• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کی آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے بحری جہاز پر حملے کی تردید

فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا
فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ایران نے آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے بحری جہاز پر حملے کی تردید کر دی۔

 جنوبی کوریا میں ایرانی سفارت خانے نے جاری بیان میں ایران کی مسلح افواج کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے تمام الزامات کو دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔

ایران کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران بارہا واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے دفاعی دائرہ کار کا اہم حصہ ہے اور اس راستے سے محفوظ گزر گاہ کے لیے متعلقہ قوانین کی مکمل پابندی ضروری ہے۔

ایرانی سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ قواعد اور زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا تو غیر ارادی واقعات پیش آ سکتے ہیں اور ایسی صورتِ حال کی ذمے داری ان فریقین پر عائد ہو گی جو احتیاطی تقاضوں کے بغیر اس علاقے میں سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پیر کو پاناما پرچم بردار کارگو جہاز میں دھماکا اور آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس پر 24 افراد سوار تھے۔

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے جہاز پر فائرنگ کی۔

انہوں نے جنوبی کوریا پر زور دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے امریکی آپریشنز میں شامل ہو۔

جس پر جنوبی کوریا نے کہا تھا کہ وہ امریکی بحری آپریشن میں شامل ہونے کے معاملے کا جائزہ لے گا۔

بعد میں جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر نے گزشتہ روز بیان میں کہا تھا کہ پروجیکٹ فریڈم کی معطلی کے بعد اس جائزے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید