• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ گاڑی میں بیٹھے ہوں، بازار میں خریداری کر رہے ہوں، چوراہے پر ٹریفک کی بتّی سبز ہونے کا انتظار کر رہےہوں، کہیں چہل قدمی کر رہے ہوں یا ویسے ہی کسی عوامی جگہ پر موجود ہوں، ایک لمحے میں کہیں سے کوئی بچہ، عورت، خواجہ سرا، بوڑھا یا معذور شخص آ جائے گا اور آپ سے پیسوں کی التجا کرے گا، دردناک لہجے میں بتائے گا کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں، راشن لے دیں، بچے بھوک سے بِلک رہے ہیں، انہوں نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا، جوان بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں، آج کام نہیں ملا۔ کچھ لوگ ترس کھا کر پیسے دے دیتے ہیں، کچھ معاف کرو کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ آپ شاپنگ مال سے باہر نکلیں یا اسپتال سے، ریستوران سے برآمد ہو رہے ہوں یا ویسے ہی کسی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر رہے ہوں، کوئی نہ کوئی شخص آپ کے آگے پیچھے پھرے گا یا گاڑی کے شیشے صاف کرنے لگے گا اور جواب میں پیسوں کا طلبگار ہوگا۔ اللہ کو جان دینی ہے، ملک میں غربت پہلے بھی تھی، مگر گزشتہ پانچ چھ برسوں میں جس طرح یہ غربت سڑکوں پر نظر آ رہی ہے اِس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں، جن کی عمریں لکھتے ہوئے ہاتھ کپکپا جاتے ہیں، سخت موسم میں سڑکوں پر بے یارومددگار پھرتے نظر آتے ہیں، کبھی کسی گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹاتے ہیں تو کبھی کسی کا دامن کھینچتے ہیں۔ یقیناً اِن بچوں سے پیشہ ور گداگروں کے گروہ ہی یہ کام کرواتے ہیں مگر اِس میں اِن بچوں کا کیا قصور ہے؟ انہیں دیکھ کر بندہ اپنے بچوں کے بارے میں سوچنے لگتا ہے کہ اُن کی عمریں بھی تو اِتنی ہی ہیں، بلکہ یہ تو شاید اُن سے بھی چھوٹے ہیں جو اپنی بدقسمتی کی وجہ سے سڑک پر بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، اب کوئی کیا کرے؟ اگر آپ نیک نیتی سے صرف اِن بچوں کو ہی پیسے دینا شروع کر دیں تو شام تک جیب خالی کرکے گھر پہنچیں گے اور مسئلہ جوں کا توں رہے گا، یہی بچے اگلے روز وہیں موجود ہوں گے اور یہ سلسلہ ایسےہی چلتا رہے گا۔

میں اکثر دانشمند لوگوں کی باتیں سنتا ہوں، اُن کی تحریریں پڑھتا ہوں اور ایسی تجاویز بھی نظر سے گزرتی ہیں جن میں ملک سے غربت اور گداگری کے خاتمے کامنصوبہ بتایا جاتا ہے مگر مجھے یوں لگتا ہے جیسے اِن منصوبوں سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ جتنی غربت اب نظر آتی ہے اسے ختم کرنے کیلئے شاید اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔ جو لوگ ایک مرتبہ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں وہ دس بارہ ہزار کی ماہانہ امداد سے غربت کے چُنگل سے نہیں نکل سکتے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اِن غریبوں کو کم از کم اتنی مالی امداد ضرور دی جانی چاہیے کہ یہ اپنا کوئی چھوٹا موٹا کام شروع کر سکیں، مگر یہ کہنا آسان اور کرنا مشکل ہے۔ اوّل تو اِس کام کیلئے جتنے روپے درکار ہیں وہ حکومت کے پاس نہیں، دوسرے، جس شخص کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوں وہ کاروبار کے بارے میں کیا خاک سوچے گا، جس طرح کی کساد بازاری ملک میں چل رہی تھی اُس نے تو اچھے خاصے کھاتے پیتے آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی، ایسے میں کسی غریب سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پچاس ہزار روپے سے کاروبار شروع کرکے اپنے خاندان کی کفالت کر سکے گا، دل کو تسلّی دینے والی بات ہے۔

کساد بازاری کے علاوہ اِس غربت کی تین مزید وجوہات بھی ہیں۔ ایک، شادیاں اور بچے پیدا کرنا اور دوسری، ہنرمندی کا فقدان اور تیسری ہمارے اللّے تللّے۔ ابھی رمضان میں شادیوں کو ذرا سا وقفہ آیا ہے، جونہی عید گزرے گی ایک مرتبہ پھر قوم اسی کام میں جُت جائے گی۔ کوئی اِس چکر میں پانچ پانچ بچے پیدا کرے گا کہ لڑکا نہیں ہو رہا اور کوئی غریب اِس امید پر بچہ پیدا کرے گا کہ شاید اِس کے نصیب سے اُنہیں رزق مِل جائے! یہ جو ہمیں مہنگے اور بیش قیمت ملبوسات کی دکانوں پر کام کرنے والی کمزور اور لاغر بچیاں نظر آتی ہیں، یہ بیچاریاں اسی طرح پیدا کی گئی تھیں۔ کسی ہنر کا نہ سیکھنا بھی غربت میں اضافے کا سبب ہے، کروڑوں لوگ اِس میں بیروزگار ہیں مگر ہُنرمند تلاش کرنے نکلیں تو نہ کوئی ڈھنگ کا پلمبر ملتا ہے اور نہ الیکٹریشن۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے ہنر سکھانے کے کئی منصوبے شروع کر رکھے ہیں، لوگ اِن سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں مگر تان پھر اسی بات پر ٹوٹتی ہے کہ آبادی اِس قدر زیادہ ہے کہ کسی بھی اقدام کا وہ نتیجہ برآمد ہوتا دکھائی نہیں دیتا کہ جس سے ہمیں سڑکوں پر نظر آنے والی غربت کم لگنے لگے۔ اور رہی بات اللّے تللّوں کی تو اِن کا کوئی جواز تراشنا ممکن نہیں، سو اچھے کام ایک طرف اور ایک ناقابل دفاع عیاشی دوسری طرف، سارے کیے کرائے پر پانی پھیرنےکیلئے کافی ہے۔حکومتی امداد کے چند ہزار روپے وقتی طور پر تو کسی کے گھر کا چولہا جلا سکتے ہیں لیکن کسی خاندان کو غربت کی لکیر سے اوپر نہیں لا سکتے۔ ریاست کو ہنگامی بنیادوں پر ایسے صنعتی، زرعی اور تکنیکی زونز بنانے کی ضرورت ہے جہاں اِن سڑکوں پر رُلنے والے بچوں اور نوجوانوں کو مفت ہنر سکھا کر سیدھا روزگار سے جوڑا جائے۔ یہ کروڑوں بچے جو ہم پیدا کرکے اِس دنیا میں لے آئے ہیں اگر انہیں کوئی ہنر سکھا دیا جائے تو نہ صرف اِن بچوں کی بلکہ ملک کی کایا کلپ بھی ہو سکتی ہے۔

خیر، یہ تو بڑے بڑے کام ہیں جو حکومتوں نے کرنے ہیں، اپنے حصے کی شمع جلانا ہمارا کام ہے، میرا اصول اِس ضمن میں یہ ہے کہ سب سے پہلے اُن غریبوں کی مدد کی جائے جنہیں آپ جانتے ہیں اور جو آپ کے لیے کام کرتے ہیں، بھکاریوں کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے البتہ کوئی راشن مانگے تو حتّی الامکان کوشش کی جائے کہ اسے خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے۔ باقی رہے نام اللہ کا، جس دن ملک میں ٹیکس دینے والے زکوٰۃ دینے والوں سے زیادہ ہو گئے اُس دن یہ مسئلہ از خود حل ہو جائے گا۔ منبر سے زکوٰۃ، صدقہ و خیرات کی اپیلیں تو ہم سنتے ہیں مگر کسی خطیب کے منہ سے یہ نہیں سنا کہ امیروں کو ٹیکس پورا دینا چاہیے ورنہ اُن کی قربانی، روزے اور نمازیں قبول نہیں ہوں گے، بس یہ ہے مسئلہ!

تازہ ترین