انسان کی عجب فطرت ہے۔ ایک طرف وہ ایک انسانی جان کو بچانے کیلئے سالوں کی تحقیق اور تجربوں کے بعد نئی نئی دوائیں ایجاد کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ یہ اس کی انسان دوستی کا ہی مظہر ہے کہ اس نےطاعون، چیچک ،ہیضہ اور اس جیسی کئی خطرناک بیماریوں کا علاج دریافت کیا جو کسی وقت میں ناقابل علاج تھیں اور موت کا دوسرا نام کہلاتی تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جہاں محکمہ صحت کے تحت صرف انسانی جان کی حرمت اور تقدس کے لیے ہی قابل فخر کام نہیں ہو رہا بلکہ بے زبان جانوروں اور دیگر حیوانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے بھی کثیر سرمایہ اور محنت صرف ہو رہی ہے۔ اسی حکومت میں ایک اور محکمہ بھی پورے زور شور سے مصروفِ عمل ہوتا ہے جسے محکمہ دفاع یا جنگ بھی کہا جاتا ہے۔ جہاں محکمہ صحت کا کام انسانی جان کو بچانا ہے وہیں دفاع یا جنگ کے محکمے کاکام ایسے ایسے مہلک ہتھیار تیار کرنا ہے جو پل بھر میں ہزاروں انسانی جانوں کو فنا کر سکتے ہیں۔ یہ کیسا خوفناک تضاد ہے زندگی اور موت کے اس بہیمانہ کھیل میں انسانی وسائل، جذبات اور نسلیں بری طرح تباہ ہو رہی ہیں۔ کیا وہ اشرف المخلوقات انسان جسے اس کے برتر دماغ کی وجہ سے دوسری تمام مخلوقات پر فوقیت حاصل ہے کچھ مواقع پر انتہائی پاگل اور کمتر نہیں لگتا ؟ وہ صدیوں کی محنت مشقت اور وسائل کے استعمال سے جس دنیا کو بناتا اور سنوارتا ہے اسے پل بھر میں مٹی میں ملا دینے کے لیے بھی ساتھ ساتھ کوشاں رہتا ہے۔ حالانکہ جنگل میں رہنے والے کم عقل حیوان بھی اپنے ہم جنسوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں اور ان کی لڑائیاں عمومی طور پر دوسرے جانوروں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ یہ کیسی دو انتہائیں ہیں؟ اسی لیے یہ بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان جب انسانیت کی معراج پر ہوتا ہے تو وہ فرشتوں سے بہتر اور جب نیچے گرنے لگتا ہے تو جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا. ہے ہم نے حالیہ برسوں میں انسانوں کی سنگ دلی اور بے رحمی کے وہ مناظر دیکھے ہیں جنہیں دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ جس کے سینے میں دل ہے وہ ایسی بربریت کا مظاہرہ بھی کر سکتا ہے. اسرائیلی درندوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ میں 60 ہزار سے زائد نہتے اور معصوم فلسطینیوں کو جس بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ اس نے تو چنگیز خان اور ہلاکو خان کے مظالم کو بھی مات دے دی ہے حالانکہ یہودی وہ قوم ہے جس پر جنگ عظیم میں بے پناہ ظلم ہوئے اور جن مظالم کی وجہ سے مغرب میں ان کے لیے احساسِ ندامت کے تحت ہمدردی پیدا ہو گئی۔ ان سے تو بالکل یہ توقع نہ تھی کہ وہ لاکھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کریں گے جن میں امریکہ ان کا شریک جرم ہوگا۔ مغرب کی نئی نسل کو اب پوری طرح احساس ہو گیا ہے کہ جنگِ عظیم دوم میں یہودیوں پر جو مظالم ہوئے وہ ان کے اس نسل پرستانہ رویے کی وجہ سے ہوئے جو وہ خود کو سب سے برتر اور باقی سب کو کم تر سمجھتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ انتہائی غیر انسانی برتاؤ رکھتے ہیں ۔آج اسرائیل امریکہ سمیت ان تمام مغربی ممالک میں نفرت کا نشان بن چکا ہے جنہوں نے اسرائیل کے قیام کے گناہ میں حصہ لیا تھا۔ وہ دن دور نہیں جب یہودیوں کے سابق دشمن اور حالیہ دوست دوبارہ اس کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے اور اسرائیل ہمیشہ کی طرح پھر دنیا میں یک و تنہا رہ جائے گا۔ یاد رکھیئے کہ اسرائیل ایک خوف کی پیدا کردہ ریاست ہے ۔وہ خوف کے سائے میں ہی رہے گی اور یہی خوف اس کی موت کا سبب بنے گا۔ صدر ٹرمپ اپنے نام کے برعکس امریکہ کے لیے شکست اور ذلت کا نشان بن گیا ہے کیونکہ یہ دو بے اصول اور جھوٹے افراد کا اتحاد ہے جنہوں نے خود کو بچانے کیلئے پوری دنیا کے امن اور سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کو ایپسٹن فائلز کے اسکینڈل کا سامنا ہے جو مڈ ٹرم الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کی شکست اور صدر ٹرمپ کے مواخذے کا باعث بن سکتے ہیں۔ جبکہ نیتن یاہو بد عنوانی کے کئی مقدمات کا سامنا کر رہا ہے۔ امنِ عالم کے حوالے سے میری کتاب ’’میں باغی ہوں‘‘ سے ایک نظم بعنوان امن عالم ۔
امنِ عالم کے نام لیواؤ!
امنِ عالم تو کوئی بات نہیں
جن کے ہاتھوں میں سارا عالم ہے
بات تم ان کی مان جاؤ تو
امنِ عالم کی وہ ضمانت بھی
آج تم کو دے دیں گے
سارے عالم کے ناخدا جو ہیں
جو معیشت پہ آج چھائے ہیں
جن کے سیم و زر کے کھیتوں میں
مفلسی اور بھوک اگتی ہے
جن کے ابرو کی ایک جنبش سے
سارے عالم کی نبض رکتی ہے
جو سیاست کے دیوتا بھی ہیں
وہ فقط اتنا چاہتے ہیں اب
ظلم کرنے سے ان کو مت روکو
ان کی عظمت کے گیت سب گاؤ
جبر کو ان کی رحمتیں جانو
یعنی ان کو سبھی خدا مانو
پھر یہ خود ساختہ خداوندان
اس اطاعت کے بدلے میں آخر
امن کی بھیک تم کو دے دیں گے