• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بین الاقوامی سیاست میں طاقت ہمیشہ قانون کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتی آئی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا جنگل کا قانون انسانی معاشروں میں نافذ کیا جا سکتاہے؟امریکہ کی مختلف ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور رجیم چینج کی پالیسی، اس بنیادی سوال کو بار بار دہراتی آ رہی ہے۔ کیا کسی سپر پاور کو کسی بھی جواز کے تحت یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے حکومتی،مذہبی، معاشی یا ثقافتی نظام کو اپنی خواہشات کے تابع کرسکے؟دوسری جنگِ عظیم کے بعد 1945 ءمیں قائم ہونیوالی اقوامِ متحدہ کا بنیادی مقصد ہی دنیا کو طاقت کی غلامی سے نکال کر قانون کی حکمرانی کے زیر اثر لانا تھا۔ اسی مقصد کے تحت تشکیل دیا گیا اقوامِ متحدہ کا چارٹر عالمی تعلقات کا بنیادی قانونی فریم ورک سمجھا جاتا ہے۔اس چارٹر کی شق 2کی ذیلی شق(1) واضح طور پر تمام ریاستوں کی خودمختاری اور مساوات کو تسلیم کرتی ہے، جبکہ شق 2کی ترمیمی شق(4) کسی بھی ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی کو اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے ممنوع قرار دیتی ہے۔ شق 2کی ہی ذیلی شق(7) اقوامِ متحدہ سمیت کسی بھی بیرونی قوت کو کسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے روکتی ہے، سوائے ان حالات کے جہاں عالمی امن کو واضح خطرہ لاحق ہو۔یہی وہ قانونی بنیاد ہے جس پر جدید عالمی نظام کم از کم بظاہر کھڑا نظر آتا ہے۔مگر عملی طور پر دنیا اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔سرد جنگ کے دوران امریکہ نے کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے نام پر کئی ممالک میں سیاسی تبدیلیوں کی کھل کر پشت پناہی کی۔ 1953 میں ایران اور 1954 میں گوئٹےمالا سے لے کر لاطینی امریکا اور مشرق وسطیٰ تک،سیاسی، جنگی اور اقتصادی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے منتخب حکومتیں ختم کی گئیں یابزور بازومن چاہے سیاسی نظام رائج کروائے گئے۔امریکہ اور اسکے حامی ماہرین ان اقدامات کو جواز فراہم کرنے کیلئے مختلف تاویلات کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی ملک میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی جا رہی ہوں،کسی مخصوص طبقے کی نسل کشی ہو رہی ہو یا حکومت اپنے شہریوں کے خلاف طاقت استعمال کر رہی ہو، تو عالمی برادری کوایسے ممالک کے معاملات میں بزور مداخلت کا اخلاقی حق حاصل ہے۔ اس تصور کوResponsibility to Protectیعنی شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری کا نام دے کر جائز قرار دلوانے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔لیکن دراصل اس اصول کی تشریح اکثر سیاسی مفادات کے مطابق کی جاتی رہی ہے۔ ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر انسانی حقوق کی بازیابی ہی معیار ہے تو پھر دنیا کے تمام بحرانوں میں یکساں مداخلت کیوں نہیں کی جاتی؟ کیوں کچھ ممالک عالمی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں جبکہ دوسرے یکسر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں؟عراق جنگ اس حوالے سے ایک اہم مثال ثابت ہوئی۔ طاقت کے بے جا اور بے دریغ استعمال کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے خطرے سے جوڑکراقوامِ عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی گئی، مگر بعد میں ایسے ہتھیاروں کی سِرے سے عدم موجودگی کے واضح شواہد ملنے پراتنے بڑے پیمانے پر کی جانے والی تباہی کے قانونی جواز پر شدید تحفظات اٹھے لیکن ان تحفظات کی جواب طلبی کی ہمت نہ کسی ملک کو ہوسکی نہ خود اقوامِ متحدہ جیسے ادارے کو۔ کئی بین الاقوامی قانونی ماہرین نے اسے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا۔لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔اخلاقی سطح پردیکھا جائے تویہ مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اگر ایک سپر پاور خود کو جمہوریت کا محافظ قرار دے مگر اس کی مداخلت کے نتیجے میں جمہوریت کا بنیادی وجود ہی معدوم ہوجائے، عدم استحکام، خانہ جنگی یا آمریت جنم لے، تو کیا مقصد اور نتیجہ کے درمیان تضاد پیدا نہیں ہوتا؟بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق عالمی نظام اس وقت دو نظریات کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔قانونی نظریہ: ریاستی خودمختاری ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔اخلاقی نظریہ: انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے مداخلت جائز ہو سکتی ہے۔مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب طاقتور ممالک اخلاقی جواز کو سیاسی مفادات کے تابع کردیتے ہیں۔آج دنیا تیزی سے کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ نئی عالمی طاقتیں بھی وہی سوال اٹھا رہی ہیں جو کبھی کمزور ممالک اٹھاتے تھے۔ اگر قوانین سب کے لیے برابر ہیں تو ان کا اطلاق برابر ی کی سطح پر کیوں نہیں ہوتا؟

حقیقت یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کا چارٹر ایک اصولی دنیا کا تصور ضرورپیش کرتا ہے، لیکن عملی دنیا طاقت کے توازن پر چلتی ہے۔ جب تک عالمی ادارے طاقتور ریاستوں کو مکمل طور پر جوابدہ بنانے کی صلاحیت حاصل نہیں کرلیتے، تب تک رجیم چینج اور مداخلت کی بحث ختم ہونا مشکل ہے۔ایران امریکہ اسرائیل تنازع جسے بظاہر ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کے جواز سے جوڑ کر معصوم جانوں کی بلاجواز ہلاکت پر منتج کیا جا رہا ہے یہ تنازع خاکم بدہن کسی نئی عالمی جنگ کاپیش خیمہ بن سکتا ہے۔غزہ اور فلسطین میں معصوم انسانی جانوں کے بہیمانہ ضیاع پر چپ کی چادر اوڑھے عالمی طاقتوں کو ایران کی جوہری قوت سے انسانیت کا وجود خطرے میں پڑتا نظر آ جاتا ہے لیکن غزہ کے مظلوم بے بس اور نہتے شہریوں کی ہونے والی ہلاکت نظر نہیں آتی تو جنگل کے قانون کی طرح طاقت کے قانون کی اخلاقی وقعت واضح ہو جاتی ہے۔ آخرکار سوال امریکہ یا کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی نظام کی ساخت کا ہے۔ کیا دنیا قانون کی بنیاد پر چلنے والی برادری بن سکتی ہے، یا طاقت ہمیشہ قانون کی تشریح کرتی رہے گی؟شاید آنے والی دہائیاں اس سوال کا جواب دیں مگر فی الحال تاریخ یہی بتاتی ہے کہ عالمی سیاست میں اخلاقیات، قانون اور طاقت کے درمیان کشمکش ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔

تازہ ترین