ارشد میرا دوست تھا، پھر وہ میرا استاد بن گیا اور میں نے ایک ہونہار شاگرد کی طرح اس کی ہر بات کو اپنے لئے حکم جاننا شروع کر دیا۔ ارشد کے دوست سے استاد بننے کا مرحلہ چند منٹوں میں طے ہوا تھا۔ میں نے ایک دن اس سے کہا ’’میں معمولی وکیل ہوں، ترقی کرنا چاہتا ہوں، کیا کروں؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’ترقی کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ میری شاگردی اختیار کرو، دنوں میں ترقی کی منزلیں طے کر لو گے‘‘ چنانچہ میں اس کا شاگرد بن گیا۔ ایک دن میں نےگڑ گڑاتے ہوئے کہا ’’یا استاد! گھر میں افلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، کیا کروں؟‘‘ اس نے پوچھا کیا تمہارے پاس کوئی کلائنٹ نہیں ؟ ’’جواب دیا‘‘ ایک نہیں، کتنے ہی ہیں مگر میں انکا کیس نہیں لیتا۔ ’’اس نے حیرت سے پوچھا‘‘ وہ کیوں؟ ’’میں نے اسے بتایا‘‘ یہ سب بے ایمان لوگ ہیں، کسی نے کسی کے پلاٹ پر قبضہ کیا ہوا ہے، کوئی قاتل ہے، کوئی کسی کی بہن کو اغوا کر کے بردہ فروشوں کے ہاتھ بیچ چکا ہے اور کوئی جعلی ادویات تیار کرنے کے الزام میں اندر ہے۔ ’’ارشد نے کہا‘‘ تو پھر کیا ہوا ؟ تم نے قانون کی کتابوں میں ان کی رہائی کیلئےراستے نکالنے ہیں، یہ تمہارا پیشہ ہے اور تمھیں اپنے پیشے کے ساتھ آنیسٹ (HONEST) ہونا چاہئے۔ ’’میں نے عرض کیا‘‘ استاد محترم پیشے کے ساتھ دیانت دکھاتے دکھاتے میں خدا کی نظروں میں بددیانت ہوجاؤنگا۔‘‘ اس نے پوچھا ’’تم جو خدا کے حقوق ہیں ادا کرتے ہو؟ ’’ میں نے کہا‘‘ الحمد لله پانچ وقت نماز پڑھتا ہوں، روزے رکھتا ہوں، زکوٰۃ بھی ادا کرتا تھا مگر اب اب استطاعت نہیں، حج اور عمرہ بھی کیا ہوا ہے ۔‘‘ یہ سن کر ارشد بہت خوش ہوا اور بولا ’’تو پریشانی کس بات کی ہے؟دین اور دنیا کوئی الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ دین داری تم میں ہے۔ صرف دنیا داری کی کمی ہے۔ یہ کمی دور کرو ،سارے دکھ درد دور ہو جائیں گے ۔‘‘
ارشد کی یہ بات میرے دل کو لگی۔ میں نے سوچا وکالت میرا پیشہ اور نماز میرا فرض ہے۔ چنانچہ مجھے اپنی یہ دونوں ذمہ داریاں بیک وقت نبھانی چاہئیں، لہٰذا میں نے ڈاکوؤں، قاتلوں، لٹیروں، ذخیرہ اندوزوں، قبضہ مافیا اور دوسرے جرائم پیشہ لوگوں کے کیس لینا شروع کیے۔ اہلیت مجھے ورثے میں ملی تھی۔ میرے والد بھی ایک بلند پایہ وکیل تھے مگر وہ زندگی بھر وہ غلطی کرتے رہے جو میں ارشد کی شاگردی میں آنے سے پہلے کرتا تھا یعنی وہ کہتے تھے کہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں کمی بیشی تو اللّٰہ تعالی معاف کردئیگا مگر حقوق العباد میں ہیر پھیر وہ کبھی معاف نہیں کرئیگا۔ اس سوچ کی وجہ سے والد کے مالی حالات میری طرح ہمیشہ دگرگوں ہی رہے۔
بہر حال والد کے انجام سے عبرت پکڑتے ہوئے میں دین کی اس توجیہ سے باز آچکا تھا، چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے مجھ پر دَھن برسنا شروع ہو گیا اور اس کے ساتھ ساتھ میری پیشہ ورانہ مہارت کی بھی دھومیں مچ گئیں۔ ان دنوں میرا رابطہ کچھ ججوں سے ہو گیا تھا۔ وہ کیس کا فیصلہ میرے کلائنٹ کے حق میں کرتے اور میں ان کا حق خدمت ادا کرتا۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ میں جو کبھی چاق و چوبند ہوتا تھا اور میری صحت پر یار لوگ رشک کیا کرتے تھے، ہر وقت خود کو تھکا تھکا محسوس کرنے لگا۔ اس سے پہلے میں رات کو بستر پر لیٹتے ہی سو جاتا تھا، اب مجھے گھنٹوں نیند نہیں آتی اور میں کروٹیں بدلتا رہتا تھا میں نے اپنے استاد ارشد سے رابطہ کیا اور اسے یہ سب کچھ بتایا۔ استاد میرے والد کے کردار سے واقف تھا چنانچہ اس نے کہا ’’دراصل تمہاری تربیت غلط ہوئی ہے جسکی وجہ سے تمہارے ضمیر پر بوجھ ہے۔ تم میرے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہو، ان شاء اللّٰہ ایک دن تمہارا ضمیر بھی تمہاری نئی سوچ کا عادی ہو جائیگا اور پھر وہ تمہارے لیے مسئلہ نہیں بنے گا۔‘‘
استاد کی اس بات سے مجھے کافی حوصلہ ہوا۔ چنانچہ میں پوری دلجمعی کیساتھ دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹتا رہا۔اس دوران میری مہارت کی شہرت حکومتی حلقوں تک بھی جا پہنچی تھی ، چنانچہ وہ دن میری زندگی کا یادگار دن تھا جب مجھے اطلاع ملی کہ مجھے جج بنا دیا گیا ہے۔ اب دولت کیساتھ ججی کا اعزاز بھی میرے ساتھ تھا۔ میں نے اس اعزاز کو بھی استاد کے مشورے کے ساتھ اپنی مزید ترقی کیلئےاستعمال کرنا شروع کیا۔ استاد نے مجھے نصیحت کی ، اگر کسی کیس میں حکومت کا کوئی انٹرسٹ ہو تو اسکافیصلہ سنانے سے پہلے اٹارنی جنرل سے مشورہ ضرور کر لینا۔ چنانچہ میں نے اس مشورے کو بھی پلے باندھا اور اس پر عمل کرنے کے عوض کتنے ہی نئے پلاٹ اور کتنی ہی نئی جائیدادیں میری ملکیت بنتی چلی گئیں ۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ مشرف کے دور میں ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کیلئے کہا گیا۔ انکار کی صورت میں ججی ہاتھ سے جاتی تھی۔ میں نے عشا کی نماز ادا کرنے کے بعد استخارہ کیا تو خواب میں اشارہ ملا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے میں بہتری ہے۔ مجھے ہلکا سا شک ہے کہ خواب میں جو بزرگ مجھے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کا کہہ رہے تھے انکی شکل استاد ار شد سے ملتی تھی۔ بہر حال میں نے حلف اٹھا لیا جس پر میری وکیل برادری نے میرا ناطقہ بند کر دیا۔ خلق خدا مجھے ملامت کرنے لگی۔ محفلوں میں لوگ مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھتے تھے اور یوں میں نے محسوس کیا کہ شاید میں لوگوں کی نظروں سے گر گیا ہوں ۔ مگر بے شمار لوگ ایسے بھی تھے جو میرے فیصلے کے حق میں تھے۔ ترقی کی یہ منازل طے کرنے کے دوران میں بے خوابی کے علاوہ بلڈ پریشر، ہارٹ ٹربل اور شوگر کا مریض بھی بن چکا تھا۔ مجھے اپنا سارا دنیاوی جاہ و جلال بے معنی سا لگنے لگا تھا۔ اس ترقی سے پہلے میرے والد محترم مجھے تقریباً روزانہ خواب میں نظر آتے تھے۔ وہ بہت خوش و خرم دکھائی دیتے تھے مگر پھر وہ نظر آنا بند ہو گئے ۔ بہت عرصے بعد ایک مرتبہ دکھائی دیئے مگر ان کا چہرہ بے رونق تھا۔ پہلے وہ مجھے دیکھ کر اپنے گلے لگایا کرتے تھے مگر اُس روز وہ میرے قریب سےمیری طرف دیکھے بغیر گزر گئے ۔ میں اس روز سارا دن بے چین رہا۔ میں نے استاد ارشد سے رابطہ کیا اور اپنے احوال سے آگاہ کرنے کے بعد پوچھا کہ "مجھے کیا کرنا چاہئے؟ " میں نے محسوس کیا کہ اس بار استاد کا رویہ میرے ساتھ مشفقانہ نہیں ہے۔ اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا " میں نے تمھیں اپنی شاگردی میں لے کر غلطی کی جس شخص کی گھر یلو تر بیت ہی غلط ہوئی ہو، پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں رزق حلال کھانے والے نےاذان دی ہو اور دیانت اور امانت کی مثالیں اپنے عمل سے بھی دی گئی ہوں وہ اگر اپنے آبا و اجداد کے رستے سے ہٹ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار بھی کرے گا تو اسکے نتیجے میں حاصل ہونے والی ترقی اسے ہضم نہیں ہوگی ۔ دیانت اور بد دیانتی اکثر و بیشتر موروثی ہوتی ہیں۔ میں نے تمھیں اپنی شاگردی میںلے کر غلطی کی۔ تمہارا ضمیر ابھی تک تمہارا پیچھا کر رہا ہے۔ تم غربت کی طرف دھکیلنے والے ضمیر کو اپنا استاد بناؤ، میں تمھیں آج سے آزاد کرتا ہوں ! ’’افسوس مجھے ناکامیوں کی طرف لے جانے والی یہ کامیابیاں راس نہ آئیں ، اب میں کہیں کا نہیں رہا۔ نہ واپس جا سکتا ہوں اور نہ آگے جانے کے قابل ہوں۔ میں آخر میں صرف یہ کہوں گا کہ خداکیلئے اپنے بچوں کو نہ رزق حلال کھلاؤ اور نہ ان کے سامنے کبھی ضمیر کی بات کرواور موقع بے موقع اسے برا بھلا کہتے رہو، بلکہ کبھی کبھی سب بچوں کے سامنے اسکے کان پکڑوا دیا کرو اور کہا کرو کہ ضمیر اس قابل ہے!