غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں جِلدی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ گرمی بڑھنے کے ساتھ صحت کا نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے فلسطینی پناہ گزین ادارے (انروا) کے مطابق غزہ میں حالیہ مہینوں میں جِلدی بیماریوں کے کیسز میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے، خارش، چیچک اور دیگر بیماریاں خاص طور پر بچوں میں تیزی سے پھیل رہی ہیں جس کی بڑی وجہ شدید بھیڑ، خراب صفائی اور گرم موسم ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں 2024ء کے دوران کم از کم 1 لاکھ 50 ہزار افراد جِلدی امراض کا شکار ہوئے، طبی سامان کی قلت اور اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث صورتِ حال مزید سنگین ہو رہی ہے۔
پناہ گزین فوزی النجار نے الجزیرہ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ لاکھوں لوگ انتہائی خراب حالات میں رہنے پر مجبور ہیں، کیمپوں میں کچرا، چوہے، کھٹمل، پسو اور آوارہ جانور بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے انکشاف کیا ہے کہ مارچ میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام کیمپوں میں جِلدی بیماریوں سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر تقریباً 10 ہزار ہو گئی جبکہ جنوری میں یہ تعداد 3 ہزار تھی۔
عرب میڈیا کے مطابق خان یونس میں طبی عملہ ہزاروں خیموں میں جراثیم کش اسپرے کر رہا ہے تاہم دواؤں اور اسپرے کی شدید کمی کے باعث تمام کیمپوں تک رسائی ممکن نہیں۔