سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی حملے سے متعلق تفصیلات سامنے آگئیں۔
ریاض میں امریکی سفارتخانے میں ظاہرکی گئی تباہی سے زیادہ نقصان ہوا، امریکی سفارتخانے میں لگی آگ آدھے دن تک بجھائی نہ جا سکی تھی۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق روبیو نے حملے سے نقصانات کے بارے میں جو بات کہی تھی وہ غلط تھی، ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے سے عمارت میں محفوظ ترین حصے بھی نشانہ بنے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سفارتخانے میں 3 فلورز کو شدید نقصان پہنچا، سی آئی اے اسٹیشن بھی نشانہ بنا۔
سابق اہلکار سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ایران کے حملے سے ظاہر ہوتا ہے وہ ریاض میں ہر ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے سے ایرانی فوج کا کوئی تعلق نہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ خطے میں اسرائیلی حکمت عملی کو دیکھتے ہوئے یہ یقینی طور پر صہیونیوں کی کارروائی تھی، مسلم ممالک کو صہیونی ریاست کی فتنہ انگیزی سے خبردار رہنا چاہیے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ضروری ہے کہ ہمسایہ ممالک امریکی صہیونی اتحاد کی سازشی کوششوں کے خلاف چوکس رہیں، امریکی صیہونی اتحاد خطے کو غیرمستحکم اور تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔