عمارت میں ہُو کا عالم تھا۔ میرا یہاں کئی برسوں کے بعد آنا ہوا تھا۔ آخری دفعہ جب میں یہاں آیا تھا تو میڈیکل کالج میں تیسرے سال میں زیرِ تعلیم تھا۔ اس زمانے میں اخبار تقریری مقابلے، مباحثے اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیاں بھی منعقد کروایا کرتا تھا۔ میں ایسے ہی ایک مقابلے میں اپنے کالج کی نمائندگی کر رہا تھا۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ کس طرح سارے دفتر میں چہل پہل تھی۔ ہر کمرے میں کسی نہ کسی نوعیت کی سرگرمی ہو رہی تھی۔ صحافت کی دنیا کے کچھ بڑے نام بھی وہاں دیکھنے میں آئے اور چند ایک سے تعارف بھی ہوا۔ اس خوشگوار تجربے کا سحر آنے والے کئی دنوں تک مجھ پر طاری رہا۔ہماری نسل کا بھی کیا کیجئے کہ ہم جیسے بہت سے تو باقاعدہ طور پر کتابوں، رسالوں، میگزینوں اور اخباروں کے عشق میں مبتلا تھے۔ عالم تو یہ تھا کہ جس اخبار میں روٹیاں لپٹی ہوئی ہوتی تھیں یا پکوڑے بِکتے تھے، موقع ملتے ہی اسے بھی پڑھ ڈالتے تھے۔ مطالعہ کا یہ سلسلہ تو اسی وقت سے شروع ہو چکا تھا جب سے حروف سے شناسائی ہوئی تھی لیکن اخبار کی باقاعدہ لت آٹھویں جماعت میں پڑی۔
اسکول سے واپس آ کر کھانا کھانے کے بعد پہلا کام اخبار پڑھنا ہی ہوتا تھا اور وہ بھی پڑوس میں اپنی خالہ کے گھر کہ جو روزانہ اخبار کو میرے لیے سنبھال کر رکھا کرتی تھیں۔ جس روز کسی چھٹی کے سبب اخبار شائع نہیں ہوتے تھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سارے دن میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ خبروں اور تحریروں کے ذریعے متعلقہ صحافیوں اور کالم نگاروں سے بھی پوری طرح متعارف تھے اور ہمارے لیے وہ مشاہیر کا درجہ رکھتے تھے۔ انہی سے تو سیکھ کر ہم نے اپنے قلم سیدھے کیے۔اب کم و بیش دو دہائیوں بعد ادارتی صفحے سے منسلک اپنے ایک کرم فرما سے ملاقات کیلئے اسی اخبار کے دفتر جانا ہوا۔
وہاں کی مگر دنیا ہی بدلی ہوئی تھی۔ مجھے مرکزی عمارت کی تیسری منزل پر جانا تھا۔ سب سے پہلے تو اس ہال کے قریب سے گزر ہوا جہاں کبھی مستقل بنیادوں پر ادبی و تعلیمی سرگرمیاں منعقد ہوا کرتی تھیں اور جہاں مجھے بھی تقریری مقابلے میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ اس کا بند دروازہ اس امر کی غمازی کر رہا تھا کہ اب وہاں ویرانی کا راج تھا۔ویسے بھی جس دفتر میں لوگوں کی چہل پہل ہونی چاہیے تھی وہاں تیسری منزل تک جاتے ہوئے میرا ٹاکرا کسی ایک شخص سے بھی نہ ہوا۔ میرے دوست بھی کمرے میں تنہا بیٹھے ہوئے تھے اور چائے منگوانے کیلئے بھی انہیں کسی ساتھی کو ڈھونڈنا پڑا۔ میں ساری صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ زیرِ لب مسکرائے اور کہنے لگے اگر آپ ایسا محسوس کر رہے ہیں تو سوچیے ہمارے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی کہ جو تین تین چار چار دہائیوں سے اس پیشے سے منسلک ہیں اور جنہوں نے اخبار کا عروج دیکھ رکھا ہے۔ انتہائی دکھ سے گویا ہوئے کہ موبائل اور انٹرنیٹ کے اس دور میں لوگوں نے اخبار بینی تقریباً ترک ہی کر دی ہے۔ نئی نسل تو خاص طور پر اخبار پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ اخبار گویا اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
بڑے اخبارات کی بنیاد رکھنے والے ماضی کے نامور صحافی بھی کب کے دنیا سے رخصت ہو چکے کہ جنہوں نے اخبارات کو ایک مشن کے طور پر شروع کیا تھا اور انہیں اپنا اوڑھنا بچھونا گردانتے تھے۔ اب ان کی تیسری نسل ان معاملات کو دیکھتی ہے۔ یہ بھی بتانے لگے کہ اس نئی صورتحال کے پیش نظر اخبار مجبور ہو چکے ہیں کہ اپنے ملازمین کی تعداد گھٹاتے چلے جائیں اور بہت سے مستقل سلسلے اور خاص ایڈیشن بند کر دیں۔ وہ دن بھی دور نہیں جب اخبارات مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائیں گے اور پھر شاید ان دفاتر کا بھی جواز نہ رہے۔ بتانے لگے کہ شام ڈھلے کچھ صحافی اور نامہ نگار اپنی خبریں فائل کرنے آتے ہیں تو کچھ رونق محسوس ہوتی ہے وگر نہ سارا دن یہاں الو بولتے ہیں۔ میں نے ان سے اس امر پر بھی تاسف کا اظہار کیا کہ کسی زمانے میں اخبارات اس قدر ضخیم ہوتے تھے کہ سنبھالے نہ سنبھلتے تھے۔
ان کی چھپائی اور صفحے بھی بڑے ہوتے تھے اور بزرگوں یا کمزور نظر والوں کو تگ ودو نہیں کرنا پڑتی تھی۔ اب اخبارات محض چند صفحوں پر شائع ہوتے ہیں، صفحات چھوٹے ہو گئے ہیں اور چھپائی ایسی کہ پڑھنے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔ میرے دوست کہنے لگے کہ اس معاملے میں زیادہ ذمہ داری متعلقہ حکومتی اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ جنہوں نے کاغذ کی برآمد اور پرنٹنگ وغیرہ پر اتنے ٹیکس لگا رکھے ہیں کہ لاگت آمدن سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں اخبارات کو مجبوراً صفحوں کی تعداد اور سائز کو کم رکھنا پڑتا ہے۔ اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کرنے لگے کہ اربابِ اختیار اخبارات میں اپنے بڑے بڑے اشتہارات شائع کروانے میں تو دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ان کے معاملات سے مکمل بے اعتنائی برتتے ہیں۔واپسی پر اس ہال کے سامنے سے دوبارہ گزر ہوا تو نہ جانے کیوں دل میں ایک خواہش سی اٹھی کہ تمام متعلقہ افراد اور ادارے بلا تاخیر وہاں کم از کم ایک روز سر جوڑ کر بیٹھیں اور حکمتِ عملی مرتب کریں کہ اخبارات کو اب بھی کیسے بچایا جا سکتا ہے۔ میں اس روز بوجھل دل سے لوٹا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کوئی میری عزیز تر شے آہستہ آہستہ مرتی چلی جا رہی ہو۔ عمارت سے نکل کر میں نے اس پر ایک الوداعی نگاہ ڈالی۔ کیا معلوم اب میرا دوبارہ یہاں آنا ہو تو اخبار کی عمارت کے بجائے ایک کمرشل پلازہ تنا کھڑا ہو!