• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تہران پر امریکا و اسرائیل کی شدید بمباری، شہری خوف و ہراس میں مبتلا، انٹرنیٹ بندش سے حالات مزید سنگین

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جاری جنگ کے دوران گزشتہ روز شدید فضائی حملے کیے گئے جنہیں حالیہ دنوں کی سب سے بڑی بمباری قرار دیا جا رہا ہے۔

رات بھر جنگی طیاروں نے نچلی پرواز کرتے ہوئے مختلف علاقوں پر درجنوں بھاری بم گرائے جس سے شہر کے کئی حصے لرز اٹھے اور شہریوں میں شدید خوف پھیل گیا۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ تہران پر دھماکے اتنے طاقتور تھے کہ عمارتیں اور کھڑکیاں ہل گئیں جبکہ لوگ گھروں کے اندر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے، بعض علاقوں میں دھماکوں کی روشنی سے رات عارضی طور پر دن میں تبدیل ہوتی دکھائی دی۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ منگل کا دن ایران پر حملوں کے لحاظ سے ’سب سے شدید‘ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تہران کے علاوہ اصفہان اور کرج شہروں سے بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

بجلی اور مواصلاتی نظام متاثر

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ حملوں کے دوران بجلی کے نظام کو نقصان پہنچنے سے تہران کے کئی علاقوں میں بجلی بند ہو گئی، تاہم ایرانی حکام کے مطابق چند گھنٹوں میں بجلی بحال کر دی گئی تھی۔

شہریوں نے نیلے رنگ کی روشنی کے بڑے شعلے دیکھنے کی بھی اطلاع دی جو بجلی گھروں کو نقصان کے نتیجے میں دکھائی دی۔

ایرانی حکومت نے ملک بھر میں تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش برقرار رکھی ہوئی ہے جسے عالمی ادارہ نیٹ بلاکس نے دنیا کی شدید ترین سرکاری انٹرنیٹ پابندیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق تہران میں شہری معلومات کے فقدان کے باعث مسلسل فون کالز اور پیغامات کے ذریعے اپنے عزیزوں کی خیریت معلوم کرنے پر مجبور ہیں۔

سائبر حملوں کی اطلاعات

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے دوران بڑے سائبر حملوں کو ناکام بنایا گیا جبکہ سرکاری اور نجی بینکس کی سروسز میں آنے والی مختصر رکاوٹ کو جَلد بحال کر دیا گیا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران میں صورتِ حال مجموعی طور پر کشیدہ ہے اور تہران کے شہری مسلسل خوف، اطلاعاتی پابندیوں اور معاشی دباؤ کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید