جاپان کی معروف ٹیکنالوجی اور ای کامرس کمپنی ’راکوٹن‘ کے بانی ہیروشی میکیتانی نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس نے پورے جاپان میں شدید بحث چھیڑ دی۔
ہیروشی میکیتانی نے اپنی کمپنی کے 30 ہزار ملازمین کو حکم دیا ہے کہ 2 سال کے اندر اندر کمپنی کی مکمل زبان جاپانی سے انگریزی میں تبدیل کر دی جائے۔
کمپنی میں میٹنگز، ای میلز، دفتری دستاویزات اور روز مرہ رابطے سب کچھ صرف انگریزی میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جب کہ ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ مقررہ وقت تک انگریزی ٹیسٹ پاس نہ کر سکے تو انہیں تنزلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جاپان جیسے ملک میں جہاں قومی زبان کو ثقافتی شناخت کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، اس فیصلے پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔
ناقدین نے اس اقدام کو جاپانی زبان اور ثقافت کی توہین قرار دیا ہے جب کہ بعض حلقوں نے اسے ’جاپان مخالف‘ پالیسی تک کہا ہے، تاہم ہیروشی میکیتانی اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
انہوں نے ملازمین کو انگریزی سیکھنے کے لیے خصوصی وقت دیا، زبان سکھانے والے اداروں کے اخراجات برداشت کیے اور کئی ملازمین کو اضافی مہلت بھی دی۔
وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ تر ملازمین نے انگریزی ٹیسٹ پاس کر لیا اور آج راکوٹن دنیا بھر سے انجینئرز اور ماہرین کو ملازمت دے رہی ہے، جن میں سے بہت سے افراد جاپانی زبان تک نہیں جانتے۔
کاروباری ماہرین کے مطابق اس پالیسی نے ’راکوٹن‘ کو عالمی سطح پر وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ کئی جاپانی کمپنیاں اب بھی صرف مقامی مارکیٹ تک محدود ہیں، اس فیصلے پر آج بھی جاپان میں اختلافِ رائے موجود ہے۔
کچھ لوگ اسے انقلابی اقدام قرار دیتے ہیں، جب کہ دوسروں کا ماننا ہے کہ عالمی کاروبار کی دوڑ میں جاپان اپنی لسانی شناخت کا ایک حصہ کھو رہا ہے۔