لیں،اقوام متحدہ سےعنقریب ریٹائر ہونے والےاس ادارے کے سیکرٹری جنرل کا بیان پڑھ لیں۔ ایسے کسی سانحے پر باخبروں کا ایک ہجوم ہوتا ہے جو کہہ رہا ہوتا ہے دیکھا ہم نے کئی ہفتے پہلے ہی کہہ دیا تھا پر افسوس ماتم گساروں نے توجہ نہ دی ۔ پھر ہمارا اپنا وطن بھی افغانستان کے طالبان کی عنایت سے میدانِ جنگ بنا ہوا ہے اورتین چار دن سے عجیب عجیب باتیں سننے میں آ رہی ہیں کہ افغان ڈرون کے ساتھ بھاری گرینیڈ باندھ کے ہماری چوکیوں پر برسا رہے ہیں اورساتھ ہی ساتھ ہم سے صدیوں پرانا تاوان بھی مانگ رہے ہیں۔ بعض مہم جو ہمیں اُکسا رہے ہیں کہ روس اور چین کی سرحد سے جُڑی واخان کی پٹی پر قبضہ کر لیں،ہو سکے تو ڈیورنڈ لائن ہی بدل دیں وغیرہ، میں بے چارہ باخبر تو کیا بے خبر ذرائع میں سے بھی نہیں کہ مجھے پشتو تو کیا دری بھی نہیں آتی اور میری فارسی بھی کچھ کچھ گلابی سی ہے جسے حافظ،سعدی اور عمر خیام نے ارغوانی بنا دیا۔ اس کے باوجود مجھے یقین ہے کہ پاکستانی فوج اپنے دفاع کے لئے مستعد ہے ہمارے بیٹے اور بیٹیاں جان نچھاور کر رہے ہیں،ہمیں اس مغربی سرحد پر اور چوکس رہنا چاہئے ۔آپ اگر میری طرح روزہ بہلانے کیلئے نیٹ فلیکس سے بھارتی فلمیں دیکھتے ہیں تو آپ نے دُھریندر دیکھی ہو گی جس میں بھارتی را کے افسرصاف صاف کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو ہم صرف افغانستان کی مدد سے ہی سنبھال سکتے ہیں وگرنہ یہ ہمارے لئے خطرہ بنا رہے گا۔ حیرت ہوتی ہے جب وہ لیاری گینگ وار اور مہاجر پٹھان معرکوں میں ہماری پولیس کے بارے میں ایسی ایسی ہوش ربا معلومات پیش کرتے ہیں جن پر ہمیں تعجب ہوتا ہے ۔جب کبھی ہم اپنے کئی عشروں کے ساتھی اصغر ندیم سید سے کہتے ہیں کہ یار تم نے بھی ایم اے اردو کیا،انتظار حسین ،انور سجاد اور احسن فاروقی پر ایم اے کا مقالہ لکھا برس ہا برس اردو زبان و ادب کی تدریس کی ۔ پھر یہ کیا ہوا کہ اب تمہارا شمار اس مملکتِ خدا داد کے ناگزیر قسم کے باخبروں میں ہوتا ہے۔اصغر ندیم سید نے پہلے تو میری تصحیح کرائی کہ اب میں آرٹ اور فلم کا پارکھ ہوں وائس چانسلروں کو جامعات چلانے کا ہنر سکھاتا ہوں اور کب سے کہہ رہاہوں کہ اردو شعبوں میں بی ایس کی کلاسوں کو بچانا ہے تو انہیں ڈاکیومنٹریاں بنانا سکھائیں سنیماٹو گرافی ،اسکرین پلے اور ایڈیٹنگ کا فن سکھائیں پھرپاکستان کی بحریہ ،فضائیہ ہی نہیں حکمت ساز ادارے بھی آپ کو ساتھ بٹھائیں گے۔ تب آپ کے سامنے آ جائے گا کہ درونِ خانہ کیا ہو رہا ہے گویا راز کھلتے جائیں گے،پردے ہٹتے جائیں گے۔ تیرھویں صدی کے فخر الدین عراقی کا یہ شعر سیاسیات کے استاد فیاض احمد حسین مرحوم ہمیں بطرزِ قوالی سنایا کرتے تھے’بطوافِ کعبہ رفتم ،بہ حرم رہم ندادند …کہ تو دربروں چہ کردی کہ درونِ خانہ آئی‘

تازہ ترین