23مارچ، پانچ سال قبل ماہ رمضان کے بائیسویں روزہ کو والد محترم ایم طفیل جنہیں سب پا جی کے نام سے پکارتے تھے چند روز کی علالت کے بعد اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے۔ والد محترم 1937ء میں امرتسر کے علاقہ سہانسپور میں پیدا ہوئے۔ وہ قیام پاکستان سے قبل ہی سیالکوٹ کے ایک مشہور گائوں چٹی شیخاں منتقل ہوگئے یہیں سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ زندگی کا سفر والد محترم نے انتہائی ایمانداری اور سادگی سے طے کیا۔ جہاں انہیں دنیاوی علوم پر دسترس حاصل رہی وہیں دینی علوم پر بھی انہیں کمال کا عبور تھا، ہمیشہ سنت رسول کے پابند رہے، محنت اور لگن ہی کو انہوں نے اولین ترجیح دی زمانہ طالبعلمی کا دور چٹی شیخاں کے پرائمری اسکول اور بعدازاں گود پور میں ہائی اسکول سے ہوتے ہوئے مرے کالج تک پہنچے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کیساتھ ساتھ انہیں پڑھانے کا بھی شوق تھا جو انہیں ضلع خوشاب میں واقع جوہر آباد لے گیا، مزید تعلیم حاصل کرنے کی جستجو انہیں لاہور لے آئی اور یہیں سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسوقت کے سب سے مشہور اخبار روزنامہ کوہستان سے اپنی عملی صحافت کا آغاز کیا بعدازاں جب روزنامہ جنگ لاہور کی باقاعدہ اشاعت کا آغاز ہوا تو انہیں روزنامہ جنگ کا پہلا اداریہ لکھنے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ انکے کیرئیر کا اختتام بھی اِسی ادارے سے ہوا۔ والد مرحوم روزانہ صبح سویرے تیار ہو کر دفتر جا تے، عمر کے آخری حصے میں بھی جب کہ ملک میں کوروناکی وبا شدید تھی وہ دفتر جانے کیلئے ہمیشہ بے تاب ہوتے۔ صبح نماز فجر سے پہلے قرآن مجید کی تلاوت انکی زندگی کا معمول تھا رات گئے جاگنے کی بجائے جلد سو جا تے اپنی ساری زندگی میں میں نے انہیں سنت رسول اور اللّٰہ کے احکام کی پاسداری کر تے ہوئے ہی دیکھا۔ انکا اللّٰہ پر توکل بہت زیا دہ تھا اپنی وفات سے قبل انہیں جب اچانک ہسپتال لیجانا پڑا تو وہ ایمر جنسی وارڈ میں بھی سارا د ن یہی کہتے رہے کہ یا اللّٰہ رحمت کا مہینہ ہے رحم کر تکلیف کے آثار ان کے چہرے پرعیاں نہ ہوئے، اسی طرح سارا دن ہسپتال میں رہنے کے بعد شام کو افطار کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور انتہائی دردمندانہ الفاظ میں کہا کہ میں نے گھر جانا ہے۔ انکے یہ الفاظ آج بھی میرے دل میں تیر کی طرح لگتے ہیں۔اپنی ساٹھ سالہ صحافتی زندگی میں دوستوں اور عام جا ننے والوں کیلئے ان کا کام کر وانے والے پاطفیل نے اپنے لئے کسی کو بھی فون کرنے کی زحمت نہ کی۔ روزنامہ کوہستان سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز اور اختتام روزنامہ جنگ کا ایک طویل سفر مگر ہمت اور عزم واستقلال سے انہوں نے یہ سفر بخوبی طے کیا کبھی تکبر یا غرور انکے پاس بھی نہ آیا ۔اداریہ نویسی میں کمال مہارت رکھنے کے باوجود وہ جب کبھی ارشاد احمد حقانی،منو بھائی ،عباس اطہر، عبدالقادر حسن، نذیر ناجی اور مجیب الرحمن شامی صاحب کے درمیان بیٹھتے تو ایک طالبعلم کی حیثیت سے سیکھنے کے انداز میں۔ اس فانی دنیا سے ہر ایک نے واپس توجانا ہے مگر جا نے والوں کا غم اور ان کی یادیں بھی ایک حقیقت ہیں۔ میں اپنے والد کو جب بھی انکی والدہ مرحومہ کی قبر پر لے جاتا تو وہ دعا مغفرت پڑھتے ہوئے شدت جذبات سے نہ صرف غمگین ہو جا تے بلکہ انکی آنکھوں سے آنسو بھی رواں ہو جاتے یہی کیفیت اب میری اور دیگر بہن بھائیوں کی ہے۔ میری تمام پڑھنے والوں سے التجا ہے کہ اگر میرے والد محترم سے کسی کو کوئی دکھ پہنچا ہو یا ان کی دل آزاری ہوئی ہو تو براہِ مہربانی انہیں معاف کر کے ان کی مغفرت کیلئے دعائے خیر ضرور کر دیں، اللّٰہ آپ کو اس کا یقینا ً بہترین اجر دے گا۔