دانشورانِ ملک و ملت اور واعظانِ قوم امریکی تہذیب و روایات مستعار لینے کی جگالی کرتے رہتے ہیں۔ گاہے بتایا جاتا ہے کہ امریکی کس قدر عظیم لوگ ہیں۔ دفعتاً خیال آیا کیوں نہ اس مغالطے اور واہمے کاپردہ چاک کیا جائے اور قارئین کو بتایا جائے کہ یہ کس قدر کم ظرف لوگوں کی سرزمین ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی کی وزیر Kristi Noemکو برطرف کردیا ہے اور انکی جگہ ریاست Oklahoma کے سینیٹر Markwayne Mullin کو ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی کا سیکرٹری تعینات کیا گیا ہے۔ جنوبیDakota کی سابق گورنر Kristi Noem کسی دور میں نائب صدر کی مضبوط اُمیدوار خیال کی جاتی تھیں مگر انہیں نہایت تضحیک آمیز انداز میں کابینہ سے نکال دیا گیا ہے۔ آپ اس خاتون وزیر پر لگے الزامات کی تفصیل پڑھیںگے تو حیران رہ جائینگے۔ اس نے اپنی کتاب میں لکھ دیا کہ کسی دور میں ایک کتا پالا جسے تربیت دینے کے بعد شکار کیلئے استعمال کرنے کا ارادہ تھا مگر یہ کتا بہت نکما ثابت ہوا، اس نے کچھ نہیں سیکھا تو انہوں نے اپنے پالتو کتے کو مار ڈالا۔ وہ امریکی جنہیں فلسطینی اور ایرانی بچوں کے ناحق قتل پر ضمیر ملامت نہیں کرتا، انہوں نے ایک کتے کی موت پر آسمان سر پہ اُٹھا لیا۔ کسی نے خاتون کو ظالم اور بے رحم قرار دیا تو کسی نے انکی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتراض اُٹھا دیا کہ جو اپنے کتے کی تربیت نہیں کرسکیں وہ وزارت کیا خاک چلائیں گی۔ غیرقانونی پناہ گزینوں کو گرفتار کرنے کی مہم چلی تو Kristi Noem ایک جیل کا دورہ کرنے پہنچ گئیں۔ شاید ازراہ تلطف انہوں نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند قیدیوں کے سامنے کھڑے ہو کر تصویر بنانے کا فیصلہ کیا تو اس پر بھی ہنگامہ ہوگیا۔ کسی ناہنجار صحافی نے قیدیوں کی حالت زار دیکھنے کے بجائے خاتون وزیر کی کلائی پر بندھی پانچ ہزار ڈالر کی رولیکس گولڈ گھڑی کو خبر بنادیا۔ کسی صحافی نے یہ خبر دیدی کہ جب Kristi Noem گورنر تھیں تو انہوںنے قومی خزانےسے گورنر مینشن کی تزئین وآرائش پر 68000ڈالر خرچ کر ڈالے۔ ہوم لینڈ سیکورٹی کی وزیر بننے کے بعد یہ اسکینڈل سامنے لایا گیا کہ انہوں نے کمانڈنٹ کوسٹ گارڈ کیلئےمختص رہائشگاہ میں کئی بار مفت قیام کیا۔ Kristi Noemنے امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو نکال باہر کرنے کیلئے 220ملین ڈالر کی ایک اشتہاری مہم چلائی ۔اس اشتہاری مہم کیلئے شوبز انڈسٹری کے کسی اسٹار کی خدمات حاصل کرنے کے بجائے ہوم لینڈ سیکورٹی کی وزیر نے اپنا جلوہ دکھایا اور ایک اشتہار میں Mount Rushmoreکے سامنے گھوڑے پر سوار دکھائی دیں۔ ناقدین کو انکی یہ ادابھی ناگوار گزری اور کہا گیا کہ سرکاری خرچ پر ذاتی تشہیر کا اہتمام کیا گیا ہے ۔حالانکہ وہ چاہتیں تو جابجا ہر منصوبے پر اپنی تصویر چپکا سکتی تھیں۔
ملک دشمن عناصر کی طرف سےیہ گرد اُڑائی جارہی تھی اورملکی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے کہ انکے بدخواہوں نے پیالی میں طوفان برپا کردیا۔کوسٹ گارڈ کی طرف سے درخواست آئی کہ سیکرٹری Kristi Noemکا ذاتی جہاز 20سال پرانا ہے ،50ملین ڈالرمیں نیا لانگ رینج گلف اسٹریم 5جیٹ خریدا جائے۔ وزیر صاحبہ نے 172ملین ڈالر کی لاگت سے دو پرانے G-700خریدنے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ انکا کیبن بہت شاندار اور کشادہ تھا۔ شاید کوئی ڈیل چل رہی ہوگی اسلئے ایک کے بجائے دو پرتعیش جہاز اکٹھے خرید لئے گئے۔ مگر احتساب کی آڑ میں بات کا بتنگڑ بنادیا گیا۔ یہ معاملہ کانگریس میں پہنچا تو کہا گیا کہ وزیرصاحبہ نے آپریشنل ضروریات کے بجائے ذاتی عیش و آرام کو فوقیت دی ۔ ابھی یہ بحث جاری تھی کہ ایک اور خبر کو سنسنی خیز انداز میں پیش کیا گیا۔ دراصل محکمے نے ایک آرام دہ طیارہ 70ملین ڈالر کی لیز پر حاصل کیا جسکی خریداری کا معاملہ بھی زیر غور تھا۔ بوئنگ 737میکس 8کو دنیا کے پرتعیش جہازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئین سائز کا بیڈ دستیاب ہے، شاور ہیں ، دیدہ زیب کچن ،چار بڑی فلیٹ ٹی وی اسکرینیں،بار اور نجانے کیاکیا کچھ، اسلئے اسے Big Beautiful Jet کہا جاتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی کی طرف سے بارہا وضاحت کی گئی کہ یہ جہاز امیگریشن اینڈکسٹمز انفورسمنٹ کی غرض سے خریدا گیا ہے۔اس سے غیر قانونی پناہ گزینوں کو گرفتاری کے بعد ڈی پورٹ کرنے کا کام لیا جائے گا۔ وہ لوگ جنہیں عظیم ملک امریکہ سے بیدخل کیا جارہا ہے ،ان کا اتنا حق تو بنتا ہے کہ آخری سفر شاندار ہو مگر خبطی امریکیوں نے یہ سب جواز مسترد کردیئے اور الزام لگایا کہ وزیر صاحبہ نے یہ پرتعیش جہاز اپنے لئے خریدا ہے۔ Kristi Noem نے بتایا کہ انہوں نے شاید ایک با ر اس جہاز پرسفر کیا ہے اور وہ بھی شاید اس نیت کے ساتھ کہ غیر قانونی پناہ گزینوں کیلئے یہ سواری کیسی رہے گی۔لیکن کسی نے انکی بات نہ سنی اور اب تو یہ بھی کہا جارہا ہے کہ Kristi Noemنے انشورنس پالیسی کے تحت یہ پرتعیش جہاز خاتون اول میلانیہ ٹرمپ کو اُدھار دے رکھا تھا تاکہ جب ہوم لینڈ سیکورٹی کی وزیر پر تنقید ہو تو وہ ان کا دفاع کرسکیں۔امریکی اخبارات کے مطابق میلانیہ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی سے نیویارک تک کئی بار اس لگژری جہاز پر سفر کیا ۔یہ ہے وہ چارج شیٹ جس کی بنیاد پر ڈونلڈ ٹرمپ نے Kristi Noemکو وزارت سے ہٹادیا ۔
اب آپ ہی بتائیے یہ امریکہ کیسا عظیم ملک ہے جہاں نہایت معمولی الزامات کے تحت ایک وزیر کو رسوا کردیا گیا۔کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟امریکیوں کے برعکس ہم پاکستانی کیسے اعلیٰ ظرف اور فراخ دل لوگ ہیں،ہم نے توباقاعدہ قانون سازی کی ہے کہ 500ملین روپے سے کم کی بدعنوانی پر قومی احتساب بیورویعنی نیب کوئی کارروائی نہیں کرئیگا اور اپنے لئے لگژری جہاز خریدنا تو کرپشن شمار ہی نہیں ہوتا۔گویایہ امریکی کیا بیچتے ہیں،اصل جمہوریت تو ہمارے پاس ہے ۔