نئے ہزاریے کے آغاز سے ہی پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے منظر نامے میں ایک زبردست اور گہری تبدیلی رونما ہوئی ہے ۔ سال 2002ءایک اہم موڑ تھا جب سست روی کا شکار یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ختم کر کے ہائر ایجوکیشن کمیشن HEC کی بنیاد رکھی گئی ۔ گزشتہ 25برسوں کے دوران، یہ ادارہ تعلیمی اصلاحات، تحقیقی پیداوار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا بنیادی محرک رہا ہے ۔ تاہم، ایچ ای سی کی ترقی کا یہ سفر ہمیشہ سیدھا یا ہموار نہیں رہا ۔ ڈاکٹر عطا الرحمان کی سربراہی میں ایچ ای سی کے ابتدائی دور کو ایک تیز رفتار اور بے پناہ ترقی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ وہ اس سے قبل کسی سرکاری جامعہ کے سربراہ نہیں رہے تھے، لیکن وہ اس شعبے میں ایک سائنسدان جیسی عجلت اور لگن لے کر آئے ۔ ان کے دور میں اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں تقریباً 2400 فیصد کا بے مثال اضافہ دیکھا گیا ۔ اس کے نتائج فوری اور واضح تھے: بین الاقوامی تحقیقی مقالوں کی تعداد 2002ءمیں تقریباً 600 سالانہ سے بڑھ کر 2008 ءتک 4300 سے تجاوز کر گئی، اور ایک وسیع اسکالرشپ پروگرام کے تحت ہزاروں طلباء کو دنیا کی بہترین جامعات میں بھیجا گیا ۔ اس دور نے ثابت کیا کہ سیاسی عزم اور وافر فنڈنگ سے پاکستانی تعلیمی نظام کو اس کی خوابیدہ حالت سے جگایا جا سکتا ہے ۔ تاہم، اس وقت زیادہ تر توجہ اعداد و شمار اور مقداری ترقی پر مرکوز رہی، جسکی وجہ سے بعد میں اسے محض ڈگریاں بانٹنے والا کلچر متعارف کروانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔
اس بھرپور فنڈنگ والی دہائی کے بعد، ایچ ای سی کی کارکردگی میں تشویشناک زوال آنا شروع ہوا ۔ کمیشن کی افادیت کو بنیادی طور پر تین عوامل نے متاثر کیا: مالیاتی بحران، دائرہ اختیار کا ابہام، اور قیادت میں سرکاری جامعات کے زمینی حقائق کو سمجھنے کا فقدان ۔ اس ابتدائی دور کے بعد 2009میں ڈاکٹر جاوید لغاری نے باگ ڈور سنبھالی، جن کا نقطہ نظر ایک معروف نجی جامعہ کی سربراہی کے تجربے پر مبنی تھا ۔ اگرچہ ان کے دور میں 18ویں ترمیم کے ہنگامہ خیز دور میں ایچ ای سی کی خود مختاری کو بچانے اور معیار برقرار رکھنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن نجی شعبے کے انتظامی طرز اور سرکاری جامعات کے پیچیدہ اور سیاسی ماحول کے درمیان ایک واضح خلیج ابھر کر سامنے آئی ۔ انکے بعد آنے والے رہنماؤںکو بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ 18ویں ترمیم کے نتیجے میں صوبائی ایچ ای سی قائم ہوئے،جنہوں نے اس شعبے کے ریگولیٹری اختیارات پر ایک نئی رسہ کشی شروع کر دی ۔ابتدائی کامیابیوں کے باوجود، مالیاتی حقائق سامنے آنے پر ایچ ای سی کیلئے اپنی ترقی کا تسلسل برقرار رکھنا مشکل ہو گیا، اور جہاں پاکستان میں جامعات کی تعداد بڑھ کر 270 سے تجاوز کر گئی، وہیں وفاقی فنڈنگ اس رفتار کا ساتھ نہ دے سکی ۔ افراطِ زر اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث اعلیٰ تعلیم کا بجٹ حقیقت میں سکڑ گیا ہے ۔ جامعات کو چلانے والا مسلسل بجٹ کئی برسوں سے جمود کا شکار ہے، حالانکہ طلباء اور اساتذہ کی تعداد دوگنا ہو چکی ہے ۔ ایچ ای سی کی 25 سالہ تاریخ کا ایک اہم مشاہدہ یہ ہے کہ حال ہی تک اس کی قیادت شاذ و نادر ہی کسی ایسے فرد نے کی جو پاکستانی سرکاری جامعات کے نظام میں نچلی سطح سے ترقی کر کے اوپر آیا ہو ۔ ڈاکٹر عطا الرحمان ایک سائنسدان اور وفاقی وزیر تھے، ڈاکٹر جاوید لغاری نجی جامعہ کے پس منظر سے آئے اور ڈاکٹر طارق بنوری نے اپنا کیریئر زیادہ تر بین الاقوامی پالیسیوں میں گزارا ۔ اس ذاتی تجربے کی کمی کا مطلب یہ تھا کہ ایچ ای سی کی پالیسیاں اکثر زمینی حقائق سے کٹی ہوئی محسوس ہوتی تھیں ۔تاہم، فروری 2026 ءمیں ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی بطور چیئرمین ایچ ای سی تقرری ماضی کی اس روایت سے ایک نمایاں انحراف ہے ۔ اپنے پیشروؤں کے برعکس، ڈاکٹر نیاز احمد پبلک سیکٹر کی اعلیٰ ترین قیادت کی پیداوار ہیں ۔ جامعہ پنجاب، قائد اعظم یونیورسٹی، اور یو ای ٹی ٹیکسلا جیسی بڑی سرکاری جامعات کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد، وہ اس نظام کو اندر سے سمجھتے ہیں اور ایک آزمودہ کار تجربہ رکھتے ہیں ۔ ان کے آنے سے حقیقی معنوں میںایچ ای سی کی بحالی کے امکانات روشن ہوئے ہیں کیونکہ موجودہ قیادت پبلک سیکٹر کے ڈی این اے اور ضرورتوں کو بخوبی سمجھتی ہے ۔ پنشن کے بحران کا براہِ راست سامنا کرنے کے باعث، ڈاکٹر نیاز ایک ایسے فنڈنگ ماڈل کی وکالت کرنےکیلئےبہترین پوزیشن میں ہیں جو حقیقت پسندانہ اور پائیدار ہو ۔ مزید یہ کہ، ایک ایسا رہنما جو خود وائس چانسلر رہ چکا ہو، وہ جانتا ہے کہ ایچ ای سی کی بیوروکریٹک مداخلت کس طرح ایک جامعہ کی ترقی کو روک سکتی ہے، جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ ایچ ای سی اب محض ایک ریگولیٹر کے بجائے ایک سہولت کار کا کردار ادا کرےگا۔ ان کا تجربہ وفاقی تقاضوں اور صوبائی حقائق کے درمیان بہتر ثالثی کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے، جس سے 18ویں ترمیم کے باعث پیدا ہونے والی دہائیوں پرانی کشیدگی کے خاتمے کا امکان ہے ۔پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی صورتحال اس وقت ایک اہم دوراہے پر کھڑی ہے ۔ ایچ ای سی کے پہلے 10 برسوں نے پاکستان کو عالمی تعلیمی نقشے پر نمایاں کیا ۔ بعد کے 15 برسوںنے ایک ایسے نظام کی خامیوں کو بے نقاب کیا جو پائیدار فنڈنگ اور زمینی حقائق سے جڑی قیادت کے بغیر بہت تیزی سے پھیل گیا ۔ اگرآج ایچ ای سی ایک سخت گیر ریگولیٹر کے خول سے نکل کر سرکاری جامعات کیلئے ایک معاون ساتھی بننے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو اگلے 25 سال یقینی طور پر ماضی کی محض مقدار کو مستقبل کےمعیار میں بدل دیں گے ۔
(کالم نگار وائس چانسلر الکوثر یونیورسٹی ہیں)