• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

”رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، اللہ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لئے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔“ (الْبَقَرہ، 2 :185)۔

کچھ باتیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں، جیسے کہ رمضان کے احترام کے نام پر روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ ہم نے خود پر وہ پابندیاں کیوں لگا رکھی ہیں جو خدا اور اُس کے رسول اللہﷺ نے نہیں لگائیں۔ مثلاً مسافر، بیمار اور خاص طور پر ان خواتین کیلئےجو اپنے مخصوص ایام سے گزر رہی ہوں، روزہ نہ رکھنے کی باقاعدہ رخصت ہے لیکن مجال ہے جو ہمارا معاشرہ اللہ کی دی ہوئی اس چھوٹ کو ہضم کر لے۔ ہم تقویٰ کے زعم میں خدا کے احکامات سے بھی (معاذ اللہ) دو ہاتھ آگے جانا چاہتے ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے، ہم نے خواتین کا عالمی دن بڑے زور و شور سے منایا، اخبارات میں مضامین چھپے، دانشوروں نے بھاشن دیے اور مذہبی طبقے نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام نے عورت کو کتنا بلند مقام دیا ہے لیکن ہماری جامعات اور اُن میں خواتین کے ہاسٹلز کا یہ حال ہے کہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی اُن کی کینٹین، کیفے ٹیریا اور کچن پر غیرعلانیہ مارشل لا لگ جاتا ہے۔ نوٹس بورڈ پر وہی پرچی لٹکا دی جاتی ہے کہ ”بحکم انتظامیہ، کچن فقط سحری اور افطاری کے اوقات میں کھلے گا“۔ بندہ ان انتظامیہ والوں سے پوچھے کہ بھلے مانسو! اس ہاسٹل میں سینکڑوں بچیاں رہتی ہیں، جن بچیوں کو شرعی اور قدرتی طور پر روزے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے، کیا وہ سارا دن گھاس کھائیں گی؟ وہ دن کے وقت چائے کے ایک کپ، دوا کھانے، یا پانی کا ایک گھونٹ پینے کے لیے بھی ترس جاتی ہیں۔ اور بات صرف جامعات کے ہاسٹلز نہیں محدود، پورے ملک میں یہی حال ہے، کیا سرکاری مہمان خانے اور کیا کھانے پینے کے عوامی مقامات، ہر جگہ یہی پالیسی لاگو ہے جیسے اسلام کا یہ خود ساختہ ورژن اسی پالیسی کے زور پر نافذ ہوگا! جو مذہبی تنظیمیں عورت مارچ کے ردعمل میں حیا مارچ کا انعقاد کرتی ہیں وہ بھی عورتوں کے اِس حق کیلئے آواز نہیں اٹھاتیں کہ انہیں رمضان میں وہ رعایت دی جائے جس کا قرآن میں وعدہ کیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کبھی خواتین صحافیوں نے بھی اِس مسئلے کو اپنی تحریروں اور پروگرامز میں موضوع بحث نہیں بنایا۔

ہاسٹل تو پھر ہاسٹل ہے، ذرا اپنے گھروں کی حالت پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ ہمارے ہاں منافقت کا یہ عالم ہے کہ خواتین کی ماہواری کے جس قدرتی عمل کو قرآن نے ایک طبعی تکلیف قرار دیا ہے، اسے ہم نے ایک غلیظ راز اور ایسا ٹیبو بنا دیا ہے جسے ہر صورت چھپانا فرضِ عین سمجھ لیا گیا ہے۔ عورت بیچاری، جو پہلے ہی درد اور کمزوری سے نڈھال ہوتی ہے، صبح سحری کے وقت زبردستی اٹھتی ہے، نیند سے جاگ کر گھر بھر کے مردوں کیلئے پراٹھے بناتی ہے اور پھر دسترخوان پر اس طرح خاموشی سے بیٹھتی ہے جیسے اس کا بھی روزہ ہو۔ کیوں؟ فقط اس لیےکہ گھر کے مردوں کو یہ پتا نہ چل جائے کہ وہ روزے سے نہیں ہے۔ کیا یہ مرد آسمان سے اترے ہیں؟ کیا انہیں نہیں معلوم کہ عورت کی بائیولوجی کیا ہے؟ بالی وڈ کی فلم ’پیڈ مین‘ (Pad Man) میں بڑی خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے کہ کیسے ہمارے معاشروں میں عورت کے اس قدرتی نظام کو شرمندگی کا باعث سمجھ کر چھپایا جاتا ہے۔ ہندو معاشرے کے کچھ حصوں میں بھی حیض کے دوران عورت کو مندر جانے یا بعض مذہبی رسومات میں شرکت سے روکا جاتا ہے لیکن ہم تو مسلمان معاشرہ ہیں، ہم نے تو علیحدہ ملک ہی اِس لیے بنایا تھا تاکہ اسلامی روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں، اگر ہم نے بھی وہی کچھ کرنا ہے جو غیر مسلم معاشروں میں ہوتا ہے تو پھر یہ ’اسلامی لیبارٹری‘ بنانے کی کیا منطق تھی! ہمارے ہاں رمضان میں ہر گھر میں یہی فلم چل رہی ہوتی ہے، بس ہم نے اِس شرمندگی کو ’احترامِ رمضان‘ کا غلاف پہنا دیا ہے، عورت سارا دن مردوں کے رعب تلے بھوکی پیاسی رہنے کی اداکاری کر رہی ہوتی ہے۔ آخر کیوں؟ اور مردوں کا اپنا حال یہ ہے کہ رمضان میں اسپتالوں اور ریلوے اسٹیشن وغیرہ کی کینٹینیں کھچاکچھ ’مومنین‘ سے بھری ہوتی ہیں، محمود و ایاز ایک ہی میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، کیا داڑھی والے اور کیا کلین شیوڈ، اِس ’دربار‘ میں پہنچتے ہیں تو سبھی ایک ہو جاتے ہیں۔

دراصل ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ ہمیں دین اور اخلاقیات کی ظاہری شکل پر عمل کرنا آسان لگتا ہے مگر روح پر عمل کرنے سے جان جاتی ہے۔ ہم نے پگڑی داڑھی کو دین سمجھ لیا ہے اور باقی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ ہاسٹل کے وارڈن کیلئے نوٹس بورڈ پر پرچی چپکانا آسان ہے لیکن طالبات کیلئے باعزت طریقے سے کھانے پینے کا ایک کونہ مختص کرنا مشکل ہے۔ احترامِ رمضان آرڈیننس لاگو کرنا آسان مگر ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا مشکل کام ہے۔ اور یہ آرڈیننس بذات خود اسلامی احکامات کی خلاف ورزی ہے، قرآنِ پاک نے تو بیمار، مسافر اور معذورکیلئے روزے میں رخصت دی تھی مگر یہ قانون شہر کے تمام ہوٹلوں پر تالے ڈال کر اُس مسافر کو بھی بھوکا پیاسا مارنے پر تلا ہے۔ شریعت میں روزہ ایک خالص عبادت ہے جو بندے اور رب کے درمیان ہے، مگر ہم نے اسے تعزیری جرم بنا دیا ہے۔ پوری اسلامی تاریخ اور سنتِ نبوی ﷺ میں کہیں یہ مثال نہیں ملتی کہ روزہ نہ رکھنے والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر جیلوں میں ڈالا گیا ہو یا ان پر جرمانے کیے گئے ہوں۔ اور پھر غیر مسلم شہریوں کا کیا قصور ہے؟ اسلام تو غیر مسلموں کو ان کے عقائد کے مطابق جینے کی آزادی دیتا ہے مگر یہ آرڈیننس انہیں بھی زبردستی ہماری عبادت کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ چونکہ ہماری یادداشت خاصی کمزور ہے اِس لیے بتانا ضروری ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ تمام پابندیاں ضیاالحق کے دور میں نافذ ہوئیں، اُس سے پہلے نہ کسی پاکستانی مسلمان کا روزہ ’خراب‘ ہوتا تھا اور نہ رمضان کا تقدس مجروح نہیں ہوتا تھا۔ رمضان کا تقدّس ڈنڈے یا تین ماہ کی قید سے نہیں بلکہ دل کے تقویٰ سے آتا ہے، مگر ہم ذاتی عبادت کو بھی زبردستی نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ جو کام اسلام کی چودہ سو سال کی تاریخ میں نہیں ہوا وہ ہم کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ جانے ہم کیا چاہتے ہیں!

تازہ ترین